مدرسۂ مفیدِ عام، وانمباڑی پر لکھی گئی تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی مثنوی


مدرسۂ مفیدِ عام، وانمباڑی پر لکھی گئی تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی مثنوی

 احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)

مدرسۂ مفیدِ عام وانمباڑی کا سب سے قدیم مدرسہ ہے، جو 1872ء میں قائم ہوا۔ اس کی ابتدا مسجدِ نیلکھیت سے ملحق ایک جھونپڑی میں ہوئی، جسے مدیکار زین العابدین صاحب نے قائم کیا تھا۔ پندرہ سال بعد 1887ء میں مسجد کے متصل اس کے لیے ایک مستقل عمارت کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس مدرسے کے پہلے ناظم مولوی محمد صادق الازہری صاحب تھے، جو جامعہ الازہر، مصر کے فارغ التحصیل تھے۔ آپ جامعہ دارالسلام عمرآباد کے پہلے ناظم، پیش امام فضل اللہ صاحب کے والد تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے۔


اس دور کے معروف شاعر خطیب قادر بادشاہ صاحب نے اس مدرسے کے بارے میں ایک مثنوی لکھی، جو ان کی کتاب "یادگارِ بادشاہ" میں شامل ہے۔ مثنوی اردو شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جس میں طویل مضامین نظم کیے جاتے ہیں۔ یہ مثنوی مدرسۂ مفیدِ عام، وانمباڑی کے سالانہ جلسۂ امتحان کے موقع پر پڑھی گئی تھی، جو 4 محرم 1307ھ، بمطابق 30 اگست 1889ء کو منعقد ہوا۔ مولوی محمد صادق صاحب مرحوم کو یہ نظم اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے اسے شائع بھی کروایا۔ یہ نظم صرف مدرسے کی تعریف نہیں، بلکہ مسلمانوں کی علمی، تعلیمی اور سماجی اصلاح کا ایک جامع پیغام بھی ہے۔


اس نظم کی زبان قدیم ہے۔ اس میں جگہ جگہ فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، بلکہ کئی اشعار کے بعض مصرعے مکمل طور پر فارسی میں ہیں۔ یہ مثنوی 85 اشعار یعنی 170 مصرعوں پر مشتمل ہے۔یہ مثنوی مدرسۂ مفیدِ عام کی خدمات، تعلیم کی اہمیت، اُس دور کے مسلمانوں کے تعلیمی و معاشی زوال، دینی و عصری علوم کے امتزاج، اور اتحادِ امت کی ضرورت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔


میں نے مناسب سمجھا کہ اس مثنوی کے اہم مضامین کا خلاصہ پیش کردوں۔ اس مضمون میں پہلے خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور چونکہ نظم طویل ہےاس لیے آخر میں اسے کتاب کے اصل صفحات کے عکس کی صورت میں شامل کردیا گیا ہے۔ خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:


حمد و نعت

نظم کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام سے ہوتا ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے قلم، فکر اور زبان میں ایسی تاثیر پیدا ہو کہ ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہوں۔


دنیا کی حقیقت

شاعر یاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔ انبیاء، اولیاء، بادشاہ، امیر اور غریب، سب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور ایک دن ہمیں بھی اسی سفر پر روانہ ہونا ہے۔ اس لیے انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق ایسے نیک اعمال کرنے چاہئیں جن سے دوسروں کو فائدہ پہنچے، کیونکہ خلقِ خدا کو نفع پہنچانا بہترین نیکی ہے۔


مدرسۂ مفیدِ عام کے بانیوں کی ستائش

شاعر وانمباڑی کے اُن دیندار، سخی اور صاحبِ عزت تاجروں کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرکے یہ مدرسہ قائم کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مال کو محض دولت نہیں سمجھا، بلکہ اسے قوم کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کی یہ خدمت دنیا و آخرت دونوں میں باعثِ اجر ہے۔


مدرسے کی شان

شاعر مدرسے کی عمارت، اس کے ماحول اور وہاں ہونے والی تعلیم کی دل کھول کر تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے مدرسے کو ایک سرسبز و شاداب گلستان سے تشبیہ دی ہے۔اس گلستان میں پھولوں کی جگہ علم کی خوشبو ہے، بلبلوں کی جگہ بچوں کی خوش الحانی ہے، باغبان کی جگہ شفیق اساتذہ ہیں اور پھول جھڑنے کی جگہ طلبہ کی علمی گفتگو سنائی دیتی ہے۔


منتظمِ مدرسہ کی تعریف

خطیب قادر بادشاہ صاحب نے اس نظم میں مدرسے کے پہلے ناظم، مولوی محمد صادق صاحب کا نام صراحت کے ساتھ نہیں لیا، لیکن ان کی علمیت، دینداری، اخلاص اور خدمات کی بھرپور تعریف کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مدرسے کی ترقی، شہرت اور عزت انہی کی محنت، جانفشانی اور حسنِ انتظام کا نتیجہ ہے۔ شاعر یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات اشاروں میں بات کرنا، صاف طور پر نام لینے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے اس لیے انہوں نے نام لینے کے بجائے ان کی صفات بیان کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ان کے نام ہی کی ایک صفت، یعنی "صادق" کو نظم میں استعمال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:


