ایلگری پہاڑ - آج سے ستر برس پہلے

ایلگری پہاڑ - آج سے ستر برس پہلے

احسان احمد کے (وانمباڑی، تمل ناڈو(

ایلگری پہاڑ وانمباڑی، آمبور، تروپاتور اور اطراف و اکناف کے لوگوں کے لیے کئی برسوں سے ایک معروف سیاحتی مقام رہا ہے۔ اسے Poor Man’s Ooty یعنی "غریبوں کی اُوٹی" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ دس بیس برسوں میں ایلگری میں متعدد ہوٹل، تھیم پارکس، دکانیں اور دیگر سہولیات قائم ہوئی ہیں، جن کے باعث اب یہ مقام نہ صرف اس علاقے کے لوگوں بلکہ مدراس اور بنگلور جیسے بڑے شہروں کے باشندوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیلات اور دیگر چھٹیوں کے مواقع پر یہاں سیاحوں کی کثیر تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔

جب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایلگری کی تاریخ کیا ہے اور یہاں انسانی آبادی کب سے موجود ہے، تو ویکی پیڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایلگری کا قدیم ترین تذکرہ بارہویں صدی عیسوی میں تمل شاعر اوٹاکوتھر (Ottakoothar) نے اپنی ایک تصنیف میں کیا ہے۔ ویکی پیڈیا کے مطابق یہ خطہ، جو ایک زمانے میں سلطنتِ وجے نگر اور بعد ازاں سلطنتِ میسور کے زیرِ انتظام رہا، انیسویں صدی کے اوائل میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں آیا۔ انیسویں صدی کے دوران ملئی ویلالر (Malai Vellalar) قبائل یہاں آباد ہوئے۔ 1857ء کے بعد یہ علاقہ انگریزوں کے زیرِ اقتدار رہا اور آزادی کے بعد ریاستِ تمل ناڈو کا حصہ بن گیا۔

اس مضمون کا اصل مقصد ایلگری کی عمومی تاریخ بیان کرنا نہیں، بلکہ آج سے تقریباً ستر پچھتر برس پہلے ایلگری کی سیر کے بارے میں لکھے گئے دو نہایت دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کرنا ہے، جو اسلامیہ کالج کے سالانہ مجلے مشعلکے قدیم شماروں میں محفوظ ہیں۔

چند ماہ قبل مجھے اسلامیہ کالج وانمباڑی کے سالانہ مجلے مشعل کے چند پرانے شمارے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان شماروں میں کالج کے ایک کلب "ریمبلرز (Ramblers)" تذکرہ ملتا ہے، جو طلبہ کے لیے اساتذہ کی معیت میں تفریحی اور مطالعاتی دوروں کا اہتمام کرتا تھا۔ اسی کلب کے تحت طلبہ اور چند اساتذہ نے 1949ء میں آلنگائم کا سفر کیا اور 1950ء میں ایلگری کی سیر کی۔

مشعل کے مطابق 1950ء سے 1961ء کے درمیان اسلامیہ کالج کی جانب سے طلبہ نے پانچ مرتبہ ایلگری کا سفر کیا۔ یہاں میں ان میں سے دو واقعات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

پہلا واقعہ: 1950ء کا سفر

1950ء میں اسلامیہ کالج کے آٹھ طلبہ اور دو لیکچررز نے ایلگری کا سفر کیا۔ اُس زمانے میں ایلگری کی چوٹی تک جانے کے لیے کوئی پختہ راستہ موجود نہ تھا۔ اوپر پہنچنے کے لیے پہاڑ کی دشوار گزار چڑھائی طے کرنی پڑتی تھی۔ سڑک کی تعمیر بہت بعد میں، یعنی 1962ء میں ہوئی۔ اس کے باوجود اُس وقت بھی ایلگری میں ایک مختصر آبادی موجود تھی، جس میں ایک پوسٹ آفس، ایک اسکول، چند جھونپڑیاں اور دو انگریزوںمسٹر براؤن اور مسٹر ڈالٹن کے زیرِ ملکیت فارم ہاؤسز شامل تھے۔

