وانمباڑی کے وہ چراغ جنہیں خان صاحب، خان بہادر اور سر کے خطابات ملے

وانمباڑی کے وہ چراغ

جنہیں خان صاحب، خان بہادر اور سر کے خطابات ملے

از قلم: کے۔ احسان احمد (وانمباڑی، تملناڈو)

آج کے زمانے میں ہندوستان کی حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو پدم شری، پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتنا جیسے اعزازات دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح انگریزوں کے دورِ حکومت میں برطانوی حکومت کی طرف سے انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم، عوامی خدمت اور سماجی کاموں میں نمایاں کارنامے انجام دینے والوں کو مختلف اعزازات سے نوازا جاتا تھا۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کے لیے الگ الگ اعزازات مقرر تھے، مثلاً مسلمانوں کو خان صاحب، خان بہادر، نواب، نواب بہادر وغیرہ، ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں اور جینوں کو رائے صاحب، رائے بہادر، راجا، مہاراجہ وغیرہ، سکھوں کو سردار صاحب، سردار بہادر اور عیسائیوں کو نائٹ کمانڈر وغیرہ۔ اسی طرح سر، سی۔ آئی۔ ای (CIE – Companion of the Most Eminent Order of the Indian Empire)، سی۔ ایس۔ آئی (CSI – Companion of the Most Exalted Order of the Star of India)، کے۔ سی۔ ایس۔ آئی (KCSI – Knight Commander of the Order of the Star of India) اور کے۔ سی۔ آئی۔ ای (KCIE – Knight Commander of the Order of the Indian Empire) جیسے اعزازات تمام مذاہب کے افراد کو دیے جاتے تھے ان میں مذہب کی کوئی قید نہیں تھی۔

تمل ناڈو کے مردم خیز شہر وانمباڑی میں بھی ایسی شخصیات گزری ہیں جن کے کارناموں کو سراہتے ہوئے برطانوی حکومت نے انہیں سر، خان صاحب اور خان بہادر جیسے خطابات سے نوازا۔ اس مضمون میں پانچ ایسی شخصیات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے قوم و ملت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کے اعتراف میں اس وقت کی حکومت نے انہیں مختلف اعزازات عطا کیے۔ نیواسل عبدالوھاب صاحب کو خان صاحب کے خطاب سے نوازا گیا، جبکہ ملنگ حیات بادشاہ صاحب، ٹی۔ امین الدین صاحب اور تکڑی بدرالدین صاحب کو خان بہادر کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ خطیب احمد حسین صاحب، معروف بہ امین جنگ بہادر، کو سی۔ ایس۔ آئی (CSI)، کے۔ سی۔ آئی۔ ای (KCIE)، کے۔ سی۔ ایس۔ آئی (KCSI) اور سر کے خطابات عطا کیے گئے۔

تکڑی بدرالدین صاحب، ملنگ حیات بادشاہ صاحب اور ٹی۔ امین الدین صاحب مخیر، صاحبِ بصیرت اور باکردار شخصیات تھے، جنہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول کی مضبوط بنیاد رکھنے اور اس کی تاریخی عمارت کی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

نیواسل عبدالوھاب صاحب (المتوفی 1942ء)

نیواسل عبدالوھاب صاحب وانمباڑی کے ایک نامور اور دریا دل شخص تھے جن کی سخاوت اور عوامی خدمت کی مثال آج تک قائم ہے۔ وانمباڑی گورنمنٹ ہسپتال، جو فیاضی، عوامی خدمت اور دور اندیش قیادت کی ایک روشن علامت ہے، دراصل ان ہی کے جذبۂ خیر اور نیک نیتی کا عملی مظہر ہے۔ ان کی خواہش اور منصوبے کے مطابق، 1948ء میں عوامی صحت اور سماجی فلاح کے جذبے کے تحت ان کی ذاتی ملکیت میں قائم اسکول کی عمارت کو ہسپتال میں تبدیل کر کے وانمباڑی میونسپلٹی کے حوالے کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بالخصوص غریب اور ضرورت مند خواتین اور بچوں کو ضروری طبی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔

1948ء سے 1958ء تک اس ہسپتال کا انتظام وانمباڑی میونسپلٹی کے زیرِ اہتمام رہا۔ 1958ء میں حکومتِ تمل ناڈو نے اس کی عوامی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا انتظام سنبھال لیا اور اس کا نام گورنمنٹ ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال رکھا۔ تب سے یہ ہسپتال مسلسل عوام کی خدمت انجام دے رہا ہے۔

نیواسل عبدالوھاب صاحب کی خدمات صرف ہسپتال تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے وانمباڑی میونسپلٹی آفس کی عمارت بھی عطیہ کی۔ اس کے علاوہ شہر وانمباڑی کے علاقہ قلعہ میں واقع میونسپل اسکول بھی ان ہی کی عطا ہے۔ خواتین کے لیے مخصوص نیواسل عبدالوھاب لیڈیز پارک بھی انہوں نے عوام کے لیے وقف کیا۔

1914ء میں تکڑی بدرالدین صاحب کی زیرِ صدارت ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا، جس میں مسلم سوسائٹی کے نام سے ایک ملی اور انقلابی ادارہ قائم کیا گیا۔ اس جلسے میں ملنگ حیات بادشاہ صاحب اور نیواسل عبدالوھاب صاحب بھی شریک تھے اور دونوں اس ادارے کے تاسیسی اراکین میں شامل تھے۔

آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی سے بھی گہرے طور پر وابستہ رہے اور سماجی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ آپ 1935ء سے 1942ء تک انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کے ناظمِ اوقاف (ٹرسٹی) رہے۔ 1933ء سے 1938ء تک مسلسل انجمن کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1938ء سے اپنی وفات 1942ء تک آپ مذکورہ انجمن کے صدر رہے۔

جب انجمن خیر خواہ عام کی جانب سے مدرسۂ نسوان قائم کیا گیا اور اس کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کیا جانے لگا تو آپ نے اس میں بھرپور حصہ لیا اور دل کھول کر عطیات دیے۔ انجمن خیر خواہ عام کے معاونینِ خصوصی کی فہرست میں بھی آپ کا نام شامل ہے، جنہوں نے ابتدا ہی سے انجمن کی تائید کی اور اسے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ نہ صرف آپ بلکہ آپ کی اہلیہ نے بھی مدرسۂ نسوان کی بھرپور تائید فرمائی۔ آپ کی اہلیہ ان ممتاز خواتین میں شامل تھیں جو ملی اور سماجی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔

آپ کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومتِ برطانیہ نے جون 1941ء میں آپ کو خان صاحب کے خطاب سے نوازا۔

نیواسل عبدالوھاب صاحب کا انتقال 1942ء میں ہوا۔ آپ کی وفات پر انجمن خیر خواہ عام کی میٹنگ منعقدہ 21 دسمبر 1942ء میں تعزیتی قراردادیں منظور کی گئیں۔

نیواسل خاندان آج بھی ان کی فکر اور مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے زمین اور وسائل فراہم کرتا آ رہا ہے اور وانمباڑی کے عوام کی بہبود کو اپنی اولین ترجیح دیتا ہے۔

نیواسل عبدالوھاب صاحب واقعی ایک عظیم، نیک دل اور دریا صفت انسان تھے۔ ان کی بے لوث خدمات اور عوامی بھلائی کے کام ہمیشہ وانمباڑی کے لوگوں کے دلوں اور تاریخ میں زندہ رہیں گے۔

ملنگ حیات بادشاہ صاحب (المتوفی 1917ء )

ملنگ حیات بادشاہ صاحب وانمباڑی کی اُن ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی فیاضی اور عوامی خدمت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ آپ وانمباڑی محمڈن ایجوکیشنل سوسائٹی، جسے اب وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ آپ 1905ء سے اپنی وفات 1917ء تک وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ٹرسٹی رہے۔

1912ء میں ملنگ حیات بادشاہ صاحب اور ملنگ حاجی عبدالرحمٰن صاحب نے اسلامیہ ہائی اسکول کی سرخ عمارت کی بالائی منزل کی تعمیر کے لیے 15,000 روپے عطیہ کیے۔ عطیہ دہندگان کے نام پر اس عمارت کا نام "ملنگ منزل" رکھا گیا۔

1914ء میں ملنگ حیات بادشاہ صاحب نے کولار گولڈ فیلڈز میں واقع پانچ مکانات عطیہ کیے۔ 1915ء میں لارڈ پینٹ لینڈ میموریل عمارت تعمیر کی گئی، جس کے لیے ملنگ حیات بادشاہ صاحب، ٹی۔ امین الدین صاحب اور تکڑی بدرالدین صاحب نے بالترتیب 2,500 روپے کے عطیات دیے۔

آپ اور آپ کے چچا اور خسر ملنگ عبدالرحمٰن صاحب کی دریا دلی اور فراخ دلی کا تذکرہ خطیب قادر بادشاہ صاحب نے اس نظم میں یوں کیا ہے:

حاجی ملنگ عبدالرحمٰن جو باوقر ہیں

نواسی کا عقد ان کے ہے جس کی یہ بشاشت

داماد حاجی صاحب یعنی حیات پاشا

ہمزلف کی ہے ان کے دختر یہ نیک طینت

داماد اور خسر کی توصیف کیا کریں ہم

مشہور خلق ہر جا دونوں کی ہے تجارت

خلق و کرم میں دونوں عالم میں ہیں یگانہ

منظور اُن کو ہر دم ہے قوم کی حمایت

تعلیم کے لیے وہ روپے دیے ہزاروں

والا ہے بذل ان کا عالی ہے ان کی ہمت

اہل وطن ہیں ان کے مالوف جان و دل سے

ہے نقش ان کے دل میں اپنے وطن کی الفت

یہ انجمن ہماری ہے خیرخواہ اُن کی

محسن ہیں وہ ہمارے ہم پر ہے ان کی منت

تعریف محسنوں کی ہے فرض انجمن پر

ان کے ہر اک خوشی میں لازم ہے اپنی شرکت

یہ اشعار ملنگ حاجی عبدالرحمٰن صاحب، ملنگ حیات بادشاہ صاحب اور ان کے خاندان کی عزت، باہمی رشتوں اور سماجی خدمات کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر نے ان کی تجارت، سخاوت، تعلیم کے لیے مالی تعاون اور قوم و وطن سے محبت کو سراہا ہے۔ نظم مجموعی طور پر انہیں انجمن کے محسن اور معاشرے کے قابلِ قدر افراد کے طور پر پیش کرتی ہے۔

آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی سے بھی منسلک رہے۔ 1914ء میں آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کی مجلسِ منتظمہ کے رکن تھے۔ آپ 1915ء سے اپنی وفات 1917ء تک انجمن کے ناظمِ اوقاف (ٹرسٹی) رہے۔ انجمن کی ابتدائی تقویت میں آپ کا کردار نمایاں رہا۔

انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کی قائم کردہ مدرسۂ نسوان 1914ء کے اواخر تک کرایہ کے مکانوں میں مختلف شاخوں کی صورت میں جاری رہا، کیونکہ اس وقت کوئی ایسا بڑا مستقل مکان موجود نہیں تھا جہاں تمام طالبات کے لیے گنجائش نکل سکے۔ ابتدا ہی سے کارکنانِ مدرسہ کو یہ فکر لاحق تھی کہ مدرسے کے لیے ایک مستقل عمارت تعمیر کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کی ایک جھلک اس صورت میں دکھائی کہ ملنگ حیات بادشاہ صاحب نے اپنے عمِ بزرگوار مرحوم ملنگ حاجی عبدالرحمٰن صاحب کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ڈھائی ہزار روپے بطور وظیفہ عطا فرمائے۔ اس رقم میں چھ سو روپے بطور عطیہ شامل کر کے مجموعی طور پر تین ہزار ایک سو روپے کی لاگت سے اقبال روڈ میں مدرسہ کی زمین کے مغربی جانب ایک وسیع مکان خرید کر وقف کر دیا گیا (جس میں اس وقت طالبات کے لیے ہاسٹل قائم ہے)۔ اس مکان میں مدرسۂ نسوان کی بڑی شاخ منتقل کر دی گئی۔

1914ء میں مدرسہ کے سرمایہ فنڈ کی ایک خطیر رقم وصول ہوئی، جس میں ملنگ حیات بادشاہ صاحب کی عطیہ کردہ 2,000 روپے شامل تھے۔ 31 جنوری 1915ء کو ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعمیرِ مدرسہ فنڈ کی مستقل فہرست کھولی گئی، اور اس میں بھی ملنگ حیات بادشاہ صاحب کے عطیہ کردہ 2,000 روپے شامل تھے۔

  

آپ کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ برطانیہ نے جون 1915ء میں آپ کو خان بہادر کے خطاب سے نوازا، جس پر خطیب قادر بادشاہ صاحب نے ایک نظم کہی جو انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کی جانب سے پیش کی گئی۔

تاجر ذی وقار ہو تم اے حیات بادشاہ

باعث افتخار ہو تم اے حیات بادشاہ

نیک صفات نیک دل نیک مزاج نیک خو

اوروں کو شعار ہو تم اے حیات بادشاہ

قوم کی خدمتیں ادا تم نے کئے ہیں بے حساب

قوم کے غمگسار ہو تم اے حیات بادشاہ

خان بہادری خطاب تم کو ملا بجا ملا

اس کے ہی سازوار ہو تم اے حیات بادشاہ

شک نہیں اس میں کچھ ذرا بحر عطا وجود کے

گوہر شاہوار ہو تم اے حیات بادشاہ

جود و عطا کو دیکھ کر کہتے ہیں خادمانِ قوم

رحمت کردگار ہو تم اے حیات بادشاہ

رنگ سے بو سے جس کے ہے تازہ ہر اک دل و دماغ

وہ گلِ نو بہار ہو تم اے حیات بادشاہ

صدق سے تہنیت ادا کرتی ہے آج انجمن

خلق میں نا م دار ہو تم اے حیات بادشاہ

وصف ہو کس طرح رقم خامۂ بادشاہ سے

لائق و شاندار ہو تم اے حیات بادشاہ

یہ نظم ملنگ حیات بادشاہ صاحب کی شخصیت، کردار اور خدمات کا خراجِ تحسین ہے۔ شاعر نے ان کی دیانت، نیک سیرتی، قوم کی خدمت اور خان بہادر کے خطاب کو ان کی اہلیت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مجموعی طور پر نظم انہیں معاشرے کے لیے باعثِ فخر اور قابلِ تقلید شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

آپ کی قبر پر موجود کتبہ پر یہ قطعاتِ تاریخ لکھے گئے ہیں، جن کے آخری مصرع سے آپ کی وفات کا سال 1335 ہجری، یعنی 1917ء برآمد ہوتا ہے:

عیدالضحیٰ کے روز وہ واصل جان بحق ہوا

یعنی ملنگ خوش سیر خادم قوم و خیرخواہ

چھوٹا جو قلب نبض تو ہاتف غیب نے کہا

سایہ قرب حق میں ہے آج حیات بادشاہ

ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات عیدالاضحیٰ کے روز ہوئی، جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کا انتقال 28 ستمبر 1917ء، بروز جمعہ ہوا۔

آپ کی وفات پر مدراس کے مشہور شاعر اسمٰعیل سیٹھ مغموم صاحب نے درج ذیل قطعہ تاریخ لکھا تھا جس کے آخری مصرع سے آپ کی وفات کا سال 1335 ہجری یعنی 1917ء ظاہر ہوتا ہے۔

حکم قضا نہ ٹل سکا آہ جہاں سے چل بسا

رحمت حق ہو چارہ ساز اور حیات بادشاہ

میری ہے التجا یہی سالِ وفات بھی یہی

وقف ہو لطف بے نیاز اور حیات بادشاہ

ملنگ حیات بادشاہ صاحب کی وفات پر میرے دادا کشنگری حیدرالحسن حیدرؔ صاحب کے بڑے بھائی کشنگری محمودالحسن محمودؔ صاحب نے درج ذیل نظم کہی:

نالۂ پر درد سے ہے لب پہ فریاد و فغاں

فرط غم سے شق جگر ہے اور آنکھیں انہلال

کس کے غم میں آج سر پر خاک اُڑاتی ہے زمیں

کیوں نظر آتا ہے ہر پیروجواں آشفتہ حال

اُٹھ گیا ہے وہ سخی ابن سخی ابن سخی

وانمباڑی یہ جس کے دم سے تھا فرخندہ فال

شان رحمت سے تری ہرگز نہیں ہے یہ بعید

نعمت فردوس سے کر بہرہ ور اے ذوالجلال

برمحل محمودؔ کو ہاتف سے آئی یہ ندا

لکھ سن ہجری – حیات بادشاہ کا انتقال

یہ اشعار ملنگ حیات بادشاہ صاحب کی وفات پر کہے گئے ہیں۔ شاعر اس نظم میں وانمباڑی کی فضا میں چھائے ہوئے غم، لوگوں کی بے قراری اور دلوں کی شکستگی کو بیان کرتا ہے۔ مرحوم کو ایک عظیم سخی، نیک دل اور قوم کا محسن قرار دیا گیا ہے جن کے وجود سے وانمباڑی خوش بختی کی علامت تھی۔ شاعر آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس کی نعمتوں سے نوازے، اور پھر ایک الہامی اشارے کے ذریعے "حیات بادشاہ کا انتقال" کے الفاظ میں سالِ وفات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ملنگ حیات بادشاہ صاحب کی وفات پر انجمن خیر خواہ عام کی میٹنگ منعقدہ 4 اکتوبر 1917ء میں تعزیتی قراردادیں منظور کی گئیں۔

آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے اہلِ خاندان نے آپ کی خدمات کے مشن کو جاری رکھا۔

ملنگ حیات بادشاہ صاحب ایک بلند کردار، صاحبِ دل اور فیاض انسان تھے، جن کی عوامی خدمات وانمباڑی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ٹی۔ امین الدین صاحب (المتوفی 1927ء)

ٹی۔ امین الدین صاحب وانمباڑی کے اُن معزز اور نامور افراد میں شمار ہوتے تھے جن کی سخاوت اور خدمتِ خلق کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔

آپ 1905ء سے 1921ء تک وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ٹرسٹی رہے۔ 4 ستمبر 1907ء کو اسلامیہ ہائی اسکول کی سرخ عمارت کے تعمیراتی فنڈ کے لیے جب عطیات کا اعلان کیا گیا تو ٹی۔ امین الدین صاحب نے 3,500 روپے کا عطیہ پیش کیا۔ انہوں نے تعمیراتی فنڈ کے لیے مزید 5,000 روپے عطیہ کیے اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً 20,000 روپے مالیت کی ایک جائیداد بھی سوسائٹی کے حوالے کی، جس سے ماہانہ 75 روپے کی آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ ان عطیات کے علاوہ، جن کی مجموعی رقم تقریباً 30,000 روپے بنتی ہے، وہ کئی برسوں تک باقاعدگی سے ماہانہ 100 روپے کا چندہ بھی ادا کرتے رہے۔

وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے 1912ء کے اجلاس میں، جس کی صدارت معزز جسٹس عبدالرحیم صاحب نے فرمائی، یہ قرارداد منظور کی گئی کہ ہاسٹل کو ایک مستقل ادارے کی حیثیت دی جائے اور اس کے لیے ایک موزوں عمارت تعمیر کی جائے۔ اسی موقع پر 10,000 روپے جمع کرنے کا اعلان کیا گیا، جن میں سے 8,000 روپے فوراً وصول ہو گئے۔ اس میں ٹی۔ امین الدین صاحب کا عطیہ 1,003 روپے، تکڑی بدرالدین صاحب کا عطیہ 1,000 روپے اور دیگر حضرات کے عطیات شامل تھے۔

آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی سے بھی منسلک رہے۔ آپ نے انجمن کے قیام اور استحکام میں فعال حصہ لیا۔ 1914ء میں آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کی مجلسِ منتظمہ کے رکن تھے۔ 1922ء سے 1927ء تک آپ نے انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ انجمن خیر خواہ عام کے ایک جلسے کے لیے خطیب قادر بادشاہ صاحب کی لکھی گئی ایک نظم کے چند اشعار ذیل میں درج ہیں، جن میں ٹی۔ امین الدین صاحب کی سخاوت کو سراہا گیا ہے۔

چندہ دس روپے ماہوار دیے
ایک عالی نشان گوئندپور
نام اسکا ہے ٹی۔ امین الدین
زبدۂ تاجران گوئندپور
اور بھی حسب حوصلہ چندہ
دیے سب عمدگان گوئندپور

1910ء میں انجمن خیر خواہ عام کی جانب سے جب مدرسۂ نسوان کا قیام عمل میں آیا تو ٹی۔ امین الدین صاحب نے مدرسۂ نسوان کے لیے سالانہ ایک سو بیس روپے چندہ دینے کے علاوہ ایک نیا مکان بھی مدرسے کے لیے وقف کیا۔

12 اکتوبر 1912ء کو تعمیرِ جدید کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، جس موقع پر شہر کے بے شمار حضرات نے تعمیر فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس موقع پر ٹی۔ امین الدین صاحب نے بھی 750 روپے کا عطیہ پیش کیا۔

