اسلامیہ کالج وانمباڑی کا میگزین "مشعل" - علم و ادب کی روشنی کا چراغ

اسلامیہ کالج وانمباڑی کا میگزین

مشعل

علم و ادب کی روشنی کا چراغ

 احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

مجھے پچھلے ہفتے اسلامیہ کالج وانمباڑی کے شعبۂ تاریخ کی جانب سے کالج کی سو سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار میں  کالج کی تاریخ سے متعلق کسی موضوع پر مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ میں  نے اسلامیہ کالج کے میگزین مشعل کی تاریخ پر مقالہ پیش کیا جسے یہاں مضمون کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔ امید ہے قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

      

مشعل کی تاریخ سات دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ 1964ء سے 1966ء کے دوران اینٹی ہندی تحریک کے دوران ایک مختصر وقفے کے سوا، یہ رسالہ اپنے پہلے شمارے کے بعد سے ہر سال شائع ہوتا رہا ہے۔ اس کا پہلا شمارہ جنوری 1949ء میں شائع ہوا اور اس سال اس کا بہتّرواں (72واں) شمارہ شائع کیا گیا۔

سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں مشعل نے اسلامیہ کالج کی تاریخ کو بخوبی دستاویزی شکل دی ہے۔ میری اس موضوع میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب میں نے انجمنِ خدام الاسلام کی لائبریری میں محفوظ اس کے پرانے شمارے دیکھے تھے۔

    

مشعل بلاشبہ اسلامیہ کالج کی زندہ یادداشت ہے۔ اس کے شماروں کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے کئی معلومات حاصل ہوئیں۔ مجھے یہ پتہ چلا کہ اس کے بانی مدیر سید عبدالقادر صاحب، ڈاکٹر سروپلی رادھاکرشنن کے شاگرد تھے جو بعد میں ہندوستان کے دوسرے صدر منتخب ہوئے۔ خود ڈاکٹر رادھاکرشنن نے مشعل کی تعریف کی اور اپنے شاگرد کی تحریروں کے معیار کو سراہا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ہمارے خطے کا پہلا میگزین تھا جس کا مکمل جائزہ مدراس میں شائع ہونے والے ایک روزنامے میں پیش کیا گیا۔

   

یہ میگزین کالج کے طلبہ کی زندگی کو نہایت جاندار انداز میں پیش کرتا ہے۔ کالج میں ایک کلب تھا جسے "ریمبلرز کلب" کہا جاتا تھا جو طلبہ کے لیے اساتذہ کے ہمراہ تفریحی دورے منعقد کرتا تھا۔ مشعل کے پہلے شمارے میں ایک طالب علم کی کہانی شامل ہے جس میں وہ وانمباڑی سے سترہ کلومیٹر پر واقع چھوٹے قصبے آلنگائم کے سفر کی وضاحت کرتا ہے۔ دوسرا شمارہ جو 1950ء میں شائع ہوا، دو طلبہ کے ایلگری کے پہاڑ پر چڑھائی کے تجربات بیان کرتا ہے۔ اُس وقت ایلگری کے اوپر جانے کےلیے کوئی سڑک نہیں تھی۔ اسی شمارے میں ایک اور کہانی شامل ہے جو خود پرنسپل نے لکھی جس میں انہوں نے ایلگری کےسفر کی تفصیل بیان کی جس میں انہیں چھ بھوگیوں نے ڈھولی میں اٹھا کر پہاڑ کے اوپر پہنچایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تب بھی ایلگری میں ایک چھوٹی سی آبادی موجود تھی جس میں پوسٹ آفس، اسکول، چند جھونپڑیاں اور دو انگریزوں مسٹر براؤن اور مسٹر ڈالٹن کے زیر ملکیت فارم ہاؤز شامل تھے۔

بعد کے شماروں میں مختلف مقامات کی تفریح کے بارے میں تفصیلات شامل ہیں مثلاً

1951ء: مہابلی پورم اور ایلگری

1952ء : میسور اور ویسٹ کوسٹ

1953ء : میٹور ڈیم، میسور، تُنگابدرا ڈیم اور ہمپی

1954ء : ایلگری، تروونّاملائے، سینجی کا قلعہ، چدمبرم اور پانڈیچری

اگر چہ ریمبلرز کلب بعد میں ختم ہوگیا لیکن دورے اور تفریحی سرگرمیوں کی تفصیلات مشعل میں مسلسل شائع ہوتی رہیں۔

