وانمباڑی پر لکھی گئی ایک قدیم نظم
اور اسلامیہ ہائی اسکول کے لیے کہی گئی نظمیں
احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)
وانمباڑی کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر خطیب قادر بادشاہؔ صاحب
نے کُل نو کتابیں لکھی ہیں جن کے نام حسبِ ذیل ہیں: دیوانِ بادشاہ (1891ء)، یادگارِ
بادشاہ (1896ء)، جوہرِ خیال (1901ء)، سفرِ حجاز (1906ء)، گلزارِ بادشاہ (1919ء)،
مدحِ پیغمبرِ اِلٰہ (1924ء)، تفریح دل (1924ء)، نعتِ خیرالبشرؐ (1925ء)، واقعات
عالم (1928ء)۔
ان کتابوں میں صرف دو کتابوں یعنی سفرِ حجاز اور تفریحِ
دل کے علاوہ باقی سب میں آپ کی لکھی ہوئی بے شمار نظمیں، غزلیں اور قطعات موجود
ہیں۔ آپ نے وانمباڑی کی انجمنوں اور اداروں اور ان کی خاص تقریبات پر بھی نظمیں
اور قطعات لکھے ہیں۔ اسلامیہ ہائی اسکول جسے مدرسۂ اسلامیہ کے نام سے جانا جاتا
تھا پر آپ کی کئی نظمیں آپ کی کتاب "گلزار بادشاہ" میں ملتی ہیں۔ اس
مضمون میں میں نے اسلامیہ ہائی اسکول پر آپ کی لکھی ہوئی آٹھ نظمیں شامل کی ہیں
اور ان کی مختصر تشریح بھی پیش کی ہے۔
حسب ذیل نظم آپ نے اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسہ کے لیے لکھی تھی جس میں "وانمباڑی" ردیف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
چشم بددور ہے کیا حالت وانمباڑی
ان دنوں اوج پہ ہے قسمت وانمباڑی
مہر تعلیم ہر اک جا پہ ہے رخشاں رخشاں
گم ہوئی گم ہوئی اب ظلمت وانمباڑی
پھیلتا پھیلتا جاتا ہے مذاق علمی
بڑھ گئی بڑھ گئی اب شہرت وانمباڑی
کھلتے ہیں کھلتے ہیں فرحت سے دلوں کے غنچے
پھرتی ہے مثل صبا نکہت وانمباڑی
مال تنہا تھا ہوا علم بھی اب اس کا شریک
قابل دید ہے یہ زینت وانمباڑی
علم کیا چیز ہے اس علم کی لذت کیا ہے
خوب پہچانے ہیں ذی ثروت وانمباڑی
مدرسہ نام ہے اسلامیہ جس کا مشہور
جس کو کہیے سبب عزت وانمباڑی
منعقد اس میں ہوا جلسئہ انعامی آج
جمع کس شوق سے ہے خلقت وانمباڑی
ہمہ تن چشم پئے دید ہے ہر پیر و جواں
نظر آتی ہے عجب شوکت وانمباڑی
ہے دعا میری یہ عزت رہے قائم دائم
یا خدا تو نہ دکھا ذلت وانمباڑی
علم میں مال میں تہذیب میں دینداری میں
سارے اضلاع پہ ہو سبقت وانمباڑی
بادشہؔ جب وطن ضبط ہو کیونکر تجھ سے
خوب کی تو نے ادا خدمت وانمباڑی
مختصر تشریح: یہ نظم اُس دور کی عکاسی کرتی ہے جب اسلامیہ ہائی اسکول کا
قیام عمل میں آیا تھا۔ اس کے ذریعہ شہر میں علم کا بول بالا ہوا، علم کی بدولت
وانمباڑی کی شہرت بڑھ گئی، قسمت عروج پر تھی، حالت بہتر تھی اور خوشحالی چھا گئی
تھی۔ جہالت اور اندھیرا ختم ہوچکا تھا، تعلیم کا سورج ہر طرف چمک رہا تھا اور علم
کی روشنی پھیل چکی تھی۔ علم و تعلیم کا ذوق عام ہو رہا تھا، شہر میں ہر طرف رونق
