ہمارا شہر "وانمباڑی" – ایک صدی پرانی تحریر کی زبانی

ہمارا شہر "وانمباڑی" – ایک صدی پرانی تحریر کی زبانی

احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)


جلال الدین گھائل صاحب کی ادارت میں "پروانہ" نامی ایک رسالہ جنوری 1919ء میں شائع ہونا شروع ہوا۔ جناب اکبر زاہد صاحب نے اپنی کتاب "نقوشِ اسلاف" میں "پروانہ" کے پہلے شمارے کا ایک مضمون ہُو بہُو نقل کیا ہے، جس میں وانمباڑی کی اُس دور کی انجمنوں کی تفصیلات درج ہیں۔

 

اس رسالے کا دوسرا شمارہ، جو میری نظر سے گزرا، 40 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں وانمباڑی کے اہلِ قلم کے تحریر کردہ مضامین، کہانیاں اور نظمیں شامل ہیں۔ ان میں سب سے دلچسپ تحریر "ہمارا شہر" کے عنوان سے ایک مضمون ہے، جسے او۔ ایف۔ حسین صاحب نے تحریر کیا ہے اور جس میں وانمباڑی کی مختصر مگر معلوماتی تاریخ پیش کی گئی ہے۔

 

اس مضمون سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وانمباڑی میں کس قدر باوقار شخصیات تشریف لائیں۔ اس کے علاوہ ہمارے تاجروں کی کامیابیاں، میدانِ تعلیم میں ہماری پیش رفت، تعلیمِ نسوان کی اہمیت، اور اس مقصد کے لیے کی گئی کاوشوں کا بھی ذکر موجود ہے۔ یہ مضمون ہمارے تابناک ماضی کی جھلک پیش کرتا ہے۔


اُس مضمون کو یہاں ہُو بہُو پیش کیا جارہا ہے ملاحظہ فرمائیں:

 

ہے جلوہ فزا فضائے وانمباڑی

جاں بخش ہے کیا ہو اے وانمباڑی

کرتی ہے دل مردہ کو ہر دم زندہ

اعجاز نما ادائے وانمباڑی

 

یوں تو ہر جگہ آبادی ہے مگر میرے پیارے شہر کی آبادی میں ایک خصوصیت ہے وہ یہ کہ میرے محترم احباب یہاں کے مسلم و غیر مسلم دونوں اتفاق کے فوائد کو پڑھ کر اس پر دل سے عمل کرتے ہیں اور شیر و شکر کے مانند ہر کام ایک ہو کر کیا کرتے ہیں اور سو سال پیشتر بھی وانمباڑی تاریکی میں نہیں تھا۔ مگر تہذیب کی روشنی میں خوشحال تھا اور یہاں کی آبادی تقریباً 23 ہزار ہے اس میں 13 ہزار سے بڑھ کر توحید کی تسبیح پڑھنے والے اور باقی رام و لچھمن کے جاں نثار ہیں۔

 

میری پیاری ماں! تو صدیوں آگے شیرِِ دل ٹیپو سلطان اور جلیل القدر حیدر علی کو اپنی آنکھوں سے دیکھی اور قوم کے مشہور بے نفس کام کرنے والوں میں سے جسٹس مولوی عبدالرحیم صاحب، مسٹر شوکت علی، جناب مولوی عزیز مرزا صاحب مرحوم، جناب حمزہ حسین صاحب، فخرِ قوم جناب نذر اکبر حیدری صاحب، سرتاج جناب سید راس مسعود صاحب، مسٹر کینین ریورنڈ گولڈ اسمتھ، جناب مولوی غلام محمد صاحب شملوی اور سر سبرمنی ایر اور بہت سے معزز و محترم لوگ ہمارے شہر میں آئے اور یہاں کی ہر حالت کو دیکھے اور باغ باغ ہوئے اور مسٹر حیدری یہاں کے کانفرنس میں اپنے دورانِ تقریر میں فرمائے کہ "وانمباڑی قریب زمانے میں جنوبی ہند کا علی گڑھ ہونے والا ہے" اور بھی آگے چل کر یوں گہر ریز ہوئے کہ "مجھے کامل امید ہے کہ جب وانمباڑی ترقی پاکر جنوبی ہند کا علی گڑھ بن جائے گا تو ہماری تعلیمی پسماندگی کی صورت بدل جائےگی اور جس طرح علی گڑھ کالج کے قیام سے صوبہ جات متحدہ میں مسلمانوں کی تعلیم کا رنگ بدل گیا اُسی طرح ایک روز وانمباڑی کی بدولت اس حصۂ ملک میں مسلمانوں کی تعلیم یونیورسٹی میں نمایاں اضافہ ہوجائےگا اور تمام ہندوستان میں وانمباڑی کا نام عزت و فخر کے ساتھ لیا جائیگا 