   

میگزین شروع سے ہی کثیراللسانی(Multilingual) تھا جس میں انگریزی، اردو اور تمل میں مضامین شامل تھے۔ آٹھویں شمارے(1958ء) میں ہندی مضامین بھی شامل ہونا شروع ہوئے۔ نویں شمارے (1959ء) میں عربی اور گیارہویں شمارے (1960ء) میں فارسی کے مضامین اور نظمیں شامل ہونے لگیں۔ یوں مشعل چھ زبانوں میں مواد فراہم کرنے والا ایک منفرد میگزین بن گیا جس کے جیسا تعلیمی میگزین کم ہی ملتا ہے۔

   

میں نے جو تاریخی حوالہ دیکھا اس میں 1959ء اور 1960ء کے Vanmahotsav تقریبات کے موقع پر حاجی عبدالرحیم صاحب (جو اُس وقت وانمباڑی کے چیئرمین تھے) کی ایک تقریر شامل تھی۔ اس میں انھوں نے ماحول کے تحفظ کی اہمیت بتائی اور اپنے بنگلے کا ذکر کیا جو پدور کے قریب تھا اور حاجی گُڈا کہلاتا تھاجس کا خوبصورت باغ دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج نے تباہ کردیا تھا۔

   

شروع میں میگزین کا نام انگریزی میں “Mash’el” لکھا جاتا تھا لیکن 1978ء میں شائع ہونے والے پچیسویں شمارے سے اسے “Mash’al” لکھا جانے لگا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں مشعل کے معنی عربی میں چراغ کے ہیں بانی مدیر نے یہ نام اس لیے رکھا تاکہ کالج اپنی میگزین کے ذریعے علم کی روشنی دنیا کے ہر کونے تک پہنچا سکے۔

   

دوسرے شمارے میں مشعل کے عنوان پر جلال کڑپویؔ صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار درج ذیل ہیں:

یقیں کی ہاتھ میں "مشعل" ہو، آنکھوں میں بصیرت ہو

اگر یہ سازوساماں ہوں تو پھر وہ بے نشاں کیوں ہو؟

جلالِؔ حق نوا حیراں پریشاں ڈھونڈھتے کیا ہو!

جو پیوستِ رگِ جاں ہو، یہاں کیوں ہو وہاں کیوں ہو؟

   

پہلے شمارے کا پیش لفظ این۔ ایم۔ انور صاحب نے لکھا، جو 1947ء سے 1951ء تک اسلامیہ کالج کے سیکریٹری رہے، 1951ء سے 1972 تک وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر اور 1960ء سے 1966ء تک راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ ان کے لکھے ہوئے دیگر قیمتی مضامین کی تفصیلات حسبِ ذیل ہیں:

John Bull at Close Quarters – Volume 2

Paris: Scented Dust – Volume 3

History of VMES 1903-1954 – Volume 5

Welcome Address to Vellore School Improvement Conference – Volume 11

Speech in the Parliament – Volume 12

  

پہلے شمارے میں پیش لفظ کے بعد پہلا مضمون بانی مدیر اور سابق پرنسپل سید عبدالقادر صاحب نے لکھا جس کا عنوان “Ourselves” ہے۔ اس میں اس دور کے سیاسی اور فکری رجحانات جیسے علاقائیت، مذہبی احیاء، قوم پرستی، سوشلزم، کمیونزم اور سیکولرزم پر تفصیلی تجزیہ کیا گیا اور قارئین خاص طور پر طلباء کو ترغیب دی گئی کہ وہ کسی بھی نظریے کی اندھی تقلید کے بجائے تنقیدی سوچ اپنائیں۔

  