یہ قافلہ صبح سویرے چار بجے ہاسٹل سے روانہ ہوا۔ ریل گاڑی کے ذریعے جولارپیٹ پہنچا، جہاں اسٹیشن کے باہر ایک ہوٹل میں ناشتہ کیا گیا۔ اس کے بعد چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہ لوگ پیدل پہاڑ کے دامن تک پہنچے، اور پھر اصل چڑھائی شروع ہوئی۔

چڑھائی ہرگز آسان نہ تھی۔ بعض طلبہ نے تو بغیر جوتوں کے ہی یہ دشوار مرحلہ طے کیا۔ بڑی مشقت کے بعد جب یہ لوگ اوپر پہنچے تو ایک چھوٹا سا گاؤں نظر آیا، جہاں کہیں کہیں کھیتی باڑی کی گئی تھی، گھنے درخت تھے اور تازہ ہوا چل رہی تھی۔ کچھ دیر آرام کے بعد دیکھا کہ جھونپڑیوں سے مقامی لوگ باہر نکل کر ان مہمانوں کا استقبال کر رہے ہیں۔

قافلہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچا اور ایک بڑے درخت کے سائے میں پڑاؤ کیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا پرائمری اسکول بھی نظر آیا، جس پر ترنگا لہرا رہا تھا۔ امرود، کیلے اور دیگر پھل درختوں سے توڑ کر کھائے گئے۔ تفریح کے لیے تاش کھیلی گئی، گانے گائے گئے، اور ساتھ لائی گئی اشیاء سے دوپہر کا کھانا تیار کیا جانے لگا۔

مگر اچانک موسم نے کروٹ لی اور بارش شروع ہو گئی۔ اصل منصوبہ تو شام تک واپس لوٹ آنے کا تھا، لیکن موسلا دھار بارش کے باعث یہ ممکن نہ رہا۔ چنانچہ سب کو ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رات گزارنی پڑی۔ چاروں طرف گھنا جنگل تھا اور جنگلی جانوروں کا خدشہ بھی محسوس ہو رہا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق رات کے وقت شیر اور چیتے بھی اِدھر اُدھر نکلتے تھے۔

ایسے میں رات دیر تک تاش کھیلنے، گانے گانے اور باتیں کرنے میں گزری۔ بہت رات گئے جا کر سب سوئے۔ اگلی صبح سویرے اٹھے، چائے بنائی، اور قریب سات بجے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ صبح کا منظر اس قدر دل کش تھا کہ مصنف کے الفاظ میں یوں محسوس ہوتا تھا گویا دنیا ہی میں جنت آباد ہو۔ آہستہ آہستہ پہاڑ سے نیچے اترے، جولارپیٹ پہنچے، اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے دوپہر کے قریب وانمباڑی واپس آ کر آرام کیا۔

دوسرا واقعہ: پرنسپل ایس۔ عبدالقادر صاحب کا سفرنامہ

دوسرا واقعہ اسلامیہ کالج کے اُس وقت کے پرنسپل ایس۔ عبدالقادر صاحب نے قلم بند کیا ہے، اور یہ بھی نہایت دلچسپ اور تصویری کیفیت لیے ہوئے ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ اس سفر میں اُن کے ساتھ تین اور اصحاب شامل تھے: شکور صاحب، زکریا صاحب اور قدوس صاحب۔ یہ چاروں وانمباڑی سے کار کے ذریعے جولارپیٹ پہنچے۔ وہاں اسپینسر نامی ہوٹل میں سوا چھ بجے ناشتہ کیا۔ جولارپیٹ سے کچھ فاصلے پر دو اور حضرات ان کے ساتھ شامل ہو گئے: جان صاحب اور عبداللہ صاحب۔

اس کے بعد کار سے اتر کر پیدل سفر شروع ہوا۔ ان کے ساتھ کھانے پینے کی کچھ اشیاء اور پھل وغیرہ بھی تھے۔ ایک صاحب کے پاس کیمرا تھا اور ایک کے پاس شکار کے لیے فرینچ بندوق۔