تھی۔ اس ساری خوشحالی اور مسرت کا سبب اسلامیہ اسکول کا قیام تھا۔ اس نظم میں اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسے کا بھی ذکر ہے، جس میں عوام بڑے جوش
و خروش سے شریک تھے۔ آخر میں بادشاہؔ نے دعا کی ہے کہ وانمباڑی کی عزت ہمیشہ قائم
و دائم رہے، اسے تمام اضلاع پر سبقت حاصل ہو، اور علم، دولت، تہذیب و دینداری میں
ہمیشہ آگے رہے۔ یوں یہ نظم نہایت خوبصورت انداز میں وانمباڑی کی علمی و تہذیبی
ترقی، اسلامیہ اسکول کی خدمات اور شہر کے لوگوں کے جذبے کو مؤثر انداز میں پیش
کرتی ہے۔
درجِ ذیل نظم بھی اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسہ کے لیے لکھی گئی ہے۔
ہے صد ہزار ترا شکر اے خدائے انام
کہ آج جلسۂ سالانہ کا ہوا ہے قیام
ترے ہی فضل سے وقعت ہے اس سوسائٹی کی
ترے کرم سے ہے اس مدرسہ کا استحکام
جو واقعات کہ تھے مدرسہ کے متعلق
جو کیفیات کہ گزرے تھے سال بھر میں تمام
کیا سکریٹری صاحب نے ہم پہ ظاہر آج
ہے مکتفی پئے تسکین قلب خاص و عام
ادا انہوں نے کیا فرض منصبی کیا خوب
ہماری درد زباں شکریہ ہے ان کا مدام
نتیجہ ان کے ہی یہ کوشش بلیغ کا ہے
ترقیات کے آثار ہیں جو صبح و شام
اساتذہ کی بھی محنت ہے، قابل تحسین
یہی ہیں جن سے درخشاں ہے مدرسہ کا نام
ہیں مدرسہ کے جو ناظم بجا قریشی نام
ضرور ان کا بھی ہے شکر یہ بصد اکرام
جو انتظام کا حق تھا کیا انہوں نے ادا
پسند قوم ہے لاریب ان کا ہر اک کام
غرض گزرگیا یہ سال خیر خوبی سے
رہی نہ اس میں کوئی بات قابل الزام
میں سچے دل سے اے طلبائے مدرسہ تم کو
سنو سناتا ہوں اب یہ نصیحتانہ کلام
زار طرح لیاقت ہو تم کو انگلش میں
بلند لاکھ بھی دنیا میں ہو تمہارا مقام
تمہاری ذات میں جب تک نہ ہوگی دینداری
تمہارے دل میں نہ جب تک ہو وقعت اسلام
نہ ہوگا فخر سرمو بھی قوم کو تم سے
نہ راضی تم سے پیمبر نہ خالق علام
علوم جتنے ہیں انگلش میں سیکھیے لیکن
ہمیشہ تم رہو پابند مذہبی احکام
نہ چھوڑو دین کو دنیا کے واسطے زنہار
رہو گے پیش خدا سرخرو بروز قیام
سخن یہ بے غرضانہ ہے بادشاہ ؔ ترا
نہ شوق ناموری ہے نہ خواہش انعام
مختصر تشریح: یہ نظم اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسے کے موقع پر لکھی گئی ہے، جس میں بادشاہؔ نے اسکول کی ترقی، منتظمین اور اساتذہ کی محنت کا اعتراف کیا ہے اور آخر میں طلبہ کو نصیحت کی ہے۔ نظم کا آغاز حمدیہ اشعار سے کیا گیا ہے۔ سکریٹری صاحب کی پچھلے سال کی رپورٹ سے تمام احباب مطمئن تھے۔ سکریٹری صاحب اور اساتذہ کی انتھک محنتوں کے نتیجے میں اسکول کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور اس کا نام روشن ہوا۔ اسکول کے ناظم ابراہیم قریشی صاحب کی بھی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے انتظامی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔ آخر میں بادشاہ ؔ نے طلبہ کو نصیحت کی ہے کہ تم انگریزی ضرور اچھی طرح سیکھو، لیکن کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب تمہارے اندر دینی مزاج اور پرہیزگاری ہو، اسلام کی عزت اور نبی کریم ﷺ کی محبت تمہارے دل میں ہو۔ مزید یہ کہ دین کے احکام کی پابندی کرو، دنیا کے لالچ میں دین کو ہرگز نہ چھوڑو، کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو قیامت کے دن اللہ کے حضور حاصل ہوگی اور وہ تبھی ممکن ہے جب تم دین پر قائم رہو۔
درجِ ذیل نظم بھی اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسہ کے لیے لکھی گئی جو 26 فروری 1911ء کو منعقد ہوا۔
ہم پہ بے حد ترے احسان ہیں اے رب العزت
شکر اس کا ہو ادا ہم کو کہاں یہ طاقت
سب سے بڑھ کر ہے یہی ہم پہ عنایت تیری
بخش دی ہم کو جو اسلام کی عمدہ نعمت
ایسے پیغمبر برحق کا کیا ہم کو مطیع
ہے جو سرتاج رسل اور شفیع امت
مرتبہ ساری خدائی میں ہے افضل جس کا
دین کو جس کے سب ادیان پہ ہے فوقیت
آج یہ جلسۂ سالانہ دکھایا حق نے
ہم کو حاصل ہوئی کس درجہ مسرت فرحت
آج ہم سب کو سنائی گئی سالانہ رپورٹ
مدرسہ کی ہوئی معلوم ہر اک کیفیت
آفریں آفریں اے اہل سوسائٹی تم پر
قوم کی تم نے بجالائی بخوبی خدمت
ناظم مدرسہ کے ساتھ ہیں جتنے استاد
قابل قدر ہے ہر اک کی سعی و محنت
قوم پر شکریہ اُن سب کا ہے لازم بے شک
یا خدا دیجیے بڑھا اور بھی ان کی ہمت
قوم کا دھیان ہو جس میں وہی عمدہ ہے دماغ
دل مبارک ہے وہی جس میں ہو قومی الفت
نیت اچھی ہے وہی جس سے ہو بہبودئی قوم
کام خوشتر ہے وہی جس میں ہو خالص نیت
شمع جس دم کہ پگھلتی ہے ضیا دیتی ہے
نام کیا ہو جو پئے قوم نہ کھینچیں زحمت
نظم ہر سال سنانے کی ہے عادت ہم کو
کب مناسب ہے کہ اس سال ہو ترک عادت
واقعی حال جو ہے ہم نے قلمبند کیا
طعن و تشنیع کسی پر نہ کسی پر تہمت
یہ یقین جانو اے انگریزی کے پڑھنے والو
ہم کو انگریزی زباں سے نہیں ہرگز نفرت
ہم نہیں کہتے ہیں تعلیم نہ ہو انگریزی
ہم نہیں کہتے ہے یہ علم خلاف ملت
کس کو مرغوب نہیں ہے یہ زبان شاہی
اس زمانے میں نہیں کس کو ہے اس کی حاجت
پڑھو انگریزی مگر دین کے پابند رہو
حشر میں پیش خدا تم نہ اٹھاؤ خجلت
دیکھتے ہم ہیں کہ اکثر طلبائے انگلش
دین کی کچھ بھی نہیں رکھتے ہیں دل میں وقعت
اکثر ان میں نہیں پابند نماز و روزہ
شرعی احکام سے یک لخت ہے ان کو غفلت
کرتے ہیں بعض تو دینی علماء کی تحقیر
دینی کاموں میں تمسخر کی ہے یکسر عادت
صاف بعضوں کے عقائد ہیں خلافِ جمہور
اُس کی تفصیل کی ہو نظم میں کیوں کر وسعت
دیکھو پنجاب کے لکچر میں کہا سید نے
سارے طلباء سے یہ پابندی دین کی نسبت
سیکھ کر علم فلک کے جو ستارے ہوجائیں
گر نہ ہو دین نہیں کچھ بھی تمہاری عزت
قوم کو نفع نہ کچھ تم سے ہے ہرگز ہرگز
یعنی بیکار ہے مہمل ہے تمہاری خلقت
محسن الملک کا بھی قول اسی طرح کا ہے
ہم بتائینگے کسی وقت بشرط فرصت
شہر لنڈن میں ابھی میرعلی جسٹس نے
کہہ کے یوں ہند کے طلباء کو دلائی غیرت