وانمباڑی کی مقامی تقریبات اور تاریخ کو بھی اس میگزین میں بخوبی پیش کیا گیا ہے۔ 1953ء میں نیواسل عبدالوہاب صاحب ویمنز پارک کی افتتاحی تقریب پر عظیمہ شکور صاحبہ کی تقریر کو مضمون کی شکل میں شامل کیا گیا ہے جس کا افتتاح اہلیا سنتانم نامی مہمان نے کیا جو اُس وقت مدراس کی ڈپٹی میئر تھیں۔ اس کے علاوہ مقامی شخصیات پر بھی کئی مضامین شامل ہیں جیسے ٹی۔کے۔ محمد زکریا صاحب (شمارہ 6)، حافظ محمد اسمٰعیل صاحب (شمارہ 14)، آسی ترپاتوری صاحب (شمارہ 14)، سید عبدالقادر صاحب (شمارہ 15)، عبدالقادر شاکر صاحب (شمارہ 18)، عبدالرحمٰن خاں تشنہؔ صاحب (شمارہ 19)، نازش حیدرآبادی صاحب (شمارہ 31)، جلال کڑپوی صاحب (شمارہ 37) اور پیش امام فضل اللہ صاحب (شمارہ 44) وغیرہ۔ اسلامیہ کالج کے شعبۂ تاریخ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر تاج الدین صاحب، پروفیسر مدرے محمد سہیل صاحب اور پروفیسر میجر شہاب الدین صاحب کے لکھے ہوئے وانمباڑی پر کئی اہم تاریخی مضامین بھی شامل ہیں۔

کالج کا لوگو (Logo)  پہلی بار آٹھویں شمارے میں شامل کیا گیا جو 1957ء میں شائع ہوا۔ پہلے شمارے کے پیش لفظ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامیہ کالج کا نعرہ تھا: “Enter to Learn and Leave to Serve” یعنیٰ "تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوں اور جب واپس جاؤ تو خدمت کرو"۔ اس میگزین کے پہلے شمارے کا ٹیگ لائن تھا “Love One Another”  یعنیٰ "ایک دوسرے سے محبت کرو"۔

میگزین کے آغاز میں ادارت کی ذمہ داری پرنسپل نے ہی سنبھالی تھی لیکن دوسرے شمارے سے ایڈیٹوریل بورڈ کی تشکیل ہوئی جس میں کم از کم تین افراد شامل تھے۔ بعد کے شماروں میں ایڈوائزری بورڈ بھی قائم کیا گیا اور آخرکار ایک مستحکم ڈھانچہ ایڈیٹر اور ایڈیٹوریل بورڈ کی شکل میں موجود رہا۔

اسلامیہ کالج کے طلبہ اور اساتذہ ہی اس مجلے کے واحد معاونین نہیں تھے بلکہ دیگر کالجوں کے پروفیسرز اور ملک بھر کی ممتاز شخصیات نے بھی مشعل میں لکھا۔ ابتدائی دور میں سب سے زیادہ لکھنے والوں میں سید عبدالقادر صاحب نمایاں ہیں۔ وہ بانی مدیر تھے اور مشعل کی شروعات ان ہی کی تحریک سے ہوئی تھی۔ انہوں نے 1948ء سے 1958 تک اسلامیہ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسلامیہ کالج میں شمولیت سے قبل وہ گورنمنٹ آرٹس کالج مدراس کے اسسٹنٹ لیکچرار رہے اور بعد ازاں مدرسۂ اعظم مدراس کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 55 برس کی عمر میں وہ اسلامیہ کالج کے پرنسپل بنے اور 65 برس کی عمر تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ ڈاکٹر ایس۔ رادھا کرشنن کے شاگرد تھے اور ڈاکٹر رادھا کرشنن پر اور دیگر موضوعات پر انگریزی میں متعدد مضامین تحریر کیے۔ ان کے علمی و ادبی مقام کا یہ عالم تھا کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ایک شاگرد نے انگریزی میں اُن پر ایک مضمون لکھا جس کا عنوان “Our Principal” تھا اور یہ مشعل کے پانچویں شمارے میں شائع ہوا۔ وہ ایک قادرالکلام اردو شاعر بھی تھے۔

   

نیلور زبیر صاحب نے 1967ء سے 1970ء تک کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ طویل عرصے تک میگزین کے مستقل معاونین میں شامل رہے۔ ان کے مضامین مشعل کے اولین شماروں سے ہی شائع ہوتے رہے اور وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک مجلسِ ادارت کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے تعلیم، عالمی سیاست، معیشت اور دیگر کئی موضوعات پر انگریزی میں مضامین لکھے۔ وہ بھی اردو کے شاعر تھے اور میگزین کی ادبی وقعت میں نمایاں اضافہ کیا۔

ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم صاحب جو وانمباڑی کی نہایت ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اسلامیہ کالج کے سابق طلبہ میں سے تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج سے انٹرمیڈیت مکمل کیا اور پھر پرسیڈنسی کالج مدراس سے انگریزی میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں وہ اسلامیہ اسکول میں انگریزی پڑھانے لگے اور بعد میں اسلامیہ کالج میں عربی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر قاہرہ (مصر) گئے جہاں سے عربی لسانیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اسلامیہ اسکول اور اسلامیہ کالج سے وابستگی کے دوران وہ مشعل میں باقاعدگی سے لکھتے رہے اور چار زبانوں اردو، فارسی، عربی اور انگریزی میں مضامین اور نظمیں تحریر کیں۔ ان کا پہلا مضمون جو مشعل میں شائع ہوا، عالمی زبان “Esperanto” پر تھا ان کی بیشتر تحریریں زبان اور فونیٹکس (Phonetics) کے موضوعات پر ہیں کیونکہ وہ ان موضوعات میں کافی دلچسپی رکھتے تھے اور بعد میں انہیں اسی میں غیر معمولی مہارت بھی حاصل ہوئی۔

میگزین کے اردو، عربی اور فارسی سیکشن کو ابتدائی دور میں دو عظیم شخصیات نے سنبھالا : جلال کڑپویؔ صاحب اور عبدالرحمٰن خاں تشنہؔ صاحب۔ جلال کڑپویؔ صاحب نے 30 برس سے زیادہ کالج کی خدمت کی جب کہ تشنہؔ صاحب نے شعبۂ اردو، عربی اور فارسی میں 21 برس تک خدمات انجام دیں۔ تشنہؔ صاحب جامعہ دارالسلام عمرآباد کے فارغ التحصیل تھے۔ ان دونوں نے اردو ہی میں نہیں بلکہ انگریزی میں بھی گراں قدر مضامین لکھے اور علم و ادب کی ایک دیرپا روایت قائم کی۔

مشعل کے کئی خصوصی اور یادگار شمارے بھی شائع ہوئے۔ پانچواں شمارہ (1955ء) وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے گولڈن جوبلی کے موقع پر نکالاگیا اور اس میں ادارے کی تاریخ پر چار مضامین شامل تھے۔ آٹھواں شمارہ(1957ء) تحریکِ آزادی کے صد سالہ جشن کے موقع پر نکالا گیا اور اس میں غدر اور ٹیپوسلطان شہیدؒ پر مضامین شائع کیے گئے۔ نواں شمارہ (1958ء) مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر محمد عبدالحق کرنولی کو وقف کیا گیا۔ پندرھواں شمارہ (1968ء) سابق پرنسپل اور مشعل کے بانی مدیر سید عبدالقادر صاحب کی یاد میں نکالاگیا جو 1965ء میں وفات پاگئے تھے اور اس میں ان پر تین مضامین شامل تھے۔ سولھواں شمارہ (1969ء) مہاتما گاندھی کی صد سالہ پیدائش کے موقع پر اور سترھواں شمارہ (1970ء) مرزا غالب کے نام وقف کیا گیا۔ پچیسواں شمارہ (1978ء) علامہ اقبال کی صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر نکالا گیا اور اس میں علامہ اقبال پر نہ صرف اردو اور انگریزی بلکہ عربی اور تمل میں بھی مضامین شامل کیے گئے۔

   

مشعل میں مضامین، نظمیں اور افسانے ہی نہیں بلکہ ڈرامے، کوئز، کالج کی سالانہ رپورٹ (امتحانات کے نتائج اور اسٹاف کی تفصیل کے ساتھ)، کالج ڈے، یوم آزادی، یومِ جمہوریہ، یومِ اقوامِ متحدہ، یومِ انسانی حقوق اور دیگر کیمپوں، ڈیبیٹس اور پینل ڈسکشنز کی روداد بھی شامل رہتی ہیں۔ اس میں پرنسپل، اساتذہ اور مہمانانِ خصوصی کی تقاریر کے متن، مہمانوں کو بھیجے گئے دعوت نامے، موصولہ جوابی خطوط اور شکریہ کے کلمات بھی محفوظ کیے جاتے رہے۔