جب یہ لوگ پہاڑ کے دامن تک پہنچے تو ان میں سے تین افراد الگ الگ ڈھولیوں میں سوار ہو گئے۔ ہر ڈھولی کو آٹھ آدمی اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے، جنہیں مقامی زبان میں بھوگی کہا جاتا تھا۔ باقی تین افراد نے پیدل چڑھنے کو ترجیح دی۔

نیچے سے اوپر تک کے اس سفر میں ڈھولیوں کو صرف دو مرتبہ روکا گیا۔ جب یہ لوگ اوپر پہنچے تو ایک اسکول کے قریب پڑاؤ کیا۔ سب کے جمع ہو جانے کے بعد یہ قافلہ براؤن نامی ایک انگریز کے فارم ہاؤز پہنچا۔

وہاں مسٹر براؤن سے ملاقات ہوئی، جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ کئی برسوں سے ایلگری میں مقیم تھے۔ انہوں نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا، خاطر تواضع کی، اور دوپہر کا کھانا بھی کھلایا۔ اس کے بعد فارم ہاؤز کا معائنہ کرایا گیا، جہاں ایک خوب صورت باغیچہ تھا، جو طرح طرح کے پھولوں سے سجا ہوا تھا۔ اس سے متصل کاشت کی زمین بھی تھی، جہاں مختلف سبزیاں اور پھل اُگائے جاتے تھے۔

آخر میں مہمانوں کی چائے سے تواضع کی گئی، جس کے بعد اُسی روز واپسی کا سفر شروع ہوا۔ اس بار تمام افراد نے خود ہی پیدل اترنے کا فیصلہ کیا۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک لمبی لکڑی تھی، جس کے سہارے وہ نیچے اتر رہے تھے۔ لیکن پرنسپل صاحب آدھے راستے تک پہنچ کر تھک گئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بھوگیوں کو ڈھولی سمیت واپس بھیجا جائے۔ کافی دیر انتظار کے بعد بھوگی ڈھولی لے کر آئے، اور پھر وہ اس میں سوار ہو کر باقی سفر طے کر سکے۔

بعد کے تفریحی دورے

مشعل کے بعد کے شماروں میں بھی مختلف مقامات کی سیر و تفریح کی تفصیلات ملتی ہیں۔ مثلاً:

  • 1951ء: مہابلی پورم اور ایلگری
  • 1952ء: میسور اور ویسٹ کوسٹ
  • 1953ء: میٹور ڈیم، میسور، تُنگابدرا ڈیم اور ہمپی
  • 1954ء: ایلگری، ترووَنّامَلَے، سینجی کا قلعہ، چدمبرم اور پانڈیچری

اگرچہ ریمبلرز کلب بعد میں ختم ہو گیا، لیکن دوروں اور تفریحی سرگرمیوں کی روداد مشعل میں مسلسل شائع ہوتی رہی۔

آج جب ہم ایلگری کو ایک نسبتاً ترقی یافتہ اور مصروف سیاحتی مقام کے طور پر دیکھتے ہیں، تو یہ اندازہ کرنا آسان نہیں کہ صرف ستر پچھتر برس پہلے یہاں تک پہنچنا خود ایک مہم سے کم نہ تھا۔ نہ پختہ سڑک، نہ ہوٹلوں کی قطار، نہ تفریحی پارک، نہ موجودہ سہولیات، صرف پہاڑی راستے، چند جھونپڑیاں، ایک اسکول، ایک پوسٹ آفس، اور فطرت کی خاموش عظمت۔

اسلامیہ کالج کے طلبہ اور اساتذہ کے یہ سفرنامے نہ صرف اُس زمانے کی سیاحتی روایت کو محفوظ کرتے ہیں، بلکہ ہمارے علاقے کی تعلیمی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کا بھی ایک قیمتی باب سامنے لاتے ہیں۔ یہ تحریریں ہمیں بتاتی ہیں کہ اُس دور میں تفریح محض سیر نہیں تھی، بلکہ جستجو، مشقت، رفاقت اور مشاہدہ کا ایک زندہ تجربہ تھی۔

یہ مضمون پندرہ روزہ رسالہ"زبانِ خلق" کے 6 جون 2026ء کے شمارے میں بھی شائع ہوا۔

--*--**--*--







Comments

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. احسان صاحب کا یہ مضمون بہت دلچسپ ہے ۔