اے قاضی الحاجات! اِن بے نفس اور بے لوث دلوں سے نکلی ہوئی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمارے شہر وانمباڑی کو ہمیشہ سرسبز رکھ۔

 

اور تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گیارہ سو سال آگے سر سبز اور خوبصورت پالار ندی کے پرے وجندر نامی ایک حصہ میں پلّوا (Pallavas)   لوگ بادشاہت کرتے تھے اور ان کے بہت سی نشانیاں اب تک موجود ہیں۔

 

ایک مشہور جغرافیہ داں وانمباڑی کے متعلق یوں تعریف کرتا ہے کہ جنوبی ہند کے ضلع شمالی آرکاٹ میں تاریخی پالار ندی کے ساحل پر ایک چھوٹی سی ولایت مسلمانوں کی ہے یعنی وانمباڑی! وہاں عموماً مسلمان آباد ہیں اور وہ ہر جا پھیل کر بیوپاری دنیا میں بہت مشہور اور دلبر ہوگئے ہیں۔ زمانۂ دراز سے تیرے عالی دماغ خوشحال بچے بیوپار کو بچوں کا کھیل سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ گویا تیرا سچا اثر اپنے وفادار اولاد پر ہوگیا ہے۔ تیرے فرزند ارجمند دنیا کے ہر کونے میں بے خون خطر بیوپار کرتے ہوئے خوش و خرم نظر آتے ہیں۔ مشرق سے مغرب تک فکر معاش میں سیر کناں ہیں۔ جب میں پارسال مسرزیم عبدالعزیز صاحب کے شیخ حیدر صاحب کمپنی بڑی میٹ کے ذریعہ خریدئے چرم کے لئے کانپور گیا ہوا تھا راہ میں کلکتہ اور لکھنؤ میں بھی قیام ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہی شہر کے بچے دھرمۃ اللہ کی چوک اور زکریا مسجد کے کوچہ میں اور لکھنؤ کے امین آباد اور قیصر باغ میں سرگرمِ بیوپار ہیں۔ یہ دیکھ کر جس حد کی فرحت و مسرت دل کو حاصل ہوئی وہ حیطۂ تحریر سے باہر ہے اور کانپور میں سیزن کے وقت انہیں لوگوں سے کوچۂ فراش خانہ بھرپور تھا۔

 

پروفیسر رام مورتی بہادر جو دنیا کے سیاح ہیں اپنے دورے میں جب یہاں آئے اور اپنے تقریر میں نہایت خوشی سے یہ چند جملے کہے کہ "اہلِ وانمباڑی کُل دنیا میں موجود ہیں اور ساری دنیا وانمباڑی میں سماگئی ہے"۔ درحقیقت ہمارے سانڈو نے خوب اور سچ کہا بیوپار میں جب زیادہ ترقی ہوتی ہے تو دنیا بھی اسی کے ساتھ چلنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ وانمباڑی نے اسی ترقی کی بدولت اعلیٰ زینہ پر قدم رکھ دیا ہے۔ ہماری چھوٹی ولایت کے تجار کو نظر کرتے ہوئے کپڑے اور چمڑے کی تجارت میں واقعی اور شہروں سے آگے ہے۔ یہ گویا مادری پیشہ ہے۔ مدراس میں کپڑوں کے لئے گڈنگ گلی اور چمڑے کے لئے بڑی میٹ زیادہ انہی لوگوں سے معمور ہے۔ اے مادرِ محبت! یہ تیری ہی دوہائی ہے کہ تیرے اولاد آج ہر ملک و قوم میں پیارے نظر آتے ہیں۔ امانت و اعتبار بیوپار کے لئے ایمان ہے اور مایۂ ناز اسے عزیز از جان سمجھتے ہیں۔ اس لئے وانمباڑی والوں کے سر پر بیوپاری تاج، غیبی ہاتھ سے رکھا گیا ہے۔ ہند کے چاروں طرف سے سوکھا اور نمکین اور گیلا چرم منگا کر اپنے ٹینریوں میں کام کرکے مدراس روانہ کرتے ہیں جہاں اور مشہور شہروں کے دریس چمڑوں سے اچھی قیمت کو بکتی ہے۔

 