  

کئی اسٹوڈنٹ کلبز جیسے پین کلب، سوشل سروس کلب، آرٹ کلب، پولیٹکس کلب، اکنامکس کلب، فلاسفی کلب، انگلش کلب، ہسٹری کلب، کامرس کلب، لاء کلب، سائنس کلب، میتھے میٹکس کلب اور ڈرامیٹک کلب کی سرگرمیوں کی روداد بھی شائع ہوتی رہی۔

   

مشعل میں تصاویر کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور کالج میں منعقدہ مشاعروں کی تفصیلات بھی شائع ہوتی رہی ہیں جن میں مقامی اور باہر سے مدعو کیے گئے شعراء کے نام اور چند منتخب اشعار شامل ہیں۔ یہ مواد اردو شاعری اور ادبی روایت کے محققین کے لیے قیمتی ہے۔

   

مشعل کو محفوظ رکھنا دراصل اسلامیہ کالج کی سماجی، ثقافتی اور علمی یادداشت کو محفوظ رکھنا ہے۔ تقریباً تمام شماروں کی شائع شدہ اور ڈیجیٹل کاپیاں کالج کی لائبریری میں دستیاب ہیں۔ میں طلبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انہیں پڑھیں اور اپنے ادارے، شہر اور ملک کی تاریخ سے واقفیت حاصل کریں۔

  

ذیل میں چند فہرستیں شامل کی گئی ہیں تاکہ ایک خاکہ پیش کیا جاسکے، اگر چہ یہ مکمل نہیں ہیں۔ ان میں مشہور شخصیات کے مضامین، مشاعروں میں شریک شعراء کے نام اور میگزین میں شامل کتب کے تبصرے وغیرہ کے بارے میں تفصیلات شامل ہیں۔


Articles written by Syed Abdul Qadir Sahib:
1. Ourselves (Vol. 1)
2. New Logic (Vol. 1)
3. What is Psychology? (Vol. 1)
4. Radhakrishnan: An Idealist View of Life (Vol. 1)
5. Education for Sanity (Vol. 1)
6. Tragedy (Vol. 1)
7. A Visit to Brown’s Farm at Yelagiri Hills (Vol. 2)
8. Inductive Inference? (Vol. 2)
9. Unless You Are Born Again (Vol. 2)
10. Science in a World Community (Vol. 2)
11. The Existentialist (Vol. 2)
12. The New Woman – A Summary (Vol. 2)
13. The Real Radhakrishnan (Vol. 2)
14. Aurobindo Ghose: The Life Divine (Vol. 3)
15. Roger Fry: The Beautiful (Vol. 3)
16. To Princess Margaret (Vol. 3)
17. If I Had My Time Again (Vol. 3)
18. Sartre: Existentialism and Humanism (Vol. 3)
19. General Education and the University (Vol. 3)
20. Sarvepalli Radhakrishnan (Vol.4)

Articles written by Nellore Mohammed Zubair Sahib:
1. Rights and Duties (Vol. 1)
2. The Funny Side of Things (Vol. 2)
3. The Food Problem (Vol. 2)
4. Economic Democracy (Vol. 3)
5. Planning in India (Vol. 4)
6. Global Strategy – Delivered as a speech (Vol. 5)
7. Co-Existence or Co-Destruction – Delivered as a speech (Vol. 5)
8. The Summit Conference (Vol. 6)
9. Middle East Politics (Vol. 8)
10. Maulana Azad (Vol. 9)
11. Meeladun Nabi Speech (Vol. 9)
12. Education in India (Vol. 10)
13. Syed Abdul Qadir Sahib (Vol. 15)
14. Education in India (Vol. 15)
15. N.M. Anwar Sahib (Vol.19)

Articles written by Dr. V. Abdul Rahim Sahib:
1. Esperanto, A Universal Language (Vol. 4)
2. Arberry: Sufism (Vol. 4)
3. Popper: Hypothesis (Vol. 4)
4. A Study in Urdu Phonetics (Vol. 4)
5. Poem by title “Fusoon-e-Millat” in Persian (Vol.4)
6. Poem in Urdu (Vol. 4)
7. Christopher Fry: A Phoenix Too Frequent (Vol. 5)
8. Language of Science (Vol. 6)
9. Manzoom Tarjuma of Surah Al-Qariyah in Urdu (Vol. 8)
10. Qit’aat – Persian Poetry (Vol. 8)
11. Al-Muallaqatus Sabah – Arabic (Vol. 9)
12. Al Jahaliyyah – Arabic (Vol. 10)
13. Biography of Dr. Taha Hussain – Arabic (Vol. 11)

