وانمباڑی کے مسلم خاندانوں کے
ناموں پر انگریزی میں ایک کتاب کا اجراء
احسان احمد کے (وانمباڑی، تملناڈو)
مرحوم مدرے محمد سہیل صاحب وانمباڑی میں واقع اسلامیہ کالج کے ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری
کے سابق پروفیسر اور ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ رہ چکے ہیں۔ اُنہوں نے 1996ء میں ہسٹری
میں ایم۔ فل۔ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ایک مقالہ لکھا تھا جس کا عنوان “Muslim
Family Names of Vaniyambadi” تھا۔ یہ مقالہ
غیر مطبوعہ شکل میں محفوظ تھا۔ انجمنِ خدام الاسلام نے اِس مقالہ کو کتابی شکل میں
شائع کرنے کا اہتمام کیا اور اِس کی رسمِ اجراء کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا
گیا جو 5 اپریل 2025ء کو اسلامیہ کالج وانمباڑی کے سیمینار ہال میں صبح کے 11 سے
دوپہر کے 1 بجے تک منعقد ہوا۔ اِس پروگرام کے بارے میں تفصیلات حسبِ ذیل ہیں:
پروگرام 11 بجے
تلاوتِ قرآنِ پاک سے شروع ہوا۔ کالج کے ہسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ایچ۔ او۔ ڈی۔ جناب
ابوالفضل صاحب نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اِس کتاب کے شائع ہونے کا کام کیسے پایہ
تکمیل کو پہنچا اِس پر اُنہوں نے روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی تاریخ
پر اِس طرح کے بہت سارے عنوانات پر کام کیا جاسکتا ہے۔
اِس کے بعد انجمنِ
خدام الاسلام کے صدر جناب ٹیما عبدالرؤف خالد صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ
کتاب وانمباڑی کے مسلم خاندانوں کے ناموں کی ابتداء اور ارتقاء پر ایک جامع مقالہ
ہے جس کے ذریعہ اس قصبے کی تاریخ اور ثقافت کو خوب سمجھا جاسکتا ہے۔
اسلامیہ کالج کے
پرنسپل جناب ڈاکٹر افسر باشاہ صاحب نے اِ س کتاب کے شائع ہونے پر مبارکباد پیش
کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اِس پُر فتن دور میں جہاں تاریخ کو بدلا جارہا ہے اِس وقت
ایسی ایک کوشش قابلِ تعریف ہے۔
وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل
سوسائٹی کے مجلسِ عاملہ کے رکن جناب ٹی۔ مکین صاحب نے کہا کہ مرحوم مصنف آپ کے
کلاس فیلو تھے اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے خاندان کے نام کے بارے میں بھی تفصیلات
پیش کیں اور اِس سے تعلق رکھنے والے اپنے چند تجربات کا بھی اظہار کیا۔
اِس پروگرام کے
مہمانِ خصوصی اور وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نائب صدر جناب پٹیل محمد
یوسف صاحب نے اِس کتاب کی پہلی کاپی اسلامیہ کالج کے سکریٹری اور کرسپانڈنٹ جناب
ایل۔ ایم۔ منیر صاحب کے حوالہ کی اور اپنے کلیدی خطبہ میں خاندانوں پر ریسرچ کے
تعلق سے اِسی کتاب کے کئی اقتباسات پیش کئے اور اِس کتاب کا مختصر خلاصہ بھی پیش
کیا۔ آپ نے مرحوم مدرے محمد سہیل صاحب کے ساتھ بِتائے ہوئے چند لمحات کا بھی تذکرہ
کیا۔ آپ نے اِس کتاب میں شامل مواد کو خوب سراہا اور اسلامیہ کالج کے ہسٹری
ڈیپارٹمنٹ سے درخواست کی کہ اِس جیسے عنوانات پر مزید کام کیا جائے۔
مرحوم مدرے محمد
سہیل صاحب کے فرزند جناب مدرے محمد نہال سہیر صاحب جو مہمان کے طور پر اِ س
