محمود الحسن محمود (وانمباڑی) بحیثیت شاعر و ادیب

محمود الحسن محمود بحیثیت شاعر و ادیب

احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

         محمود الحسن محمودؔ صاحب وانمباڑی کے مشہور و معروف شاعر گزرے ہیں۔ آپ کی ولادت 4/ جولائی 1891ء کو وانمباڑی کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد کشنگری عبدالحمید صاحب بھی شاعر تھے اور مدرسۂ نسوان کے بانیوں میں سے تھے۔ آپ کے چھوٹے بھائی حیدر الحسن حیدرؔ صاحب بھی ایک اچھے شاعر تھے جن کے تین صاحبزادے اقبال احمد کلیم طاہریؔ صاحب، مختار احمد اخترؔ صاحب اور عتیق احمد جاذبؔ صاحب بھی بعد میں اپنے کلام کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ یوں شاعری کی روایت اس خاندان میں تین نسلوں تک قائم رہی۔

         وانمباڑی کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر خطیب قادر بادشاہؔ آپ کے خالو تھے اور آپ ان کے ہم عصر بھی تھے۔ لگتا ہے کہ ان کے قریبی اثر سے محمودؔ کی شاعری میں نکھار پیدا ہوا۔ آپ مدراس کے مشہور و معروف شاعر اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ کے بھی شاگرد رہے۔

         محمود الحسن محمودؔ نے اپنی ابتدائی زندگی اور آخری دو برسوں کے علاوہ زیادہ تر وقت کاٹیری (نیلگری) میں گزارا جہاں آپ تجارت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ علمی اور مذہبی وجاہت کے باعث مقامی لوگ آپ کو "کاٹیری مولانا" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ آپ بھی اپنے والد کی طرح انجمنِ خیرخواہِ عام وانمباڑی اور مدرسۂ نسوان کے سرگرم کارکن رہے اور مجلسِ عاملہ کے رکن بھی تھے۔ وانمباڑی کے ایک اور قدیم ادارے "تاج کلب" میں بھی آپ نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ آپ کا انتقال بروز ہفتہ 14/ مارچ 1964ء کو شام کے وقت ہوا۔ نمازِ جنازہ اگلے دن بعد نمازِ عصر مسجدِ قدیم میں ادا کی گئی اور تدفین اسی مسجد کے قبرستان میں عمل میں آئی۔

         آپ کو تاریخ گوئی میں خاص مہارت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ غزلیں اور نظمیں بھی لکھیں اور فارسی میں بھی قطعات کہے۔ جلال عرفان صاحب اپنی کتاب "وانمباڑی میں اردو ادب کی ایک صدی" میں لکھتے ہیں: "محمود کا کلام کلاسیکی طرز کا حامل ہے۔ ان کے موضوعات بھی روایتی انداز سے عبارت ہیں، تاہم ان کی غزلیں بڑی شگفتہ اور دلآویز ہوتی ہیں۔ کہنہ مشقی اور زندہ دلی نے ان کے عشقیہ اشعار کو پرکیف اور دل پذیر بنا دیا ہے۔"

         خطیب قادر بادشاہؔ کی نو کتابوں میں سے چار - سفرِ حجاز، مدحِ پیغمبر الٰہ، گلزارِ بادشاہ اور نعت خیر البشرؐ کی اشاعت پر آپ نے قطعاتِ تاریخ لکھے ہیں جو محفوظ ہیں۔ مثال کے طور پر مدحِ پیغمبر الٰہ پر آپ کا لکھا ہوا آخری شعر یہ ہے:

کہہ دیا محمودؔ میں نے فی البدیہ

مدحِ پیغمبر الٰہ - بے مثل - سال

         اس قطعے میں "مدحِ پیغمبر الٰہ" سے ہجری سال 1342اور لفظ "بے مثل" کو شامل کرنے سے عیسوی سال 1924 نکلتا ہے جو اس کتاب کی اشاعت کا سال ہے۔

         اسی طرح تاج کلب کی گولڈن جوبلی پر آپ نے ایک نظم اور دو قطعاتِ تاریخ لکھے جو سووینئر میں شامل ہیں۔ ایک نظم کے چند اشعار یہ ہیں:

خوب ہے خوب ہے یہ تاج کلب

سب کا مطلوب ہے یہ تاج کلب

مثلِ یوسفؑ اگر اراکیں ہیں

چشمِ یعقوبؑ ہے یہ تاج کلب

ایک محمودؔ بھی ہے رکن اس کا

جس کا محبوب ہے یہ تاج کلب

         وانمباڑی کے پہلے گریجویٹ خطیب احمد حسین صاحب (امین جنگ بہادر) جو حیدرآباد نظام کے خاص سکریٹری تھے۔ جب وہ 35 برس کے بعد مدراس تشریف لائے (جہاں ان کے فرزند کی شادی مقرر تھی) تو وہ وانمباڑی بھی آئے۔ ان کے استقبال میں وانمباڑی کے تمام اداروں نے خیرمقدم کیا۔ اس سفر کے احوال کو "ارمغانِ شادی" نامی کتاب میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں محمودؔ کی تین نظمیں ملتی ہیں: ایک امین جنگ کے فرزند کی شادی پر اور دو وانمباڑی میں ان کے استقبال پر - ایک مدرسۂ نسوان کی طرف سے اور دوسری تاج کلب کی طرف سے۔

