جناب وی۔ ایم۔ خلیل الرحمٰن صاحب - ایک باذوق قلمکار


جناب وی۔ ایم۔ خلیل الرحمٰن صاحب - ایک باذوق قلمکار

احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

 

جناب وی۔ ایم۔ خلیل الرحمٰن صاحب کا تعلق آمبور (تمل ناڈو) سے ہے۔ آپ کاروبارِ چرم سے وابستہ تھے اور اسے بیرونِ ملک بھی ایکسپورٹ کیا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے آپ کو اخبارات، رسائل اور کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ جب بھی آپ انگریزی اخبارات یا رسائل میں کوئی اہم خبر پڑھتے، تو اپنے احساسات و خیالات کو خطوط کی شکل میں اخباروں کے مدیران کو ارسال کرتے، جو اکثر "Letters to the Editor" کے حصے میں شائع ہوتے۔ یہ سلسلہ ماشاء اللہ تقریباً پانچ دہائیوں سے جاری ہے۔

 

خطوط کے ساتھ ساتھ آپ نے اہم موضوعات پر مضامین بھی تحریر کیے۔ آمبور سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ نے وہاں کی اہم شخصیات اور واقعات کو بھی قلم بند کیا۔ جن شخصیات پر آپ نے لکھا، ان میں اے۔ اے۔ رؤف صاحب (آمبور)، زکریا حضرت (آمبور)، کاوش بدری (آمبور)، مولانا کاکا سعید احمد عمری (عمرآباد)، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، علامہ اقبال، ڈاکٹر اے۔ پی۔ جے۔ عبدالکلام جیسے معروف نام شامل ہیں۔

 

آپ کے خطوط اور مضامین درج ذیل اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں:


The Hindu, Indian Express, Deccan Chronicle, Financial Express, The Mail, Radiance Viewsweekly, Crescent, OMEIAT Journal, Islamic Voice, Illustrated Weekly, Nation and the World  etc., and Online Platforms such as Newageislam.com and twocircles.net etc.,

 

اس ماہ آپ نے اپنے چنندہ خطوط اور مضامین کو یکجا کرکے ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے جس کا نام "Writing to the Press" ہے۔ 173 صفحات پر مشتمل یہ ایک منفرد کتاب ہے، جس میں آپ کے 62 منتخب خطوط اور مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے پرانا خط 1969ء میں ریڈیئنس کو لکھا گیا تھا۔ اس کتاب کی انفرادیت اس کا معلوماتی اور بصیرت افروز مواد ہے، جو کئی برسوں پر محیط ادبی اور سماجی موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ آپ اپنے خطوط کے ذریعے وقت کے اہم مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کو اپنے گرد و پیش کے حالات سے گہری دلچسپی ہے۔ آپ کی تحریریں قوم کو درپیش چیلنجز اور کامیابیوں دونوں پر روشنی ڈالتی ہیں، اور ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی قوم کے مستقبل کی فکر ہے۔


کتاب میں گزشتہ پچاس برسوں کے کئی اہم واقعات جیسے شاہ بانو مقدمہ، بابری مسجد کا انہدام اور یکساں سول کوڈ پر مباحث کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لیے ان واقعات کو جاننا اور ان سے سبق حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ کتاب ان باتوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

 

آج بھی خلیل الرحمٰن صاحب یوٹیوب پر اپنے چینل "V.M. Khaleelur Rahman Channel" کے ذریعے سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنے بلاگ پر بھی مستقل لکھتے رہتے ہیں، جو واقعی قابلِ تحسین ہے۔ آپ کا جذبہ اور محنت ہم سب کے لیے قابلِ تقلید ہے۔


اس کتاب کی اشاعت کے ذریعے آپ نے نہ صرف اپنے خیالات و تجربات ہمارے ساتھ بانٹے ہیں بلکہ نوجوانوں کو پڑھنے، لکھنے اور باخبر رہنے کی ترغیب بھی دی ہے۔ میں آپ کی اس قابلِ قدر کوشش کی دل سے تعریف کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچے گی۔

 

اللہ تعالیٰ جناب وی۔ ایم۔ خلیل الرحمٰن صاحب کی ان خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم و قلم میں مزید برکت عطا فرمائے، اور انہیں صحت و عافیت کے ساتھ اپنی قوم و ملت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

---***---***---***---


The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. ماشاءاللہ اللہ سلامت رکھں۔

    ReplyDelete
  2. Very nice personality... This book should become public. May be useful for journalists too

    ReplyDelete

Post a Comment