پروگرام میں مدعو کئے گئے تھے اُنہوں نے اپنے والدِ مرحوم کے قابل ستائش ادبی
کاوشوں کو خوب سراہا۔
انجمنِ خدام الاسلام
کے مجلسِ عاملہ کے رکن جناب کے۔ احسان احمد صاحب نے اِس کتاب کا مختصر تعارف پیش
کیا اور اُنہیں کے ہدیئہ تشکر کے ساتھ یہ پروگرام دوپہر کے 1 بجے اختتام پذیر ہوا۔
اِس پروگرام میں
جناب اے۔ شکیل احمد صاحب، جناب نری محمد نعیم صاحب، جناب کچیکار سراج صاحب، جناب
پی۔ آر۔ سیف اللہ صاحب، جناب مدرے منیر صاحب، جناب چولورم عطاء الرحمٰن صاحب، جناب
پی۔ ایل۔ گلزار احمد صاحب کے علاوہ کئی عمائدینِ شہر، کالج کے لیکچررز، پروفیسرز
اور طلباء نے شرکت کی۔
انجمنِ خدام الاسلام
کی جانب سے شائع ہونے والی یہ دوسری کتاب ہے۔ سلطنتِ خداداد پر متعدد کتابیں لکھنے
والے فاضل مصنف محمود خان صاحب محمود نے 16 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ انجمنِ خدام
الاسلام کے ذمہ داروں کی درخواست پر 1944ء میں ترتیب دیا تھا۔
مرحوم مدرے محمد
سہیل صاحب کی لکھی ہوئی اِس کتاب میں 6 ابواب موجود ہیں۔ جن میں وانمباڑی کے مسلم
خاندانوں کے ناموں کی تاریخ، ارتقاء اور وجوہات پر بحث کی گئی ہے۔ اِن ابواب کے
علاوہ 6 ضمیمہ بھی موجود ہیں۔ پہلے ضمیمہ میں وانمباڑی کے 225 مسلم خاندانوں کے
ناموں کی فہرست کے علاوہ اُن کی مختصر تفصیلات بھی موجود ہیں۔ دوسرے ضمیمہ میں
وانمباڑی کے اطراف و اکناف میں واقع بستیوں کے 477 خاندانوں کے نام شامل کئے گئے
ہیں۔ اِسی طرح بقیہ ضمیموں میں وانمباڑی کے سڑکوں کی اُن ناموں کی فہرست پیش کی
گئی ہے جن میں خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ اِسی طرح وانمباڑی کے قبرستانوں میں
موجود کتبوں میں جن خاندانوں کے نام شامل ہیں اُن کی بھی فہرست شامل ہے۔ اِسی طرح
اِس کتاب میں کئی اور دلچسپ باتیں شامل کی گئی ہیں۔
نوٹ : یہ کتاب سو روپئے کی قیمت پر انجمنِ خدام الاسلام، نزد جامع مسجد نیلی کھیت وانمباڑی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔



.jpeg)

برادر محترم احسان احمد کی علمی کاوشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر ڈھیر ساری دعائیں اور مبارکباد، جن کے ذوق وشوق سے اس کتاب اور ان جیسی اور کتابوں کا اس قحط الرجال میں شائع ہونا ممکن ہوا
ReplyDeleteشکریہ اپنے اور اہل شہر کی جانب سے جزاکم اللہ خیرا کثیرا
شکریہ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
DeleteIt is a nice research work on the tradition of the Muslims of Vaniyambadi of bearing family names. This aspect tells a lot about the History of Muslims of Vaniyambadi.Lot of writings on Muslims of Vaniyambadi needs to be documented. I appreciate the efforts of Teema Abdur Ravoof Khalid sb and Krishnagiri Ehsan Sb in making this book possible. I appeal to other organisations of Vaniyambadi to take efforts to document the History of Muslims of Vaniyambadi.
ReplyDeleteThank you so much for all your support sir. This wouldn't have been possible without you. Jazakallahu Khairan Kaseera
Delete