         چونکہ آپ میرے دادا کے حقیقی بھائی تھے، اس لیے تحقیق کے دوران مجھے ایک قلمی نسخہ ملا جس میں آپ کی 6 نعتیں، 47 غزلیں اور 87 قطعاتِ تاریخ محفوظ ہیں۔ آپ کے کلام کو اُس وقت کے معروف اخبارات و جرائد شائع کرتے رہے، جیسے: جلوۂ یار (میرٹھ)، صوفی (پنڈی بہاؤالدین)، گلزارِ عروض (معسکر بنگلور)، پیکرِ خیال (معسکر بنگلور)، قومی رپورٹ (مدراس)، جریدۂ روزگار (مدراس)، مخبرِ دکن (مدراس)، معراجِ خیال (مدراس)، خورشید (مدراس)، پروانہ (وانمباڑی)، رہبر (وانمباڑی) وغیرہ۔

         آپ نے دوست احباب کی خوشی و غم کے موقع پر قطعاتِ تاریخ کثرت سے لکھے۔ بعض میں ہجری تاریخ، بعض میں عیسوی اور بعض میں فصلی تاریخ نکلتی ہے۔ ایک عزیز کی شادی پر نو اشعار پر مشتمل ایک ایسی انوکھی نظم لکھی جس کے ہر شعر کے پہلے مصرع کے پہلے لفظ کے اعداد کو جمع کرنے سے شادی کی تاریخ برآمد ہوتی ہے۔

         اسی طرح مشہور شخصیات کو ملنے والے خطابات پر بھی آپ نے قطعات لکھے۔ مثلاً: ٹی۔ امین الدین صاحب کو "خان بہادر"، خطیب احمد حسین صاحب کو "امین جنگ بہادر" اور مولانا سید فضل شاہ صاحب جلالپوری کو "سجادہ نشینی" ملنے پر۔ آپ نے کئی مشاعروں میں شرکت کرکے طرحی و غیر طرحی غزلیں سنائیں۔ ان میں وانمباڑی کی مسلم سوسائٹی اور تاج کلب کے علاوہ آمبور کے مشاعرے بھی شامل ہیں۔

         بادشاہؔ اور مغمومؔ کے علاوہ دیگر ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت پر بھی آپ نے قطعات لکھے۔ مثلاً نندیال کے قاضی محمد کریم الدین صاحب کی کتابیں "ریاضِ دلفریب" اور "مرقع کربلا" اور رسالہ پیکرِ خیال (بنگلور) کی پہلی اشاعت۔

         نندلور (ضلع اننامیا آندھراپردیش) کی عیدگاہ کے افتتاح پر آپ نے قطعہ لکھا جس کے آخری مصرع سے ہجری 1336(عیسوی 1917) تاریخ نکلتی ہے:

مرحبا اب عیدگاہ نندلور

ہوگیا تیار از فضلِ الٰہ

سال لکھ محمودؔ از روئے ادب

خوشنما ہے مومنوں کا عیدگاہ

         اسی طرح ضلع باپٹلہ آندھرا پردیش کے قصبہ ریپلی کی جامع مسجد کے افتتاح پر آپ کا فارسی قطعہ آج بھی محراب پر کندہ ہے جس سے ہجری 1335 (عیسوی 1916) تاریخ نکلتی ہے۔

در مہِ رمضاں بشہر ریپلی

چوں بِنا شد بیتِ علّام الغیوب

سال اتمامش رقم کردم چنیں

سجدہ گاہِ اہلِ اسلام است خوب

         اپنے خالہ زاد بھائی اوتنگرے عبدالرحمٰن صاحب کے مکان کی افتتاح پر آپ کا قطعہ آج بھی "نور ہاؤس" (جو اب شادی خانہ ہے) کی دیوار پر کندہ ہے۔ اس کے آخری مصرع سے ہجری 1341 (عیسوی 1922) نکلتا ہے:

کہی محمودؔ نے تاریخ اس کی

تعالیٰ اللہ قصر عبدالرحمٰن

         مدراس میں 10/ نومبر 1918ء کے طوفان، پہلی جنگِ عظیم کے اختتام (1918ء) اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی وفات (1920ء) پر بھی آپ نے قطعات لکھے۔

         میری تحقیق کے مطابق آپ نے تین اہم ادبی کارنامے انجام دیے:

         "کلیاتِ مغموم" کی تدوین: اپنے استاد اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ مدراسی کا مجموعۂ کلام آپ ہی نے مرتب کیا۔ مغمومؔ اپنی کتاب کے آخری صفحے میں لکھتے ہیں: "میرے تلمیذ جناب ابوالمقبول محمود الحسن صاحب محمودؔ ضاعف اللہ عمرہ نے ترتیبِ کلیات اور کتابتِ مسودہ کا کام خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام کو پہونچایا اور اہتمامِ طبع میں سعی بلیغ فرمائی"۔ کتاب کے سرورق پر بھی آپ کا نام مرتب کے طور پر درج ہے۔