آمدوخرچ زبانی یہ نہیں ہے اسلام
بلکہ اسلام وہی جس کی ہو عملی صورت
یعنی اسلام کو اعمال سے ثابت کردیں
دعویٰ اسلام کا کرکے نہ اٹھائیں خفت
الغرض پند و نصیحت یہی کرتا ہے ہمیں
صاحب علم ہر اک صاحب فہم و جودت
سخت حیرت ہے یہی باعث غیرت ہے یہی
داخل قوم رہیں اور نہ ہو قومیت
ہم دعا کرتے ہیں یہ مدرسۂ اسلامی
تا ابد قائم و دائم رہے باصد شوکت
جو معاون ہیں مربی ہیں الہٰی ان کے
عمر میں مال میں ثروت میں عطا کر برکت
ختم کر نظم یہ اے بادشاہ ؔ ہیچمدان
کیا عجب تیرے سخن کی ہو ہر اک جا شہرت
مختصر تشریح: یہ ایک نصیحت آموز اور حمد و دعا سے مزین نظم ہے، جو
اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسے کے موقع پر لکھی گئی۔ بادشاہ ؔ نے ابتدا اللہ
کی حمد سے کی، پھر شکر، نصیحت، تعلیم اور دینی غیرت پر زور دیا ہے۔ نظم کا آغاز
حمدیہ کلمات سے ہوتا ہے، اس کے بعد چند نعتیہ اشعار شامل ہیں۔ پھر بادشاہؔ نے
سالانہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سالانہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام
منتظمین اور اساتذہ نے قوم کی بہترین خدمت کی ہے، اور ہر ایک کی کوشش و محنت قابلِ
قدر ہے۔ انہوں نے منتظمین اور اساتذہ کے لیے دعائیہ کلمات بھی کہے ہیں۔ بادشاہ ؔ
نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ہر سال کے سالانہ جلسے کے لیے وہ نظم کہتے ہیں۔ اس کے بعد
طلبہ کو نصیحت کرتے ہیں کہ انگریزی ضرور پڑھو، مگر دین کو نہ چھوڑو۔ افسوس کا
اظہار کرتے ہیں کہ اکثر طلبہ جو انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں، دین سے بیزاری
اختیار کر لیتے ہیں — وہ شریعت سے ناواقف ہیں، نماز و روزہ کے پابند نہیں، بعض دین
کا مذاق اڑاتے ہیں، اور کچھ علما کی بے ادبی تک کرتے ہیں۔ بادشاہ ؔ نے سرسید احمد
خاں کے پنجاب کے لیکچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تم دین پر قائم نہ رہے تو
قوم کو تم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ محسن الملک کے اس قول کا بھی ذکر کیا گیا ہے
جس میں انہوں نے دین کی عظمت پر زور دیا تھا۔ اسی طرح لنڈن میں جسٹس میر علی نے
طلبہ میں دینی غیرت پیدا کرنے کے لیے کہا کہ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، اسلام پر
عمل کرنا ہی اصل اسلام ہے۔ آخر میں بادشاہ ؔنے اسکول کی ترقی کے لیے دعا کی ہے کہ
یہ ادارہ ہمیشہ قائم و دائم رہے، عزت و شوکت کے ساتھ ترقی کرے، اور اس کے منتظمین،
اساتذہ اور معاونین کی عمر، مال اور دولت میں برکت عطا ہو۔
درجِ ذیل نظم بھی اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ جلسہ کے لیے
لکھی گئی جو 12 اکتوبر 1912ء کو منعقد ہوا:
ہم سے ادا ہو کیونکر حمد جناب باری
کیا حوصلہ ہمارا طاقت ہے کیا ہماری
مالک ہے وہ ہم اس کے ناچیز بندگان ہیں