Mash’al features excellent articles on notable great personalities mentioned below:
1. Rabindranath Tagore
2. Sarvepalli Radhakrishnan
3. Harold J. Laski
4. Mahatma Gandhi
5. George Bernard Shaw
6. Wordsworth
7. C. Day Lewis
8. Eva Peron
9. Max Beerbohm
10. Christopher Fry
11. Mohamed Naguib
12. Tobias Smollett
13. Sir Winston Churchill
14. Mao Tse-Tung
15. Francis Bacon
16. V.O. Chidambaram
17. Soren Kierkegaard
18. Hafiz Shirazi
19. Ibn Rushd
20. Tipu Sultan
21. Sigmund Freud
22. Sheik Saadi
23. Babur
24. Sir Syed Ahmed Khan
25. Mirza Ghalib
26. Allama Iqbal
27. Lal Bahadur Shastri
28. Asoka the Great
29. William Harvey
30. William Shakespeare
31. Dr. Har Govind Khorana
32. Maulana Mohammed Ali Jauhar
33. Sheik Nizamuddin Auliya
34. Marie Antoinette
35. B.R. Ambedkar
36. V.K. Krishna Menon
37. Akbar Allahabadi
38. Rajaji
39. Albert Einstein and many more

Books Reviewed in the earlier volumes of Mash’al:
1. The Life Divine – lecture delivered at the Madras University Extension Board in 1952 (Aurobindo Ghose)
2. Mysticism and Logic and Other Essays (Russell Bertrand)
3. Freedom in the Modern World (John MacMurray)
4. Existentialism is a Humanism (Jean-Paul Sartre)
5. Nationalism and After (Edward Hallett Carr)
6. The Language of Shakespeare’s Plays (B. Ifor Evans)
7. Sufism, an account of the mystics of Islam (Arthur John Arberry)
8. Common Sense Empiricism (G.C. Chatterjee)
9. The Happy Man (Bertrand Russell)
10. Mother-right in India (Baron Omar Rolf Ehrenfels)
11. A Phoenix too Frequent (Christopher Fry) and many more

Contributors to the Magazine:
1. Principal Syed Abdul Qadir Sahib
2. Principal V. Sivaramakrishnan Sir
3. Principal M. Abdul Rahim Sir
4. Principal K. Sitaraman Sir
5. Principal Nellore Mohammed Zubair Sahib
6. Principal Syed Yakub Sahib
7. Principal Mirza Abdul Majid Sahib
8. Principal A. Habibur Rahman Sahib
9. Principal O.A. Shahul Hameed Sahib
10. Principal N. Tahir Ahmed Sahib
11. Principal Major Syed Shahabuddeen Sahib
12. Principal P. Nasrullah Basha Sahib
13. Principal K. Prem Nazeer Sahib
14. Principal T. Mohammed Ilyas Sahib
15. Principal T. Afsar Basha Sahib
16. V. Abdul Rahim Sahib
17. Jalal Kadpavi Sahib
18. Abdul Rahman Khan Tishna Sahib
19. Shaikh Abdul Wahab Sahib
20. G. Narayana Rao Sir
21. S. Abul Rahman Sahib
22. Syed Jalaluddin Sahib
23. G.N. Venkatraman Sir
24. O.M. Vakeelullah Sahib
25. K.S. Ramaswami Sir
26. M. Mohammed Ali Jinnah Sahib
27. V. Rahmathullah Sahib
28. S. Govindarajalu Sir
29. R. Sethu Rao Sir
30. A.P. Mohammed Zubair Sahib
31. D. Rama Rao Sir and many more

Local poets whose poetry are included:

1) Vellore
 Asghar Vellori
 Kamali Vellori
 Rahi Fidai

2) Ambur
 Alwi Amburi
 Danish Farazi Amburi
 K.M. Salahuddin Shaida Amburi
 Abdul Azeez Wasfi Amburi
 K. Ahmed Ali Romani Amburi
 Danish Azami
 Kavish Badri
 Fasgar Amburi
 Kaka Azeem Amburi
 B. Mohammed Yahya Bazmi Amburi

