وانمباڑی کے یادگار نعتیہ مشاعرے – 9188ء کی ادبی محفلوں کے احوال
احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)
ادب شناس شہر وانمباڑی اردو زبان سے محبت اور اس کی پذیرائی کے لیے دنیا بھر میں
مشہور ہے۔ تقریباً سوا سو سال سے یہاں مشاعرے منعقد ہوتے آرہے ہیں۔ ڈاکٹر سید جلال
عرفان صاحب نے اپنی کتاب "وانمباڑی میں اردو ادب کی ایک صدی" میں وانمباڑی
کے پہلے مشاعرے کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مشاعرہ 1304ھ (مطابق7188ء) میں حکیم
سید عقیل علی صاحب نے منعقد کیا جن کا اصل تعلق آرکاٹ سے تھا اور جو اُس وقت
وانمباڑی میں مقیم تھے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ حکیم عقیل علی صاحب کی کوششوں سے
کُل چھ مشاعرے منعقد ہوئے جن میں سات شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا۔
اسی طرح 1306ھ (مطابق 1889ء) میں وانمباڑی میں منعقد
ہونے والے چھ نعتیہ مشاعرے اُس دور کے ادبی ذوق اور مذہبی وابستگی کی ایک دلنشین
جھلک پیش کرتے ہیں۔ حال ہی میں میری نظر سے گزرنے والی ایک نایاب کتاب "مدحِ
پیغمبر" نے اُن تاریخی محفلوں کی جھلک کو بے نقاب کر دیا
ہے۔ جس میں شرکت کرنے والے شعراء کے اسمائے گرامی، پیش کردہ کلام اور اُس وقت کے
ادبی ذوق کی عکاسی ملتی ہے۔ یہ مشاعرے نہ صرف نعتیہ شاعری کا ایک نادر نمونہ ہیں
بلکہ اردو زبان و ادب کے ارتقائی سفر کا ایک اہم سنگِ میل بھی ہیں۔ آج جب اردو
شاعری نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ان قدیم مشاعروں کی یادیں ہمیں اپنے ماضی سے
جوڑتی ہیں اور ہمارے ادبی شعور کو تازگی عطا کرتی ہیں۔اٹھائیس صفحات پر مشتمل یہ
کتاب "مدحِ پیغمبر" اُسی سال مطبع احمدی مدراس سے شائع ہوئی۔
اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ "مدحِ پیغمبر"
نامی تاریخی کتاب کا تعارف کرایا جائے۔ اِس کتاب میں جن مشاعروں کا تذکرہ کیا گیا
ہے یہ خطیب احمد حسین صاحب نے منعقد کئے جو بعد ازاں حیدرآباد کے نظام کے خاص
سیکریٹری مقرر ہوئے اور "امین جنگ بہادر" کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں۔ آپ
کے بڑے بھائی خطیب قادر بادشاہ صاحب بادشاہؔ وانمباڑی کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر
تھے۔ آپ پہلے پہل 'محزونؔ' تخلص استعمال کرتے تھے بعد ازاں 'بادشاہؔ' کو اختیار
کیا۔
"مدحِ پیغمبر" نامی اس کتاب میں چھ مشاعروں کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ خطیب احمد حسین صاحب امین جنگ بہادر نے لکھا ہے اور ایک تقریظ آپ کے بھائی خطیب قادر بادشاہ صاحب محزونؔ نے اور دو تقاریظ نظم کی شکل میں محمد عبدالرحمٰن صاحب فاروقی تسلیمؔ نے لکھی ہیں۔ جو چھ طرحی نعتیہ مشاعرے منعقد ہوئے اُن کی تفصیلات جو اس کتاب سے ملتی ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں:
مشاعروں کے لیے طے شدہ مصرع طرح :
پہلا مشاعرہ: کہونگا حشر میں یہ
تھام کر حضرت کے دامن کو
دوسرا مشاعرہ: گلے میں نقش جو نعلین
مصطفیٰ ہوجائے
تیسرا مشاعرہ: ابھی رومال نچوڑوں
گا تو طوفاں ہوگا
چوتھا مشاعرہ : یا رب نصیب ہووے
زیارت رسول کی
پانچواں مشاعرہ: ہو کم نہ کبھی
عرش سے رتبہ میرے دل کا
چھٹا مشاعرہ: شہیدِ تیغِ ابروئے پیمبر ہوں تو میں ہی ہوں
شعراء کرام جنہوں نے ان مشاعروں میں شرکت کی اور اپنے
کلام سے سامعین کو نوازا:
1۔ خطیب قادر بادشاہ صاحب محزونؔ (وانمباڑی)
2۔ منشی حسن علی صاحب نقشبندی آہؔ (آپ کا تعلق بنگلور