واں شانِ کبریائی یاں عجز و انکساری
قہرو غضب سے اس کے کس کو خطر نہیں ہے
اس کی عنایتوں کی سب کو ہے انتظاری
ہے رحمت دو عالم بے شک رسول اپنا
محشر میں ہے اسی سے امت کی رستگاری
تابع رہیں ہم اس کے بھیجیں درود اس پر
بے شک یہی ہے اپنے ایماں کی پائیداری
ہے اس سوسائٹی کے سال نہم کا جلسہ
کس شوق و ذوق سے یہ محفل جمی ہے ساری
ہر سال ہے ترقی اس مدرسہ کی افزوں
ہر سال اس کو ہے ہر مقصد میں کامگاری
ہر سال نظم ہم اس جلسہ میں ہیں سناتے
نو سال سے ہے جاری عادت یہی ہماری
آنکھیں نہ کیوں خشک ہوں طلباء کے دیکھنے سے
جوش طرب نہ کیوں ہو ہر ایک دل پہ طاری
ہیں تاجران نامی اکثر جو اس وطن کے
ان کے ہی فیض سے ہے جاری یہ خیر جاری
نیت ہے ان کی اچھی ہمت ہے ان کی عالی
سچا ہے جوش ان کا سچی ہے غمگساری
دنیا میں آخرت میں رکھ اِن کو شادوخرم
برلا مقاصد ان کے یا رب تو باری باری
تعلیم کے بدولت ہے ہر طرح کی دولت
تعلیم کے سوا ہے کیا شئے جہاں میں پیاری
تعلیم کے کرشمے کیا کیا دکھارہے ہیں
دنیا کے سب طریقے آئین دینداری
تعلیم گر نہ ہوتی دنیا میں کچھ نہ ہوتا
بیکار تھا تمدن بے لطف مُلک داری
تعلیم ہی ہے جس سے عزت ہے آبرو ہے
جاہل کی دو جہاں میں ذلت ہے اور خواری
ہے دین مثل جو ہر شکل عرض ہے دنیا
جوہر سے ہی عرض کی سب کچھ ہے استواری
جب تک عرض نہ ہو پھر جوہر ہے بے ضرورت
دونوں میں یہ تناسب حق نے دیا ہے بھاری
دین متیں کی رونق دنیا سے ہے نمایاں
دنیا کی سب درستی ہے عین دینداری
دنیا کی ہے حدیث و قرآں میں جو مذمت
مفہوم اس کا سن لو خواہش ہے گر تمہاری
جو کام اس جہاں میں ہے شرع کے مخالف
دنیا ہے نام اس کا بیجا ہے اس سے یاری
دنیا کے واسطے ہم گر دین ترک کردیں
ہم سا نہ کوئی ہوگا فہم و خرد سے عاری
دل میں نہیں ہمارے گر دین کی محبت
محشر میں پیش خالق ہے سخت شرمساری
کوئی زباں بھی سیکھیں غم اس کا کچھ نہیں ہے
غم ہے یہی جو چھوڑیں مذہب کی پاسداری
تازہ رہے الہٰی اس مدرسہ کا گلشن
صبح و مسا کرم کی تیرے ہو آبیاری
اخلاق دے ادب دے طلبائے مدرسہ کو
یا رب دلوں میں اُن کے دے جوش دینداری
یارب اساتذہ کے محنت کو چیز کردے
تحسین کے ہو قابل طلباء کی ہوشیاری
اے بادشہ ؔ امیدیں یوں تو بہت ہیں لیکن
ہے حسن خاتمہ کی کافی امیدواری
مختصر تشریح: بادشاہ ؔ نے اس نظم میں اللہ تعالیٰ کی حمد و
ثنا، نبی اکرم ﷺ کی مدح، تعلیم کی فضیلت، مدرسے کی کامیابی، طلبہ و اساتذہ کی
محنت، اور آخر میں دعا و امید کا اظہار کیا ہے۔ نظم کا آغاز حمدیہ کلمات سے ہوتا
ہے، چند نعتیہ اشعار بھی شامل ہیں۔ بادشاہ ؔ نے ذکر کیا ہے کہ یہ نظم مدرسے کے
نویں سالانہ جلسے کے موقع پر کہی گئی۔ اس سال بھی پچھلے برسوں کی طرح مدرسے نے بہت
ترقی کی، طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی کوششوں کو سراہا گیا۔ بادشاہ ؔ نے شہر کے