11 فروری 1923ء کو منعقدہ اجلاس میں جب یہ طے پایا کہ عمارت کی تکمیل کے لیے جمع شدہ سرمایہ ناکافی ہے، تو یہ تجویز منظور کی گئی کہ اراکین سے فوری طور پر قرضِ حسنہ لے کر کام شروع کیا جائے۔ اس موقع پر ٹی۔ امین الدین صاحب نے آگے بڑھ کر 5,000 روپے فراہم کیے۔

1925ء میں تعمیر فنڈ کے لیے ٹی۔ امین الدین صاحب نے 1,000 روپے کا عطیہ پیش کیا، جبکہ 1927ء میں تعمیر فنڈ کے لیے آپ نے 250 روپے عطیہ کیے۔

ٹی۔ امین الدین صاحب کے علاوہ آپ کے خاندان کی مستورات نے بھی انجمن خیر خواہ عام کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کی اہلیہ محترمہ نے بھی انجمن خیر خواہ عام کے زیرِ انتظام مدرسۂ نسوان کی نئی عمارت کے لیے تعمیر فنڈ میں بھرپور حصہ لیا اور 1913ء میں آٹھ ہزار روپے کی رقم جمع کرائی۔ 13 نومبر 1911ء کو جب مدرسۂ نسوان کا پہلا انعامی جلسہ منعقد ہوا تو اس کی صدارت آپ کی والدہ محترمہ نے کی۔ اس کے علاوہ بھی کئی اجتماعات آپ کی والدہ محترمہ کی صدارت میں منعقد ہوتے رہے۔

آپ کی خدماتِ عالیہ کے اعتراف میں حکومتِ برطانیہ نے جنوری 1917ء میں آپ کو خان بہادر کے خطاب سے نوازا۔ میرے بڑے دادا محمودالحسن محمودؔ صاحب نے اس موقع پر ایک تہنیتی نظم فارسی میں کہی، جس کے آخری مصرع سے 1917ء برآمد ہوتا ہے۔

جناب صاحب جودوکرم امین الدین
کہ ہست ثبت بہ باغ جہاں نکو نامش
خطاب آنچہ عطا شد بخدمتِش شائع
بجا عنایت برٹش شدست برحالش
نوشتہ خامۂ محمودؔ عیسوی تاریخ
ہمایوں خان بہادر خطاب زیبائش

یہ اشعار ٹی۔ امین الدین صاحب کی سخاوت، نیک نامی اور خدمات کی تعریف میں ہیں۔ شاعر نے لکھا ہے کہ ان کا اچھا نام دنیا کے باغ میں ثبت ہے، اور جو خطاب انہیں عطا ہوا وہ ان کی خدمات کے عین مطابق اور بجا تھا۔ یہ اعزاز حکومتِ برطانیہ کی طرف سے ان کی حالت و مقام کے شایانِ شان عنایت ہوا۔ شاعر نے اس واقعے کو عیسوی تاریخ کے طور پر قلم بند کیا، اور بتایا کہ خان بہادر کا مبارک خطاب ان کی زینت بنا۔ یہ نظم مدراس کے مشہور روزنامے جریدۂ روزگار میں 9 جنوری 1917ء کو شائع ہوئی۔

آپ کا انتقال 1927ء میں ہوا۔ اس موقع پر اسمٰعیل سیٹھ مغمومؔ مدراسی نے ایک نظم لکھی جس کے آخری مصرع سے آپ کی وفات کا سال 1346 ہجری برآمد ہوتا ہے، جو عیسوی حساب سے 1927ء کے مطابق ہے۔

ناصح مشفق جو تھا اور راست باز و نیک خُلق
آخر اس دنیا سے رحلت کرگیا وہ پاکباز
ہے زروئے التجا مغموم سال انتقال
ٹی۔ امین الدین ہو اور قرب سبحاں دل نواز

ان اشعار میں ٹی۔ امین الدین صاحب کی وفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ شاعر نے انہیں ایک نیک، راست باز اور بااخلاق انسان کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور ساتھ ہی سالِ انتقال کی طرف اشارہ کیا ہے۔

آپ کی اہلیہ کی وفات پر انجمن خیر خواہ عام کی میٹنگ منعقدہ 16 جولائی 1922ء میں، اور آپ کی وفات پر انجمن خیر خواہ عام کی میٹنگ منعقدہ 26 ستمبر 1927ء میں تعزیتی قراردادیں منظور کی گئیں۔

آپ کے انتقال کے بعد بھی آپ کے اہلِ خانہ نے آپ کے فلاحی کاموں کی روایت کو زندہ رکھا، اور یادگار خدمات کو آگے بڑھایا۔

ٹی۔ امین الدین صاحب ایک باکردار، دریا دل اور فیاض شخصیت تھے، جن کی عوامی خدمات وانمباڑی کی تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

تکڑی بدرالدین صاحب (المتوفی 1925ء)

وانمباڑی کے نامور محسنین میں تکڑی بدرالدین صاحب کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے، جن کی فلاحی خدمات آج بھی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

آپ 1905ء سے اپنی وفات 1925ء تک وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ٹرسٹی رہے اور 1917ء سے 1925ء تک وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ تکڑی بدرالدین صاحب نے اسلامیہ اسکول اور اسلامیہ کالج کے قیام میں نمایاں اور اہم کردار ادا کیا۔