ہر دم ہیں امورِ دیں کے شائق

ہر قول پہ اپنے ہیں وہ صادق


اساتذۂ کرام کے لیے دعا

شاعر مدرسے کے تمام اساتذۂ کرام کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے۔


دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج

یہ نظم کا سب سے اہم حصہ ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ دینی تعلیم بے حد ضروری ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ جدید علوم، فنون اور معاشی ہنر بھی شامل ہو جائیں تو قوم کو دوہرا فائدہ حاصل ہوگا۔وہ لکھتے ہیں کہ معاشی تنگی دنیا کی سب سے بڑی آفتوں میں سے ایک ہے۔ اگر انسان کے پاس باعزت روزگار کا ذریعہ ہو تو وہ دین اور دنیا، دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ صرف دینی تعلیم دے کر اگر معاش کا کوئی راستہ نہ دکھایا جائے تو یہ زمانے کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔


مسلمانوں کے زوال پر افسوس

شاعر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی حکومت باقی نہیں رہی، اہلِ علم کی قدر کم ہو گئی ہے اور بہت سے علماء معاشی تنگی کی وجہ سے دربدر پھر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مفید فنون اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے خود کو دور رکھا، جس کے باعث انہیں دوسروں کا محتاج ہونا پڑا۔


دوسری قوموں سے سبق

شاعر دوسری قوموں کی مثال دیتے ہیں کہ وہ علم، صنعت، محنت اور فنون میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ ہر جائز پیشے کو عزت دیتی ہیں، محنت سے نہیں گھبراتیں، بھیک مانگنے کو عیب سمجھتی ہیں اور اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے دنیاوی ترقی بھی کرتی ہیں۔پھر شاعر سوال کرتے ہیں کہ کیا مسلمانوں میں عقل، ذہانت اور صلاحیت کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بہترین صلاحیتیں عطا کی ہیں، لیکن غفلت نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔


دین اور دنیا کا تعلق

شاعر ایک نہایت خوب صورت مثال دیتے ہیں کہ دین اور دنیا دو جڑواں بچوں کی مانند ہیں۔ دنیا کی ترقی دین کی خدمت کا ذریعہ بنتی ہے اور دین دنیا کو صحیح سمت عطا کرتا ہے۔قرآن و حدیث میں جس "دنیا" کی مذمت کی گئی ہے، اس سے مراد وہ دنیا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے، نہ کہ جائز محنت، علم اور ترقی۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرامؓ اور خلفائے راشدینؓ کی مثال دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دینی عظمت کے ساتھ ساتھ دنیاوی ترقی بھی حاصل کی، اسی لیے اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل سکا۔


اتحاد کی ضرورت

شاعر مسلمانوں کی باہمی نااتفاقی، حسد، بغض اور اختلاف پر افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہی تفرقہ ہماری ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر مسلمان اخلاص اور اتحاد اختیار کر لیں تو وہ دوبارہ عزت و وقار حاصل کر سکتے ہیں۔


اختتامی دعا

آخر میں شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ:

·        مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا فرمائے۔

·        انہیں نفاق اور اختلاف سے محفوظ رکھے۔

·        انہیں دینی اور معاشی، دونوں علوم عطا فرمائے۔

·        عبادت میں اخلاص نصیب فرمائے۔

·        گناہوں سے بچائے۔

·        جہنم سے نجات اور جنت الفردوس عطا فرمائے۔

·        رسولِ اکرمؐ، آپ کی آلِ اطہار اور صحابۂ کرامؓ پر ہمیشہ اپنی رحمتیں اور سلام نازل فرمائے۔


مرکزی پیغام

اس مثنوی کا خلاصہ یہ ہے کہ:

·        تعلیم ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے۔

·        دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم اور عملی ہنر بھی ضروری ہیں۔

·        مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجوہات جہالت، معاشی کمزوری، غفلت اور باہمی اختلاف ہیں۔

·        اتحاد، علم، محنت، اخلاص اور دینی و دنیاوی تعلیم کا امتزاج ہی قوم کی حقیقی ترقی کا راستہ ہے۔


یہ مثنوی صرف ایک تعریفی نظم نہیں، بلکہ انیسویں صدی کے اواخر میں وانمباڑی کے مسلمانوں کے تعلیمی وژن، اصلاحی فکر اور قومی بیداری کی ایک نہایت اہم تاریخی دستاویز بھی ہے۔یہ مثنوی آج بھی غیر معمولی طور پر بامعنی اور مؤثر ہے۔ اگرچہ اسے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل لکھا گیا تھا، لیکن اس میں بیان کیے گئے بہت سے مسائل اور اصلاحی پیغامات آج بھی مسلم معاشرے کے لیے اتنے ہی اہم اور قابلِ عمل ہیں۔


---٭٭٭---

Comments