         "واقعاتِ عالم" کی اشاعت: خطیب قادر بادشاہؔ کی کتاب "واقعاتِ عالم" کی اشاعت کے اصل محرک آپ ہی تھے۔ ان کے فرزند نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ یہ اشاعت آپ کی خواہش پر عمل میں آئی، تاکہ مشہور واقعات پر لکھے گئے مرحوم کے قطعاتِ تاریخ یکجا ہو کر ایک جامع تاریخی مجموعہ وجود میں آسکے۔

         "یادگارِ شرر" کی تدوین: مولانا محمد عبدالمجید شررؔ (ایڈیٹر، قومی رپورٹ) کی وفات 1925ء میں ہوئی۔ ان کی یاد میں منعقدہ مشاعرے کی نظمیں، غزلیں اور قطعاتِ تاریخ کو جمع کر کے "یادگارِ شرر" شائع کی گئی جس کے مرتب آپ ہی تھے۔

         نثر میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی۔ آپ کا مضمون بعنوان "تعلیم و پردۂ نسوان" رسالہ "رہبر" میں شامل ہے۔ اسی طرح "گلزارِ بادشاہ" پر آپ کا دو صفحات پر مشتمل مضمون (تقریظ) بھی شامل ہے۔ اس کے چند جملے آپ کی علمی لیاقت کے آئینہ دار ہیں:

         "بڑی خصوصیت اس دیوان کی یہ ہے کہ یہ مرحوم کے سچے خیالات اور پاک جذبات کا آئینہ ہے جس میں عشقِ رسولِ مقبولؐ کا عکس رونما ہے۔ نہ اس میں حق و صداقت کا خون ہے نہ الشعراء یتبعہم الغاؤن کا مضمون ہے۔ اس لیے ہر پیر و جواں اس کے حسن و جمال پر مفتون ہے۔ ہر شعر نازک خیالی کا میدانِ وسیع ہے، ہر کلام نو ایجاد اور ہر مضمون بدیع ہے۔ فقرہ فقرہ میں فصاحت ہے، لفظ لفظ میں بلاغت ہے۔ جس کو ذہنِ سلیم اور فکرِ رسا کا عطیہ حاصل ہے وہ اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہر ہر شعر اس کا غواصانِ دریائے فکر کے لیے گوہرِ آبدار ہے۔ یہی راستی کا اظہار ہے۔ اس میں لاف و گزاف کو دخل ہے نہ مبالغہ شاعری کی نقل ہے بلکہ اس سراپا مخزن برکات میں حمدِ الٰہی، نعتِ نبی، مدحِ خلفائے راشدین و اہلِ بیتؓ کے ساتھ ساتھ قومی نظمیں بھی درج ہیں گو کہ میں علمی میدان میں پسماندہ ہوں مگر مذاقِ سخن سے بے بہرہ نہیں ہوں۔"

 

حوالہ جات

]۱[ وانمباڑی میں اردو ادب کی ایک صدی -   جلال عرفان

]۲[ مدحِ پیغمبر الٰہ — خطیب قادر بادشاہؔ

]۳[ کلیات مغموم -   اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ

]۴[ واقعاتِ عالم -   خطیب قادر بادشاہؔ

]۵[ یادگارِ شرر -   خطیب عبدالرشید

]۶[ گلزارِ بادشاہ — خطیب قادر بادشاہ

]۷[ آپ کے کلام کا قلمی نسخہ (جو فی الوقت میرے پاس محفوظ ہے۔ 


یہ مقالہ شعبۂ اردو مظہرالعلوم کالج (خود مختار) آمبور اور تنظیم فروغ اردو تمل ناڈو کے زیر اہتمام سیمینار میں پیش کیا گیا اور اس سیمینار کے زیر اہتمام شائع کتاب "تمل ناڈو کے ادباء و شعراء کی ادبی خدمات" میں شامل ہے۔ بشکریہ ڈاکٹر مفتی تمیم احمد قاسمی صاحب اور ڈاکٹر کلیم اللہ صاحب۔۔۔

---٭---٭---٭---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. بہترین مبارکباد پیش کرتا ہوں

    ReplyDelete
    Replies
    1. جزاکم اللہ خیرا کثیرا محترم۔

      Delete
  2. Great work, he is my grand father. I feel really proud today

    ReplyDelete
  3. I am delighted to see the photo of an unsung freedom fighter, Abdul Majeed Sharar Alanduri, Editor of Qaumi Report, Madras. It's interesting to know that a Mushaira was conducted in 1925 to condole his death, and a collection of poems titled YAAD GAR E SHARAR was published in 1927 by Mahmood Sahib. This serves as a valuable historical source to learn more about Mahmood Sahib's life and contributions. The book would be informative to know more about the life and services of this freedom fighter. Ehsan sb, May Allah guide you in your future endeavour.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thank you so much sir. Jazakallahu Khairan Kaseera

      Delete

Post a Comment