اب میں میرے مکرم ناظرین کو یہاں کے تعلیمی حالات دکھلاتا ہوں گو کہ زمانے سے وانمباڑی ترقی پر ہے مگر 1901ء سے ہی اس کی اصلی ترقی ہے۔ انہیں دنوں سے تعلیم کو زیادہ محسوس کرنا شروع کردئے ہیں۔ اب ہر گلی کوچہ میں علم کی بوباس دماغ کو معطر کردیتی ہے۔ بہت سے مدارس، مکتب خانے اور مساجد ہیں جس کو ناظرینِ پروانہ گزشتہ اشاعت کی پہلی آرٹیکل میں ملاحظہ فرماچکے ہیں ہر ایک مدرسہ میں تعلیمِ دینیات جبریہ دی جاتی ہے۔ ان تمام مدرسوں کے علاوہ قابلِ دید اور یہاں کے مسلمانوں کا زندہ نمونہ مدرسۂ اسلامیہ اور اُس کا ہاسٹل ہے۔ انہیں لوگوں کی جان توڑ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مدرسہ و ہاسٹل کے لئے پانچ لاکھ کے اوپر خرچ کرچکے ہیں اور 2 لاکھ کے قریب ابھی خرچ ہونے کو ہے۔ گورنمنٹ کی گرانٹ کے تھوڑے روپیہ کے سوا باقی روپیہ اہلِ وانمباڑی کے جیبِ خاص سے خرچ ہوا ہے۔ اس تعلیم کا دوسرا رخ جو ضروریات سے ہے اس کو تو میں پروگرام سے بھول ہی گیا تھا۔ چلو، صاحبو! اب تعلیمِ نسوان کو سب سے بڑھ کر سمجھیں۔ وہ قوم سب سے بڑھ کر سمجھی جاتی ہے جو فرقۂ اُناث و ذُکور میں تعلیم کی روشنی پھیلاتی جاتی ہے اور اپنے بعد آنے والے نسلوں کو بھی خود نمونہ ہو کر سکھاتے ہیں۔ اے مادرِ مہربان، اے وانمباڑی! کیا تو سچ مچ اطراف کے اور شہروں سے تعلیمِ نسوان میں افضل ہے گو کہ تو چھوٹا سا شہر ہے مگر تیری آرزوئیں اور مرادیں مجھے معلوم ہے وہ یہ کہ اپنے بہنوں کو زیادہ سے زیادہ حصولِ دین میں خوش و خرم دیکھیں۔ ہاں! اگر یہ آرزو ہے تو خدائے تعالیٰ تیرے مبارک خیال کو کامیابی بخشے اور مردوں کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ نازک مزاج قوم یعنی عورتوں کو علم کی روشنی سے روکیں۔ علم تو مسلمانوں کا ایک گم شدہ گوہر ہے۔ جہاں پایا حاصل کیا اگر چھوڑ دیا جائے وہ ہمارا ہی تجاہل ہے۔ اس پر روئیں پیٹیں نادانی اور سراسر احمقی ہے۔

 

اے اہلِ وانمباڑی! آج اگر تمہاری آبرو و عزت ہے تو انہیں اور اسی گروہ اناث سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ان کو بھی بنی نوعِ انسان کا ایک رکن خیال کریں جو دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی حقوق رکھتی ہیں اور ان کو حصولِ تعلیم سے بے بہرہ رکھنے کا فرض سالہائے دراز سے ہمارے سروں پر مانند ایک بوجھ کے ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس کو فرضِ عین تصور کرکے اس سے سبکدوشی حاصل کریں۔ پس اے بہنو! جہالت کی گہری تاریکی سے نکل کر علم کے چشمۂ نورانی کی طرف بڑھو اور خدا کے لئے لغو، فضول اور بے ہودی بکواس کو دل سے فراموش کرو۔ اے پاک دامن بہنو! جہاں تک ہوسکے اپنے آپ کو روشن دل، روشن ضمیر اور روشن خیال بنواؤ۔ مطالعہ کا شوق رکھو اور ساتھ ہی امورِ خانہ داری سے واقف ہوجاؤ۔ مذہب، ملک و قوم کے اہم مسئلہ سے واقف ہوجاؤ اور تمہارے لئے سب سے مقدم یہ بات ہے کہ آئندہ نسلوں کی حقیقی مائیں بنو۔ جیسا تمہارے شہر کے چھوٹے مدارس کا باپ مدرسۂ اسلامیہ اور ماں مدرسۂ نسوان انجمنِ خیر خواہِ عام ہے۔ 

جس خاک سے بنے ہیں اُسی خاک میں ملیں

گل ہوں تو اپنے باغ کی خاشاک میں ملیں

بوئے وفا نہ خوے صفا کا ہو جس میں رنگ

جلد اب خدا وہ پھول کہیں خاک میں ملیں

دل کو خبر ہو دل کی تو ہو دل سے دل کو راہ

خط سب کو حُبِِّ قوم کے اس ڈاک میں ملیں

آنکھوں سے چن کے دل میں رکھوں پھول کی طرح

کانٹے وطن کے جو خس و خاشاک میں ملیں

خاکِ وطن ہی لیگی فلک گود میں ہمیں

کچھ غم نہیں جو پیک اجل تاک میں ملیں 

---٭---٭---٭---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. Masha Allah bahut qoob nayab post Faseeh Akram

    ReplyDelete
  2. Masha Allah bahut hi behttar andaz may gowher ki ladi purvaiyee hai... Mazeed thaareef k liye merey pas Alfaaz nahi.

    ReplyDelete

Post a Comment