مارچ 1907ء میں تکڑی بدرالدین صاحب نے سوسائٹی کو اپنی منڈی، جس کی قیمت 5,500 روپے تھی، بطور عطیہ دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قریب واقع ایک زمین کا ٹکڑا بھی عطیہ کیا، جس کی مالیت 9,000 روپے تھی۔ مزید یہ کہ انہوں نے مدرسے کے لیے اس زمین پر تعمیر ہونے والی عمارت کے خرچ کا دو تہائی حصہ برداشت کرنے کی پیشکش بھی کی۔ سوسائٹی نے یہ طے کیا کہ ان کے عطیے سے تعمیر ہونے والی عمارت کے حصے کو تکڑی بدرالدین صاحب کے نام سے منسوب کیا جائے، جسے بدرالدین منزل کہا جائے۔ اسکول کی پہلی منزل 1910ء میں مکمل ہوئی۔ اسکول کی عمارت اور سرمایہ فنڈ کے لیے تکڑی بدرالدین صاحب کی مجموعی امداد کی مالیت تقریباً 25,000 روپے تھی۔

جب وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے ایک وفد سرکارِ آصفیہ سے امداد حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا گیا، اور نواب صاحب یہ چاہتے تھے کہ ادارے کو عثمانیہ کے نام سے منسوب کیا جائے، جسے وانمباڑی کے لوگوں نے پسند نہیں کیا، تو آپ ہی کی صدارت میں 11 مئی 1917ء کو انجمن خیر خواہ عام میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں یہ طے پایا کہ وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی اپنے مدرسۂ اسلامیہ کو کالج میں تبدیل کر چکی ہے، لہٰذا کسی دوسرے کالج کو اس بستی میں سوسائٹی کی ماتحتی کے بغیر قائم کرنا مسلمانانِ وانمباڑی میں یقیناً بدمزگی اور مخالفت کا سبب بنے گا۔ چنانچہ حضورِ نظام کو ایک ٹیلیگرام بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں مؤدبانہ درخواست کی گئی کہ عثمانیہ کالج کسی دوسرے شہر میں قائم کیا جائے۔

آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی سے بھی وابستہ رہے۔ 1914ء میں آپ انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کی مجلسِ منتظمہ کے رکن تھے۔ ابتدا ہی سے انجمن کو آپ کی حمایت و سرپرستی حاصل رہی۔ آپ 1913ء سے 1922ء تک انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کے صدر رہے، جبکہ 1915ء سے اپنی وفات 1925ء تک انجمن خیر خواہ عام وانمباڑی کے ناظمِ اوقاف (ٹرسٹی) کے فرائض انجام دیتے رہے۔

آپ کی صدارت کے دوران انجمن خیر خواہ عام کے ایک اجلاس میں، جو 7 اکتوبر 1917ء کو منعقد ہوا، یہ طے پایا کہ مولانا محمودالحسن صاحب محدث دیوبندیؒ، مولانا محمد علیؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دیگر نظر بندانِ اہلِ اسلام کی رہائی کے سلسلے میں حکومتِ ہند کو تار روانہ کیا جائے، اور 8 اکتوبر 1917ء کو مدارس میں منعقد ہونے والے عوامی جلسے میں بھی یہ تجویز پیش کی جائے۔

1912ء میں انجمن خیر خواہ عام کے ایک اجلاس میں، جو آپ ہی کی صدارت میں منعقد ہوا، یہ طے پایا کہ چونکہ سلطنتِ عثمانیہ شدید مصائب میں گھری ہوئی ہے، اس لیے مجروحین اور مجاہدین کی امداد اور ایتام و بیوگان کی اعانت نہایت ضروری ہے۔ چنانچہ وانمباڑی میں بھی دیگر شہروں کی طرح علماء کرام کی ترغیب و تشویق سے عوام کو چندہ جمع کرنے کی طرف راغب کیا جائے۔ علماء کرام کی پراثر تقاریر اور عمائدین کے دینی جوش و خروش کے باعث پورے شہر میں چندہ جمع کرنے کی زبردست مہم چلی، اور صرف وانمباڑی سے تیس ہزار روپے جمع ہوئے۔ یہ پوری رقم تکڑی بدرالدین صاحب کے حوالے کی گئی، جنہوں نے اسے 22 دسمبر 1912ء کو قسطنطنیہ روانہ کر دیا۔

غنی عصمت بادشاہ صاحب نے مسجد نیوٹاؤن وانمباڑی کی تاریخ قلم بند کی ہے، جس میں انہوں نے تکڑی بدرالدین صاحب کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ تکڑی بدرالدین صاحب نے مسجد نیوٹاؤن کی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالی اور اپنی نگرانی میں ایک شاندار مسجد تعمیر کروائی جو 1925ء میں مکمل ہوئی۔ اس زمانے میں یہ مسجد وانمباڑی کی دیگر مساجد کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت اور نمایاں تھی۔ مسجد کا نام بھی انہوں نے خود تجویز کیا اور اسے محلہ والوں کے حوالے کر دیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد نہ صرف انہوں نے اس کے افتتاح میں شرکت نہیں کی بلکہ کبھی اس مسجد میں نماز بھی ادا نہیں کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر نماز کے دوران انہیں مسجد کی تعمیر کا خیال آ جائے تو کہیں وہ اس عمل کے ثوابِ جاریہ سے محروم نہ ہو جائیں۔