3) Tirupattur
 Faani Tirupatturi
 Aasi Tirupatturi
 Ghulam Khader Sahib Sharar Tirupatturi

4) Vaniyambadi
 Jalal Kadpavi
 Abdul Rahman Khan Tishna
 Dr. Abdullah Zauqi
 Gundu Abdul Raheem Masroor
 Cholavaram Abdul Rawoof Niyaz
 Tabassum Rasheed
 Sahil Rasheed
 Maulvi Katib Mohammed Yusuf
 Katib Mohammed Ismail Sadiq
 Abdul Malik Ziya
 V. Abdul Rahim
 Mazhar Iqbal Mazhar
 Ghulam Ahmed Mas’hoor
 Maulvi Hafiz Mohammed Tayyib Tayyib
 K. Mukhtar Ahmed Akhtar
 K. Atheeq Ahmed Jazib
 K. Iqbal Ahmed Kaleem Tahiri
 M.L. Nisar Ahmed Nisar
 Mohammed Yaqoob Aslam
 Akbar Zahid
 Siraj Zebayi
 Nisar Almas
 Ghayaz Iqbal
 Althaf Hussain Shadab Bedhadak
 Basha Khan Afzal
 Abdul Rasheed Madhosh
 Nisar Ahmed Nisar Imami
 Habeebur Rahman Habeeb
 Abdullah Basha Raaz
 Mohammed Haneef Katib
 Kamal Raahi
 Noor Aafaq
 Nisar Anjum
 Anwar Kamal
 Bismil Kausar
 Hakeem Makhdoom Ashraf
 V.M. Abdul Rahman Saba
 Asangani Mushtaq Ahmed Rafeeqi
 Azeez Tamannayi
 Basheer Qabil
 Professor Mohammed Zubair Zubair
 Professor Syed Abdul Qadir
 Zahid Azmi Umri
 Nazish Hyderabadi

5) Krishnagiri
 Moulvi Syed Usman Sahib Fehmi Umri
 Dr. Syed Yusuf Aakif
 Khursheed
 Saghir Abbasi Umri

6) Umarabad
 Moulvi P. Mohammed Ameen Umri
 Moulvi Abul Bayan Hammad
 Kazim Hussain Shakir Naiti
 Tamanna Yusufi Umri
 Abdul Samad Tamanna Yusufi Umri

7) Pernambut
 Ismail Rafeeyi Umri

---*---*---*---


The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. Assalamualaikum sir
    Went through the entire article.
    It shows your hardworki and perseverance. It further express that You have read all the issues of mash'al which is a herculean task. And your article is a encyclopedia of Mash'al.with this you can create a Wikipedia of not only masha'l but also Islamiah College. Congratulations sir. May Allah bless success in your goals and safeguard you from evil eyes.

    ReplyDelete
  2. Kudos Eahsan for your wonderful presentation

    ReplyDelete
  3. Very impressive

    ReplyDelete
  4. محمد حنیف کاتب24 September 2025 at 02:47

    ایک مستحسن تخلیقی کاوش، تم نے جس لگن اور عرق ریزی سے کام کیا وہ قابل ستائش ہے، مشعل کے تمام شماروں کا باریک بینی سے مطالعہ کرکے اہم شخصیتوں اور واقعات کے حوالے دینا، واقعی محنت طلب ہے۔ مبارکباد۔ اللہ تمھاری عمر میں اور صلاحیتوں میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

    ReplyDelete
    Replies
    1. ہمت افزائی کا شکریہ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      Delete
  5. A Nice Article. Very exhaustive and comprehensive study on 76 year old Mashal, the college Magazine of Islamiah college, Vaniyambadi. Informs us that Mashal is not just a college Magazine but it is a repository of History. Great effort by Brother Ehsan Ahmed Krishnagiri

    ReplyDelete
    Replies
    1. It was impossible without your support sir. Thank you so much.

      Delete
  6. https://www.youtube.com/live/aHGsLCcELK0?si=oaakjfOSvPR9ylz6&t=3391 Listen to Ehsan Sb's speech on Mashal

    ReplyDelete

Post a Comment