    ReplyDelete
  3. برادر احسن۔۔۔
    آپ نے، پہاڑوں کی شہزادی ایلیگری کے بارے میں بہت ہی دلچسپ معلومات نہایت ہی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
    میں اپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے شہر وانمباڑی اور اطراف و اکناف کے علاقوں کے بھولی بسری یادوں کو ہم سے لوگوں تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

    ReplyDelete
  4. محمد حنیف کاتب25 April 2026 at 18:00

    ایلگری پہاڑ پر تمھارا مضمون کافی دلچسپ اور معلوماتی رہا۔ اسے پڑ ھ کر مجھے اپنا وہ ایڈونچرس سفر یاد آگیا جس میں میرے عزیز دوست سیدُقادر باشا مرحوم میرے ساتھ تھے-اللہ ان کی مغفرت فرمائے۱۹۶۵ کا سال رہا ہوگا-ہم دونوں جولاںرپیٹھ پہنچے۔ مجھے مدراس کی ٹرین کی بکنگ کرانی تھی۔ دوپہر کے چار یا پانچ بجے ہونگے۔ جو نکہ مجھے تب تک ایلگری جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میں نے قادر باشاسے کہا کہ چلو ایلگری کا ایک چکر لگاتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن کے باہر سے ترپاتور سے ایلگری جانے والی بس میں سوار ہوئے۔ دورانِ سفر پتہ چلا کہ یہ بس اوپر پہنچ کر دس پندرہ منٹ رکے گی اور پھر واپس ہوجائیگی۔ یعنی یہ آخری بس تھی۔ ہم نےکہا کہ اوپر چل کر سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔
    بس زگ زیگ پہاڑی راستںوں سے گزرتی ہوئ اوپر جارہی تھی۔شام ڈھل رہی تھی جب بس اپنے آخری پڑاؤ پر پہنچی۔بس میں جو اکا دکا لوگ سوار تھے نیچے اتر گئے۔ ہم نے بھی بس سے اتر کرادھر ادھر نظر دوڑائی۔یہاں پر دو ایک میں چائے کے ہوٹل تھے۔ - بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کے ساتھ ہم نے بھی چائے پی۔ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ آخری بس بھی نکل پڑی۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے دریافت کرنے کے بعد پیدل ہی چلنے کی ٹھانی - اللہ کانام لیکر چل پڑے- اتفاق سے چاندنی رات تھی۔ چند قدموں تک راستہ دکھائی دے رہا تھا-دور افق پر شفق کی نارنجی دھاریاں اندھیرے میں مدغم ہو رہی تھیں-عجیب طلسماتی منظر تھا۔ دور داہنی جانب وانمباڑی کی برقی روشنیاں جھلملارہی تھیں- نیچے جولار پیٹھ اور اس سے پرے بائیں جانب ترپاتور کی روشنیاں روشن نقطوں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ چاروں طرف خاموشی سائیں سائیں کر رہی تھی- تارکول کی نیچے جاتے ہوئی سڑک پر ہم قدم قدم چلتے رہے۔ شکر اللہ کا کہ کسی ڈاکو لٹیرے یا جنگلی جانوروں سے پالا نہیں پڑا۔شاہراہ تک پہنچتے پہنچتے پاؤں من من بھر کے ہو رہے تھے۔ بس ملنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ رات کے تقریباًگیارہ بج رہے تھے۔گویا ہم نے چودہ کیلو میٹر کا سفر تقریباً چار گھنٹوں میں پیدل طے کیا تھا- ہم ایک لاری پکڑ کر وانمباڑی بس اسٹینڈ تک پہنچے۔ بھوک اور تھکن سے برا حال تھا۔ مدراس ہوٹل میں ڈٹ کر کھاناکھایا اوور گھر پہنچ کر لمبی تان کر سوئے - یہ ہمارے لئے ایک تاریخی سفر تھا جس کے نقوش آج بھی روشن ہیں۔

    ReplyDelete
  5. Good information bahi

    ReplyDelete

Post a Comment