تملناڈو میں مطالعے کے فروغ کی منفرد کوشش

تمل ناڈو میں مطالعے کے فروغ کی منفرد کوشش

گریجویٹس گلڈ وانمباڑی  کا اردو و انگریزی کتابوں پر مبنی کامیاب کوئز مقابلہ 

احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)


مطالعے کے فروغ اور نوجوان نسل میں کتاب دوستی کا جذبہ بیدار کرنے کے مقصد سے گریجویٹس گلڈ وانمباڑی (Graduates' Guild Vaniyambadi - GGV) کے زیر اہتمام اردو اور انگریزی کتابوں پر مبنی ایک منفرد آف لائن کوئز مقابلہ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا، جس کی تقریبِ تقسیمِ انعامات بروز اتوار، 28 جون 2026ء کو  اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول، قلعہ، وانمباڑی میں نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں شہر کی ممتاز علمی، تعلیمی اور سماجی شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ طلبہ، والدین، اساتذہ اور عوام کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں دو سو سے زائد افراد موجود تھے، جس سے اس پروگرام کی عوامی پذیرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔


مطالعے کے فروغ کی ایک منفرد کوشش

آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں نوجوانوں کا رجحان کتابوں سے دور ہوتا جا رہا ہے، وہاں گریجویٹس گلڈ وانمباڑی نے مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک منفرد اور بامقصد اقدام کیا۔ اس مقابلے کا مقصد صرف انعامات حاصل کرنا نہیں بلکہ شرکاء کو مکمل کتابیں پڑھنے، ان پر غور و فکر کرنے اور اپنے علم میں اضافہ کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ 

مقابلے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ تمام سوالات صرف مقررہ کتابوں سے تیار کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے بیشتر شرکاء نے متعلقہ کتابوں کا ایک سے زائد مرتبہ مطالعہ کیا تاکہ وہ بہتر انداز میں مقابلے کی تیاری کر سکیں۔ اس طرح یہ مقابلہ حقیقی معنوں میں مطالعے کی تحریک ثابت ہوا۔


اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مقابلہ

یہ مقابلہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں چار مختلف زمروں میں منعقد کیا گیا۔ ہر زمرے کے لیے الگ کتاب مقرر کی گئی اور ہر زبان میں انہی کتابوں پر مبنی 100 کثیر الانتخابی (MCQs) سوالات پر مشتمل امتحان منعقد کیا گیا۔


انگریزی زبان کے لیے مقررہ کتب

Category 1 (Grade 5–7): My Journey — Dr. A. P. J. Abdul Kalam

Category 2 (Grade 8–10): The 7 Habits of Highly Effective Teens — Sean Covey

Category 3 (Grade 11–12): Atomic Habits — James Clear

Category 4 (Age 18 and Above): The 7 Habits of Highly Effective People — Stephen R. Covey


اردو زبان کے لیے مقررہ کتب

Category 1 (جماعت 5 تا 7) : داعئی اعظم (مولانا محمد یوسف اصلاحی)

Category 2 (جماعت 8 تا 10 ) : حیات طیبہ (مولانا ابوسلیم محمد عبدالحی)

Category 3 (جماعت 11 اور 12) : در یتیم (مولانا ماہرالقادری)

Category 4 (اوپن زمرہ – ہر ایک شرکت کرسکتا ہے) : محمد عربی  ﷺ (مولانا عنایت اللہ سبحانی)


نمایاں شرکت

مقابلے میں اردو زبان میں 80 اور انگریزی زبان میں 80 شرکاء نے حصہ لیا۔ یہ امر نہایت خوش آئند رہا کہ شرکاء صرف وانمباڑی تک محدود نہیں تھے بلکہ آمبور، عمرآباد، پرنامبٹ اور تروپاتور سے بھی طلبہ اور شائقینِ مطالعہ نے شرکت کی۔

خصوصی بات یہ رہی کہ اوپن کیٹیگری میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ افراد نے بھی پورے ذوق و شوق کے ساتھ حصہ لیا، جس سے یہ پیغام ملا کہ علم حاصل کرنے اور کتاب پڑھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔


مقابلے کا شیڈول

  • 14 جون 2026: اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول، وانمباڑی میں آف لائن تحریری امتحان منعقد ہوا۔
  • 21 جون 2026: نتائج کا اعلان کیا گیا۔
  • 28 جون 2026: شاندار تقریب میں کامیاب امیدواروں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔


انعامات

ہر کیٹیگری میں درج ذیل انعامات دیے گئے:

  • پہلا انعام: 3000
  • دوسرا انعام: 2000
  • تیسرا انعام: 1000
  • چوتھے تا آٹھویں مقام: ٹرافی اور سرٹیفکیٹ
  • نویں تا تیرہویں مقام: میڈل اور سرٹیفکیٹ

اس کے علاوہ مقابلے میں شرکت کرنے والے تمام شرکاء کو شرکت کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا، تاکہ ان کی علمی دلچسپی اور محنت کی حوصلہ افزائی ہو۔


مطالعہ: کامیابی کی بنیاد

کتابیں انسان کی بہترین رہنما ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ شخصیت سازی، مثبت سوچ، تنقیدی فکر اور بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں۔ گریجویٹس گلڈ وانمباڑی کی یہ کوشش اسی سوچ کا عملی اظہار ہے کہ نوجوانوں کو صرف امتحانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں معیاری کتابوں کے مستقل مطالعے کی طرف راغب کیا جائے۔

اس پروگرام نے ثابت کیا کہ اگر نوجوانوں کو ایک مثبت اور بامقصد پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تو وہ شوق سے کتابیں پڑھتے ہیں، ان پر غور کرتے ہیں اور علمی مقابلوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مہمانانِ کرام نے گریجویٹس گلڈ وانمباڑی کی اس منفرد علمی کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی نوعیت کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ معاشرے میں مطالعے کی روایت مزید مضبوط ہو اور نئی نسل علم و تحقیق سے وابستہ ہو سکے۔



























---***---

Comments