تاجران کا بھی ذکر کیا ہے جن کی نیک نیتی، جوش، خلوص اور ہمدردی کی بدولت تعلیمی
ترقی کا یہ سلسلہ جاری ہےاور ان کے لیے دعا کے کلمات شامل کیے ہیں۔ بعد ازاں تعلیم
کی اہمیت پر اشعار ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم سے ہی انسان کو عزت و آبرو
حاصل ہوتی ہے، جبکہ جہالت انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں ذلت کا سبب بنتی ہے۔
دینی تعلیم کو سب سے ضروری قرار دیا گیا ہے، دوسری زبانیں اور علوم سیکھنا اچھا
ہے، مگر دین سے بے رغبتی یا دوری ناپسندیدہ ہے۔ آخر میں بادشاہ ؔ نے مدرسے اور اس
کے طلبہ کے لیے دعا کی ہے کہ یہ ادارہ مزید ترقی کرے، اساتذہ کی محنتیں بارآور ہوں
اور طلبہ دین دار، ذہین اور قابلِ فخر بنیں۔
درجِ ذیل نظم اراکین محمڈن ایجوکیشل سوسائٹی وانمباڑی (جسے ہم وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے جانتے ہیں) کے اراکین کے روبرو بادشاہ ؔ نے پڑھی:
مختصر تشریح: یہ نظم دراصل دعا اور التجا کے انداز میں لکھی گئی ہے، جس
میں بادشاہ ؔ نے اسلامیہ ہائی اسکول کی ترقی، اس کے اساتذہ، طلبہ، معاونین اور قوم
کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے۔ بادشاہ ؔ نے دعا کی ہے کہ اس اسکول کی
قسمت جاگ جائے، یہ ادارہ خوب ترقی کرے اور ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے۔ طلبہ کو
کامیابیاں نصیب ہوں اور وہ نیک سیرت انسان بنیں۔ طلبہ و اساتذہ کے دل و دماغ محفوظ
اور پاکیزہ رہیں، ان کو مایوسی سے بچا اور ان کے نیک مقاصد کو پورا فرما۔ سرپرستانِ
اسکول کو حادثات، آفات اور مشکلات سے محفوظ رکھ، اور انہیں دنیا و آخرت میں
کامیابی عطا فرما۔ مدرسے کو مسلسل ترقی دے، دین کی بے خبری اور غفلت سے طلبہ کو
بچا، اس جلسے کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیلا دے، اور لوگوں کے دلوں میں اس مدرسے
کی محبت پیدا فرما۔
حسبِ ذیل دعائیہ نظم طلباءِ اسکول کی طرف سے محمد ابراہیم
قریشی صاحب کی درخواست پر لکھی گئی ہے۔
ہم مدرسہ کے طلباء با عجز و انکساری
کرتے ہیں عرض تجھ سے اب اے جناب باری
مالک ہے تو ہمارا مملوک ہم ہیں تیرے
تیری ثنا کے قابل کب ہے زباں ہماری
تو بے نیاز سب سے محتاج تیرے سب ہیں
فضل و کرم کی تیرے سب کو امیدواری
اس مدرسہ کے جتنے بانی و منتظم ہیں
مدنظر ہماری ہے جن کو غمگساری
ممنون ہم ہیں ان کے مرہون ہم ہیں ان کے
ہر دم ہے شکر ان کا لب پر ہمارے جاری
سرسبز یوں نہ رہتا اس مدرسہ کا گلشن
ہوتی اگر نہ ان کے احسان کی آبیاری
یا رب جہاں میں دائم رکھ ان کو شادو خرم
ہر آفت و بلا سے دے ان کو رستگاری
یا رب ہمارے دل کے غنچوں کو کر شگفتہ
تعلیم کو بنادے تو موسم بہاری
سلطان روم اپنے ہیں مذہبی خلیفے
یا رب عطا ہو ان کی دولت کو استواری
قائم رہے الہٰی دائم رہے الہٰی
ان کی یہ جاہ و حشمت ان کی یہ شہر یاری
ہے بادشاہ ہفتم ایڈورڈ جو ہمارا