آپ کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ برطانیہ نے جنوری 1916ء میں آپ کو خان بہادر کے خطاب سے نوازا۔

تکڑی بدرالدین صاحب کا انتقال 1925ء میں ہوا۔ آپ کی وفات پر انجمن خیر خواہ عام کی میٹنگ منعقدہ 6 جولائی 1925ء میں تعزیتی قراردادیں منظور کی گئیں۔

آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے خاندان نے آپ کے نصب العین کو جاری رکھا۔
تکڑی بدرالدین صاحب اپنی نیکی، سخاوت اور عوامی خدمت کے باعث ہمیشہ وانمباڑی کے لوگوں کے دلوں اور تاریخ میں زندہ رہیں گے۔

خطیب احمد حسین صاحب (امین جنگ بہادر) – (پیدائش 1863ء، وفات 1950)

سر امین جنگ بہادر کا اصل نام خطیب احمد حسین تھا ۔ آپ وانمباڑی کے مشہور و معروف خطیب خاندان کے ایک فرزندِ جلیل تھے۔ آپ کے والد کا نام خطیب محمد قاسم صاحب تھا جو ایک مشہور تاجر تھےآپکا شجرہ نسب یوں ملتا ہے :خطیب احمد حسین صاحب ابن خطیب حاجی محمد قاسم صاحب ابن خطیب قادر حسین صاحب ابن شیخ حیدر صاحب ابن شیخ احمد فقیہ صاحب۔شیخ احمد فیقہ صاحب کا تعلق بیجاپور سے تھا جنہیں نوابینِ آرکاٹ کے دور میں وانمباڑی میں خطابت کے منصب پر فائز کیا گیا اسی لئے ان کے خاندان کا نام خطیب پڑگیا۔

آپ کے سب سے بڑے بھائی خطیب قادر بادشاہ صاحب ایک مشہور شاعر تھے۔ جن کو وانمباڑی کے سب سے پہلے صاحب دیوان شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔

آپ کی پیدائش وانمباڑی میں 11 اگست 1863 ء کو ہوئی۔ اردو، عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم وانمباڑی میں حاصل کی۔ مدراس کے چرچ آف اسکاٹ لینڈ مشن انسٹی ٹیوشن سے میٹرک کیا۔ ملر کالج (موجودہ مدراس کرسچن کالج ) میں داخلہ لیا اور 1885ء میں بی ۔ اے کی ڈگری نمایاں کامیابی کے ساتھ حاصل کی۔ یونیورسٹی کے تمام امیدواروں میں آپ دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح سے آپ وانمباڑی کے پہلے گریجویٹ بنے۔ 1888ء میں پریسی ڈینسی کالج سے آپ نے بی۔ ایل۔ کی ڈگری حاصل کی اور مدراس میں اس وقت کے مشہور و معروف بیرسٹر یارڈلی مارٹن کی نگرانی میں وکالت کے ابتدائی مراحل طے کئے۔ اسی دوران آپ مدراس یونیورسٹی میں اردو ، فارسی اور عربی کے ممتحن کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1890ء میں مدراس یونیورسٹی سے آپ نے ایم۔ اے۔ کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا ۔ آپ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے مدراس یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال مدراس ہائی کورٹ میں وکالت بھی شروع کردی۔1891ء میں آپ ضلع چتور کے ڈپٹی کلکٹر اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے عہدے پر مقرر کئے گئے ۔ لیکن تھوڑی ہی مدت بعد آپ نے ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کی اور دوبارہ وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔

1893ء میں آپ ایک مقدمے کے سلسلہ میں حیدرآباد کے نظام کی ہائی کورٹ میں حاضر ہوئے۔ آپ کی خدمات سے متاثر ہوکر آپکو نظام حکومت میں آصف جاہ ششم میر محبوب علی خان کا معاون پیشی سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ۔ 1896ء میں جب سرور جنگ پیشی سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو سر امین جنگ کو پیشی سیکرٹری مقرر کر دیاگیا۔ نظام ششم کو سر امین جنگ پر پورا بھروسہ تھا۔انہوں نے نظام کی بھر پور خدمت کی۔ 1905ء میں نظام کے چیف سکریٹری منتخب کئے گئے۔ 1911ء میں جب میر محبوب علی خان کا انتقال ہوا تو سر امین جنگ نے استعفیٰ دے دیا لیکن آصف جاہ ہفتم نواب میر عثمان علی خان نے انہیں خدمت میں رہنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے نظام ہفتم کا بھی مکمل بھروسہ اور اعتماد جیت لیا۔ 1917ء میں آپ کو "نواب امین جنگ بہادر" کے خطاب سے نوازا گیا۔

دو بار مدراس ایکزیکیوٹیو کونسل کی رکنیت کا آفر آیا تو آپ نے نظام کے حکم سے اس کو قبول نہیں کیا۔انگریزی حکومت کی طرف سے 1911ء میں آپ کو سی۔ ایس۔ آئی (CSI - Companion)اور 1922ء میں کے۔ سی۔ آئی ۔ ای۔ (KCIE - Knight Commander)کے خطابات ملے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو یل۔ یل۔ ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔ آپ ترقی کرتے ہوئے 1914ء میں صدر المہام (وزیر اعظم) پیشی کے منصب پر فائز ہوئے۔ سالار جنگ سوم کے ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم کا پورا کام آپ کے ذمہ سپرد کردیا گیا۔

