حیدرالحسن حیدر (وانمباڑی) بحیثیت شاعر

حیدرالحسن حیدر بحیثیت شاعر

احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

میرے دادا حیدرالحسن حیدرؔ صاحب وانمباڑی کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ آپ کی ولادت 28/ اگست 1902ء کو وانمباڑی کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد کشنگری عبدالحمید صاحب شاعر تھے اور مدرسئہ نسوان کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے بڑے بھائی محمودالحسن محمودؔ صاحب بھی ایک مشہور شاعر تھے۔ آپ کے تین صاحبزادے اقبال احمد کلیم طاہریؔ صاحب، مختار احمد اخترؔ صاحب اور عتیق احمد جاذبؔ صاحب بھی بعد میں اپنے کلام کی بدولت بہت معروف ہوئے۔ آپ کے ایک اور بھائی مولوی سلام اللہ صاحب عالمِ دین تھے شاعری تو نہیں کرتے تھے مگر ادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہیں اقبالؔ اور دیگر مشہور شعراء کے اشعار ازبر تھے۔

وانمباڑی کی تاریخ پر لکھی گئی مستند کتاب "آئینۂ وانمباڑی" میں شامل وانمباڑی کے شعراء کی فہرست میں آپ کا نام بھی درج ہے۔ تاہم دیگر تذکرہ نگاری کی کتابوں میں آپ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

میرے والد عتیق احمد جاذبؔ صاحب اپنے والد کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ آپ چمڑے کی تجارت سے وابستہ تھے۔ روشن کمپنی اس دور کی مشہور تجارتی کمپنی تھی جس کے بانی کاکا محمد عمر مرحوم اور جلال فیملی مشترکہ مالکان تھے۔ اس کی تجارت بڑے پیمانے پر ہندوستان اور بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی تھی اور پورے ہندوستان میں اس کی شاخیں قائم تھیں۔ حیدرؔ صاحب اس کمپنی میں ملازم تھے اور اس کی بدولت آپ نے پورے ہندوستان کا سفر کیا۔

آپ کو ادب سے بے پناہ شغف تھا۔ خاندان میں جب بھی کسی کی پیدائش، شادی یا وفات ہوتی، آپ فوراً قطعۂ تاریخ لکھتے، اسے فریم کرکے اپنے مکان کے دالان کی دیواروں پر ترتیب وار آویزاں کردیتے۔ افسوس کہ یہ تمام قطعات اور نظمیں دیمک کی نذر ہوگئیں۔

تحقیق کے دوران مجھے ایک قلمی نسخہ ملا جس میں آپ کی 4 غزلیں، 2 نظمیں اور 32قطعاتِ تاریخ محفوظ ہیں۔ ان سے آپ کی شاعری کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ دو تخلص استعمال کرتے تھے۔ حیدرؔ اور مخمورؔ۔ آپ کی کنیت ابوالاقبال تھی۔ بڑے بھائی محمودالحسن محمودؔ کی طرح آپ کو بھی تاریخ گوئی میں مہارت حاصل تھی۔

 وانمباڑی سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ ویراورسی کی مسجد کے افتتاح پر لکھا گیا آپ کا قطعہ آج بھی محراب پر کندہ ہے جس سے ہجری 1358 (عیسوی 1939) تاریخ نکلتی ہے۔ اس میں خوشی اور شکر گزاری کے جذبات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔

جو قصبہ ویراورسہ ہے ان روزوں بعد مدت کے

ہوئی ہے خوشنما تعمیر اک مسجد بحمداللہ

سنِ تعمیر مسجد ہجری قدسی میں لکھ حیدرؔ

عبادت گاہِ مسلم ہوگئی تیار اب زیبا

آپ نے کئی مشاعروں میں شرکت کی اور طرحی و غیرطرحی غزلیں سنائیں۔ ان میں مسلم سوسائٹی، بزمِ شاکر اور بزمِ پروانہ کے مشاعرے شامل ہیں۔

مسلم سوسائٹی وانمباڑی کے ایک مشاعرے میں آپ نے طرحی مصرع "شہید ناز کو نیند آتی ہے آغوش خنجر میں" پر غزل سنائی، جس کے چند اشعار پیش ہیں:

میسر مجھ کو ہے آرام صحرا میں نہ اب گھر میں

قیامت ہے پھرا کرتا ہوں در در یادِ دلبر میں

ترے تلوار کی انداز کا پہلو نرالا ہے

شہید ناز کو نیند آتی ہے آغوش خنجر میں

بزمِ پروانہ وانمباڑی کے مشاعرے میں آپ نے مصرعِ طرح "تارے گن گن کے شبِ ہجر بسر کرتے ہیں" پر غزل پیش کی۔ اس کے چند اشعار حسبِ ذیل ہیں:

باغِ دل سے یہ گئی کہہ کے بہار ارماں

تم سلامت رہو اب ہم تو سفر کرتے ہیں

نکلے جاتے ہیں مرے دل سے سب ارمان و امید

آج ویراں یہ اللہ کا گھر کرتے ہیں

بزمِ شاکر وانمباڑی کے مشاعرے میں بھی شرکت کی اور مصرعِ طرح "یارب غضب ہوا کہ نمازِ سحر گئی" پر غزل کہی، جس کے چند اشعار پیش کیے جا رہے ہیں:

کُنجِ قفس سے سوئے چمن جب نظر گئی

حسرت مری امید کہ غنچوں سے بھر گئی

مخمورؔ! تم نہ کچھ بھی جوانی کی قدر کی

اب کھوکے ڈھونڈتے ہو کہ ہے ہے کدھر گئی

آپ نے دوست احباب کی خوشی و غم کے مواقع پر بڑی تعداد میں قطعاتِ تاریخ لکھے جن میں کبھی ہجری اور کبھی عیسوی تاریخ نکلتی ہے۔ وانمباڑی، آمبور، پیارنم بٹ، ایروڈ، نندیال وغیرہ کے لوگوں نے بھی آپ سے قطعے لکھوانے کی درخواست کی اور آپ نے ہمیشہ ان کی فرمائش پوری کی۔ یہ تمام قطعات اس قلمی نسخے میں موجود ہیں۔

مولانا منشی محمد ابراہیم صاحب قدیرؔ آمبوری کی وفات پر آپ نے ایک قطعہ لکھا، جس کے آخری مصرع سے 1339ہجری (مطابق 1920عیسوی) تاریخ برآمد ہوتی ہے۔

شاعرِ شیریں سخن صاحبِ فہم

کیا لکھیں رحلت کا اس کی ماجرا

مصرع تاریخ یوں مخمورؔ لکھ

داغ ابراہیم ہے ہے دے گیا

اپنے نواسے کی پیدائش پر لکھے گئے قطعہ کے آخری مصرع سے سنِ پیدائش 1383 ہجری (مطابق 1963ء) نکلتا ہے۔ آپ کے قطعات میں ایک اور خوبی یہ نظر آتی ہے ہر قطعہ کے آخری شعر سے ہجری یا عیسوی سال تو معلوم ہوتا ہے لیکن آپ نے بعض اشعار کے درمیان ایسے مصرعے بھی شامل کیے جن میں مکمل تاریخ - دن، تاریخ اور مہینہ چاہے اسلامی مہینہ ہو یا انگریزی مہینہ کا ذکر موجود ہے۔

ہو پہلے حمد و ثنا خدا کی پھر نعت احمدؐ ہو صدق دل سے

صحاب اکرام کے عمل کو ہمیشہ پھر اختیار کرلے

تھی رات شنبہ کی نیک و اسعد و ماہِ رجب کی تیرویں تھی

جہاں میں زیبا ہوئی ولادت یہ راحتِ جان و لختِ دل کی

روئے بہجت یہ سال حیدرؔ کہا ہے ہجری میں باسعادت

محمد طارق شہاب کی یہ ہوئی ہے میمون اب ولادت

اپنی دختر کی شادی پر کہے گئے قطعۂ تاریخ کے الفاظ "عبدجلیل نوشہ رشیقہ بانو" سے شادی کا سال 1381ہجری (مطابق 1961عیسوی) درآمد ہوتا ہے۔

ادا ہو پہلے ثنا اسی کی جہاں کا جو ربِّ ایزدی ہے

پھر صدقِ دل سے ہو نعت اس کی ہم عاصیوں کا جو شافعی ہے

یہ کتخدائی کا سال ہجری کہو اے حیدرؔ زقلب جدّت

ہوا ہے عبدجلیل نوشہ رشیقہ بانو دلہن بنی ہے

اپنی ایک دختر جو محض دو برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، ان پر کہا گیا قطعہ اپنے آخری مصرع میں 1955ء کی تاریخ ظاہر کرتا ہے۔

اک قیامت ہوگئی برپا مرے گھر حسرتا

کرگئی دو شیزہ میری سفرِ عقبیٰ اختیار

حیدرؔ غمگین نے رحلت کے لئے سال مسیح

کہہ دیا - ہوگئی فوت ہائے حسیبہ شیر خوار

بانیِ عمرآباد و جامعہ دارالسلام الحاج کاکا محمد عمر صاحب کی وفات پر کہے گئے قطعے کے آخری مصرع سے 1346 ہجری (مطابق 1927ء) کی تاریخ نکلتی ہے۔