ہے جس کے زیر فرماں اقلیم ہند ساری
ہیں جس کے سلطنت میں سب کے حقوق یکساں
ہر قوم کی برابر ہوتی ہے پاسداری
یا رب فزوں ہو اس کے دل میں ہماری الفت
محکم رہے ہماری اس سے وفا شعاری
ہیں بادشاہ ؔ نامی شاعر جو اس وطن کے
یا رب یہ نظم ان کی ہو ہر زباں پہ جاری
مختصر تشریح: طلباء اپنے مدرسے کے بانیوں اور منتظمین کے احسانات اور فضل و کرم کے شکر گزار ہیں اور ان کی کامیابی و خوشحالی کے لیے دعا گو ہیں۔
حسبِ ذیل نظم اسلامیہ ہائی اسکول کے طلباء کے لیے لکھی گئی
ہے:
سنو تم اے طلبائے فرخندہ طینت
سفر اور حضر کی سناتا ہوں حالت
فقط جوش ہے طبع کا میرے ورنہ
نہ مجھ میں سلیقہ نہ مجھ میں لیاقت
نہیں ہے جہاں میں کوئی چیز ایسی
نہ ہو نفع کے ساتھ جس میں مضر ت
کہیں نفع پر ہے مضرت کا غلبہ
ضرر کو کہیں نفع نے دی ہزیمت
جو کچھ بھید نفع و ضرر میں ہے پنہاں
خدا ہی کو معلوم اس کی حقیقت
کرشمے ہیں خالق کے قدرت کے سارے
سزاوار اس کو ہے یہ اس کی حکمت
مرے ذہن میں جو گزرتے ہیں باتیں
دلاتے ہیں اظہار کی مجھ کو جرات
عیاں سب پہ ہے روز روشن کے مانند
سفر کے فوائد ہیں جو بے نہایت
سفر ہے معیشت کا عمدہ ذریعہ
سفر فی الحقیقت ہے جان تجارت
سفر ہی بناتا ہے انسان کو انساں
سفر ہی بڑھاتا ہے فہم و فراست
سفر سے بر آتے ہیں سب آرزوئیں
سفر سے ہے دشواریوں میں سہولت
سفرسے ہی ہے تجربہ کو ترقی
سفر میں ہی خالق نے دی خیروبرکت
سفر گر نہ کرتے وہ اگلے بزرگاں
نہ وہ کھینچتے گر سفر کی مشقت
نہ کرتے کبھی قدر و وقعت ہم ان کی
نہ ہوتی کمالات کی ان کی شہرت
انہیں کے تصدق سے پائیں ہیں ہم سب
یہ عزت یہ رفعت یہ شوکت یہ حشمت
وطن میں کسی کو نہ اب تک ملا کچھ
سفر کے بدولت ملی علم و دولت
سفر کے فوائد سے واقف نہیں ہم
سفر کی عموماً نہیں ہم کو رغبت
کہا خوب حالیؔ شیریں سخن نے
یہ اشعار مملو ہے جس میں نصیحت
سیاحت کے گون ہیں نہ مرد سفر ہیں
خدا کی خدائی سے ہم بے خبر ہیں
یہ دیواریں گھر کی جو پیش نظر ہیں
یہی اپنے نزدیک حد بصر ہیں
ہیں تالاب میں مچھلیاں کچھ فراہم
وہی ان کی دنیا وہی ان کا عالم
خدا گرنہ دیتا سفر کو بزرگی
نہ ہوتی سفر میں اگر کچھ فضیلت
نہ ہوتا تھا ہم پر کبھی حکم حج کا
نہ مسنون ہوتی نبی کی زیارت
مقابل سفر کے جو لفظ حضر ہے
ہے مقصود اس سے وطن کی سکونت
وطن کی سکونت بظاہر ہے اچھی
ہے باطن میں پوشیدہ لیکن قباحت
وطن کی سکونت کہالت کی معدن
وطن کی سکونت ہے معیار غفلت
وطن کی سکونت ترقی کی ہارج
وطن کی سکونت میں ہے نقص ہمت
وطن کی سکونت کا مداح ہے وہ
تن آسودگی کی جو رکھتا ہے خصلت
ہے صد شکر اہل وطن کو ہمارے
ہے اس درجہ سیروسیاحت کی عادت
اگر ڈھونڈیں ہم سارے ہندوستان میں
نظیر اس وطن کی ملے گی بدقت
غرض ماحصل نظم کا ہے یہ میرے
سفر کو حضر پر ہے ہر طرح سبقت
سفر ہم کریں مثل خورشید یارب
نہ دے چند ساتو ہمیں کنج عُزلت
سخن کو نہ دو طول اے بادشہ ؔ تم