1902ء میں نظام ششم کے پیشی سیکریٹری کے طور پر دہلی دربار میں شرکت کی جس میں بادشاہ ایڈورڈ ہفتم (King Edward VII)اور ملکہ الیکزینڈرا (Queen Alexandra)کی بطور شہنشاہ اور مہارانئ ہندوستان کی جانشینی کا جشن منایا گیا۔1911ء میں نظام ہفتم کے چیف سیکریٹری کے طور پر دہلی دربار میں شرکت کی۔ یہ دربار بادشاہ جارج پنجم (King George V)اور ملکہ میری (Queen Mary)کے چند ماہ قبل برطانیہ میں تاجپوشی کی یاد میں منعقد کیا گیا۔جس میں ہندوستان کے ہر گورنر اور تمام شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو مدعو کیا گیاتھا۔ 1930ء میں لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس (Round Table Conference)میں آپ نے حیدرآباد کے نظام کی نمائندگی کرنے والے وفد کے ایک ممبر کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مہاتما گاندھی نے بھی شرکت کی تھی۔

آپ کے بڑے بھائی خطیب قادر بادشاہ صاحب نے 1918ء میں طبع ہوئی اپنی کتاب "گلزاربادشاہ" کے دیباچہ میں اپنے بھائی سر امین جنگ بہادر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت ان کی تنخواہ تین ہزار روپئے تھی۔

1935ء میں آپ نے حکومتِ نظام کی خدمت سے سبکدوشی حاصل کی۔ آپ کا انتقال 28 اگست 1950ء کو حیدرآباد میں ہوا۔ 

انتہا درجہ کے خوش خلق، علم دوست ، شریف النفس اور اپنے آقا کے وفادار و جاں نثار شخصیت کے مالک تھے۔آپ کو کتابوں سے بے حد دلچسپی تھی آپ کی اپنی ایک ذاتی لائبریری بنام "امین منزل لائبریری" پورے حیدرآباد میں مشہور تھی۔ اس میں وہ تمام کتابیں شامل تھیں جو آپ نے اپنے بچپن سے جمع کی تھیں۔ اس لائبریری کا طبع شدہ کیٹالوگ (Catalogue) آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ جسے 1941ء میں طبع کیا گیا جو 396 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے آغاز میں سر امین جنگ نے لکھا ہے کہ "اسکول کی کتابیں، کالج کی نصابی کتابیں اور کچھ کتابیں جو انعام کے طور پر حاصل کی گئ تھیں 55 سال پہلے اس لائبریری کا آغاز بنی تھیں۔ یہ کتابیں 'ہر چیز کے بارے میں کچھ جاننے اور کسی ایک چیز (یعنی فلسفہ اور قانون) کے بارے میں سب کچھ جاننے' کے لئے جمع کی گئیں"۔ آپ کی وفات کے بعد اس لائبریری کو آپ کے فرزندان نے حیدرآباد کے اردو ہال اسو سی ایشن کو عطیہ کردیا۔

آپ نے دو کتابیں لکھی ہیں جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں طبع ہوئیں۔ پہلی کتاب The Philosophy of Faqirs کا اردو ترجمہ خود سر امین جنگ نے کیا ہے اس کا موضوع تصوف ہے اور دوسری کتاب Notes of Islamکا ترجمہ مولوی علی شبیر صاحب نے کیا ہے جس میں اسلام کی خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے۔

حوالہ جات:

1۔ سیٹھ محمد اسمٰعیل صاحب مغمومؔ، کلیاتِ مغموم، 1929ء

2۔ دستور برائے اہل سنت والجماعت مسجد محلہ نیوٹاؤن وانمباڑی، سنِ اشاعت ثانی مع اضافہ و ترمیم 2013ء

3۔ خطیب قادر بادشاہ صاحب بادشاہؔ، گلزار بادشاہ، 1918ء

4۔ انجمن خیر خواہ عام، سالانہ رپورٹ، 1999ء-1998ء

5۔ مولوی خطیب محمد عبدالجمیل صاحب باقوی، آئینۂ وانمباڑی، 1970ء

6۔ ایم۔کے۔اکبر بادشاہ صاحب، تاریخ اسلامیہ کالج (1977ء-1919ء)، غیر شائع شدہ مقالہ

7۔ اکبر زاہد صاحب، نقوشِ اسلاف، 2013ء

8۔ محمودالحسن محمودؔ صاحب کے کلام کا قلمی نسخہ (جو فی الوقت میرے پاس محفوظ ہے)

9۔ نیواسل عبدالوھاب صاحب پر چلمکار محمد نعمان صاحب کا لکھا ہوا غیر شائع شدہ مضمون جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

---*---*---*---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. Asak
    Remember that reel with Suhasini & Revathy on the Victoria Public Hall balcony talking about its ₹1.88 lakh donation back in 1888? That Indo-Saracenic gem is a total classic!

    Could you help trace the approx. construction cost of IBHSS, built in a similar Indo-Saracenic style around 1915? Would like to learn more!!!

    ReplyDelete
    Replies
    1. Walaikumassalam.

      Insha Allah I will try to find it out sir. Jazakallah

      Delete
  2. Jazak Allah Khair. Thank you very much for bringing this historical facts about our renowned elders of Vaniyambadi Town. May Allah grant them all Jannat Al Firdose. Aameen ya Rabbul Aalameen.

    ReplyDelete
  3. Thanking Allah. The Most Merciful

    ReplyDelete

Post a Comment