کیا بھروسا ہے بشر کی ہستیِ موہوم کا

جو ہوا پیدا یہاں ہرگز نہ زندہ رہ سکا

صاحبِ فضل و ہنر تھے تاجرِ عالی ہمم

پاک باطن، نیک طینت، متقی و پارسا

دست گیری تھی ہمیشہ قوم کی مدِّ نظر

قوم کے تھے خیر خواہ اور قوم تھی اُن پر فدا

ذی مروت، ذی حمیت، دست گیرِ بے کساں

مہرِ تاباں کی طرح تھا نام روشن جابجا 

31 /مئی 1928ء کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر آپ نے دو اشعار کہے، جو حسبِ ذیل ہیں:

ہم ہر اک شادماں پاتے ہیں آج

عید کے چاروں طرف چرچے ہیں آج

کیسا منظر ہے یہ حیدرؔ پُرفضا

دوست آپس میں گلے ملتے ہیں آج

ایک عزیز کی شادی پر آپ نے 17 اشعار پر مشتمل ایک انوکھی نظم کہی، جس کے ہر شعر کے پہلے مصرع کے پہلے لفظ کے اعداد کو جمع کرنے سے شادی کی تاریخ برآمد ہوتی ہے۔ آپ کی اکثر نظمیں اور قطعات طویل ہیں، جن میں 10 سے 15 اشعار شامل ہوتے ہیں، اور آپ کے مصرعے نسبتاً لمبے اور پراثر الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

چونکہ آپ کے بھائی محمودالحسن محمودؔ کے اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ سے قریبی تعلقات تھے اور وہ ان کے شاگرد بھی رہے لہٰذا "کلیاتِ مغمومؔ" میں محمودؔ کے خاندان کے افراد پر کئی قطعات شامل ہیں جن میں حیدرالحسن حیدرؔکی شادی (1347ھ/ 1928ء) پر کہا گیا قطعہ بھی موجود ہے:

ضیائے بزم کا نظارہ فرحت دل ہے

ہے جشن عقد کا سامان طرب فزائے خیال

سناؤ سال یہ مغمومؔ شادماں ہو کر

کہ- کدخدائی حیدرحسن سپہر کمال

آپ کا انتقال بروز جمعرات 29/ مئی 1969ء کو شام کے وقت ہوا۔ نمازِ جنازہ اگلے دن بعد نماز جمعہ مسجد قلعہ میں ادا کی گئی اور تدفین اسی مسجد کے قبرستان میں عمل میں آئی۔

حوالہ جات:

(1)      آئینۂ وانمباڑی -   مولوی خطیب محمد جمیل صاحب

(2)      کلیات مغموم -   محمد اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ

(3)      آپ کے کلام کا قلمی نسخہ


یہ مقالہ شعبۂ اردو مظہرالعلوم کالج (خود مختار) آمبور اور تنظیم فروغ اردو تمل ناڈو کے زیر اہتمام سیمینار میں پیش کیا گیا اور اس سیمینار کے زیر اہتمام شائع کتاب "تمل ناڈو کے ادباء و شعراء کی ادبی خدمات" میں شامل ہے۔ بشکریہ ڈاکٹر مفتی تمیم احمد قاسمی صاحب اور ڈاکٹر کلیم اللہ صاحب۔۔۔

---*---*---*---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. السلام علیکم ۔ آپ کا بہت ہی اچھے انداز میں لکھا ہوا مضمون دلچسپی سے پڑھا۔ آپ کی یہ اردو خدمت قابل داد ہے ۔آپ کے خاندان میں شعراء و ادباء گزرے ہیں ۔یہ بھی خوشی کی بات ہے۔ ایک ہی خاندان میں اتنے شعراء ! ماشاءاللہ! آپ کی اردو بھی کیا کہنے بہت خوب ہے۔آخر کس خاندان کے سپوت ہیں ۔دعا ہے کہ آپ اسی طرح لکھتے رہیں اور اپنے عظیم خاندان کا نام اور روشن کرتے رہیں۔ یہ بڑی اردو خدمت بھی ہے ۔ آپ کی اردو دوستی قابل تعریف ہے قابل رشک ہے ۔بہت بہت مبارک ۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete
    2. وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کی ہمت افزائی کا شکریہ محترم۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      Delete
  2. السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
    مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آپ کے ادبی ذوق رکھنے والے خاندان سے میرے راہ رسم عرصہ دراز سے رہے ہیں۔
    آپ کے تایا جناب اقبال کلیم ظاہری میرے استاد تھے ۔ آپ کے ایک اور تایا جناب مختار احمد صاحب صاحب کا کلام خود ان کی زبان میں سننے کا کئی مرتبہ موقع ملا ہے آپ کے والد محترم جناب عتیق احمد جاذب سے جماعتی رفاقت چالیس سال رہی ہے۔
    اللہ تعالٰی ان تمام مرحومین کے درگزر فرمائیں ان کے درجات بلند کرے اور اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے آمین

    ReplyDelete
    Replies
    1. وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم، آپ کی دعاؤں کا شکر گزار ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      اگر آپ اپنا نام بھی لکھ دیتے تو بہتر ہوتا۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      Delete

Post a Comment