کہیں اہل جلسہ نہ پائیں ملالت
مختصر تشریح: سفر انسان کی عقل، تجربہ اور فہم و فراست کو بڑھاتا ہے اور
کامیابی، علم و دولت کے دروازے کھولتا ہے۔ وطن میں بسنا آرام و سکون دیتا ہے مگر سستی، محدود سوچ اور
ترقی کی کمی کا سبب بنتا ہے، اس لیے سفر حضر پر برتری رکھتا ہے۔
حسبِ ذیل نظم اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ اجلاس منعقدہ 31
اکتوبر 1910ء کے لئے لکھی گئی ہے۔
دین کے علم سے بہتر کوئی صورت کیا ہے
اس ضرورت سے فزوں اور ضرورت کیا ہے
دین ہے صورت جان جسم کے مانند ہیں ہم
جسم بے جان کی بھلا دہر میں وقعت کیا ہے
دین کا علم پڑھو سستی و غفلت نہ کرو
مجھ سے مت پوچھو نہ پڑھنے میں قباحت کیا ہے
حشر میں تم کو ہو معلوم قباحت اس کی
کیا سزا اس کی ہے اور اس کی مصیبت کیا ہے
رنگ بدلا ہے زمانہ نے عجب ان روزوں
نہیں معلوم کہ اللہ کی حکمت کیا ہے
دہریت ملحدیت پھیل رہی ہے ہر سو
کہتے ہیں دین ہے کیا اور شریعت کیا ہے
ترک بعضوں نے کئے دینِ نبی کے احکام
دعویٰ پھر دین کا افسوس یہ حالت کیا ہے
کوئی کہتا ہے کہ ہیں خوف کی ساری باتیں
حشر کیا چیز ہے اور دوزخ و جنت کیا ہے
اور نہ محسوس کریں جن کو حواس خمسہ
ان پہ ایمان رکھیں ہم ہمیں حاجت کیا ہے
شرع ہے عقل کی تابع نہ خرد تابع شرع
عقل جب ہم کو ہے پھر مذہب و ملت کیا ہے
غرض ایسے ہی بہت سے ہیں عقائد ان کے
غور سے دیکھیے ان لوگوں کی جرات کیا ہے
دینداری نہیں اللہ کا کچھ خوف نہیں
قوم کیا خاک ہے اور قومی محبت کیا ہے
گر موثر یہ سخن ہو تو زہے خوش قسمت
بادشہ ؔ کون ہے تو تیری نصیحت کیا ہے
مختصر تشریح: یہ نظم بتاتی ہے کہ دین کا علم سب سے ضروری ہے اور ہمیں
آخرت پر ایمان رکھنا چاہیے۔ سستی اور غفلت چھوڑ کر دین پر عمل کرنے والا خوش قسمت
ہوگا۔
-*-*-*-*-*-
The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com








بہت خوب ماشاء اللہ بہت عمدہ کلام ،ششتہ زُبان
ReplyDeleteجزاکم اللہ خیرا کثیرا
DeleteSubhan Allah, really beautiful work ..
ReplyDeletemay Allah reward you for putting in the effort to preserve and share this part of our history.
Jazakallahu Khairan Kaseera for the appreciation.
Deleteماشاء اللہ
ReplyDeleteنظم کے ساتھ اسلامیہ کالج کے اندرونی مناظر کا دیدار ہوگیا
احسان سے احسان کردیا
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
DeleteMasha ALLAH ..Good collection of our ancestors from Vaniyambadi vaniyambadi
ReplyDeleteJazakallah
Deleteبہت خوب 👍🏼
ReplyDeleteعمدہ اشتراک 👌
آپ شہر وانمباڑی کی تاریخ پر گرانقدر اور قابلِ ستائش کام کر رہے ہیں۔ صمیمِ قلب سے مبارکباد اور ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔
وصــی بــخــتـــیـــاری عمری
جزاکم اللہ خیرا کثیرا محترم
Delete