سے تھا اور آپ اُس وقت وانمباڑی میں مقیم تھے)
3۔ محمد عبدالرحمٰن صاحب فاروقی تسلیمؔ (آپ کا تعلق
بنگلور سے تھا اور آپ اُس وقت وانمباڑی میں مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے
تھے)
4۔ خضر عبدالرحمٰن صاحب شادؔ (تاجر، وانمباڑی)
5۔ خطیب قاضی عبدالرحمٰن صاحب خطیبؔ (وانمباڑی)
6۔ نظام الدین صاحب نظامؔ (اُن کا تعلق مدراس سے تھا جو
اُس وقت مدرسۂ مفید عام وانمباڑی کے مدرس تھے)
7۔ مولوی احمد علی صاحب قریشی احمدؔ (مدرس، مدرسۂ اعظم
وانمباڑی)
8۔ محمد یوسف صاحب قاصرؔ (وانمباڑی)
9۔ سید برہان بادشاہ صاحب افسرؔ (مدرس، مشن اسکول
وانمباڑی)
10۔ جعفر خان صاحب مہرؔ عرف مولانا صاحب (وانمباڑی)
11۔ حکیم حاجی خواجہ حسین صاحب خواجہؔ (جن کا تعلق
مدراس سے تھا اور جو اُس وقت میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے وانمباڑی میں مقیم تھے)
وانمباڑی کے اولین نعتیہ مشاعرے میں شریک ہونے والے ان
شعراء کے کلام کا نمونہ حسب ذیل ہے:
خطیب قادر بادشاہ صاحب محزونؔ (وانمباڑی)
رہ عصیان کی لغزش ہے سنبھالو اب مجھے لِللہ
کہوں گا حشر میں یہ تھام کر حضرت کے دامن کو
خطیبؔ و افسرؔ و آہؔ و نظامؔ و شادؔ اور تسلیمؔ
بسانِ مہر کیا چمکائے محزونؔ طبعِ روشن کو
منشی حسن
علی صاحب نقشبندی آہؔ
خیالِ قامت عالی میں عرش پر ہے دماغ
عجب نہیں کہ فلک میرے زیر پا
ہوجائے
نہ سر بلند ہو کیوں نقشبندیوں میں
آہؔ
گلے میں نقش جو نعلین مصطفی ہوجائے
خضر
عبدالرحمٰن صاحب شادؔ (تاجر، وانمباڑی)
ابر سا ہجر نبی مجھکو رلایا اِتنا
ابھی رومال نچوڑوں گا تو طوفاں
ہوگا
فرقت احمد مرسل کا ہے دل پر جو الم
دیکھے محزونؔ بھی اگر شادؔ کو
شاداں ہوگا
محمد
عبدالرحمٰن صاحب فاروقی تسلیمؔ (مدرس، وانمباڑی)
مت کر تو فخر دیکھ کے جنت کو اے
فلک
ہے اِس زمینِ پاک پہ تربت رسول کی
تسلیمؔ التجا ہے یہی میری رات دن
یا رب نصیب ہووے زیارت رسول کی
مولوی احمد
علی صاحب قریشی احمدؔ (مدرس، مدرسۂ اعظم وانمباڑی)
پرستش کے لئے گور میں جب آویں نکیرین
کہدوں گا محمد ہے وظیفہ میرے دل کا
ہر وقت ہے احمدؔ کی تمنا یہ خدا سے
ہو کم نہ کبھی عرش سے رتبہ میرے دل
کا
خطیب
قاضی عبدالرحمٰن صاحب خطیبؔ (وانمباڑی)
پیمبر کا تیرے واصف مقرر ہوں تو میں ہی ہوں
اُنہیں کے سارے امت میں جو کمتر
ہوں تو میں ہی ہوں
مریضِ ہجر سردار مفخر ہوں تو میں
ہی ہوں
شہید تیغ ابروئے پیمبر ہوں تو میں
ہی ہوں
اس کتاب میں خطیب قادربادشاہ صاحب محزونؔ کی عیدالفطر پر لکھی ہوئی ایک طویل نظم اور اس کتاب کی اشاعت پر لکھے گئے دو قطعاتِ تاریخ بھی شامل کئے گئے ہیں۔
---*---*---*---
The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com


جزاک اللہ خیرا کثیرا
ReplyDeleteاللہ آپ کی کاوشوں کو مقبولیت عطا فرمائے اور ذخیرۂ آخرت بناۓ
آمین یا رب العالمین۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
Deleteبہت شاندار ! خوب معلومات بہم پہنچائی ہے۔
ReplyDeleteجزاک اللہ
خالد
بہت شکریہ آپ کا۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
Deleteبہت خوب ۔ بہت بہت شکریہ
ReplyDeleteجزاکم اللہ خیرا کثیرا محترم۔
Deleteمبارک ہو
ReplyDeleteاحسان ہے آپ کا کہ
آپ نے سر زمین وانمباڑی کی ادبی فضا کے تعلق سے تحقیقی کام کیا ہے۔
وانمباڑی کی ادبی کارکردگی سے نیی نسل کو اور نابلد احباب کو وانمباڑی کے ادبی کارناموں سے روشناس کروایا ہے
ہمت افزائی کا بہت بہت شکریہ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
Delete