مسجدِ قلعہ وانمباڑی میں ایک تاریخی مشاورتی اجلاس

مسجدِ قلعہ وانمباڑی میں ایک تاریخی مشاورتی اجلاس

احسان احمدکے، وانمباڑی (تملناڈو)

 

آج سے 121 سال پہلے 12 نومبر 1903ء کو ہندوستان کے جنوبی حصے میں واقع ایک قصبہ وانمباڑی نے ایک ناقابل تصور سانحہ دیکھا۔ وانمباڑی کی پالار ندی میں ایک ایسا تباہ کن سیلاب آیا جس نے ہمیشہ کے لئے اس کے باشندوں کی زندگیوں کو بدل دیا۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے اُمنڈ آئے سیلاب نے 1500 سے زیادہ گھر برباد کردئے اور 200 سے زیادہ لوگوں کی اموات ہوئیں۔ مکانات ہی نہیں بلکہ فصل، کھیت اور باغات بھی تباہ و برباد ہوگئے۔ اس قدرتی آفت کی ہولناکی کے درمیان وانمباڑی کے لوگوں نے غیر معمولی لچک اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس سیلاب کی بازآبادکاری میں ہمارے عمائدین پیش پیش رہے۔


سیلاب کے صرف ایک ہفتہ بعد، مسجدِ قلعہ کے احاطے میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کے ذریعے آفت  سے نمٹنے کے لئے قصبے کی منظم کوششوں کا آغاز ہوا۔ 19 نومبر 1903 کو منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں نہ صرف قصبے کے مسلم عمائدین نے شرکت کی بلکہ اس میں ہندو برادری کی نمایاں شخصیات بھی شامل تھیں۔


اس میٹنگ میں یہ طئے کیا گیا کہ اس حادثے کے بارے میں حکومتِ ہند (یعنی انگریزوں کو) اور خاص کر حکومتِ مدراس کو تار کے ذریعے اس سیلاب سے ہوئے نقصانات کے بارے میں مطلع کیا جائے اور ان سے گذارش کی جائے کہ حکومت کی طرف سے بازآبادکاری میں ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔


بحالی کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اس میٹنگ کے نتیجے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے امدادی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کا کام سونپا گیا۔ جس کے صدر مدیکار زین العابدین صاحب کو اور نائب صدر جناب حاجی عبدالصمد صاحب کو منتخب کیا گیا۔


دو قدآور شخصیات جن کا ذکر اوپر ملتا ہے وہ کوئی محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ مدیکار زین العابدین صاحب، وانمباڑی کے پہلے مدرسہ یعنی مدرسہ مفید عام نیلی کھیت  کے بانیوں میں سے ایک تھے اور حاجی عبدالصمد صاحب (المتوفی 1906ء)، مدرسئہ معدن العلوم اور مسجدِ قلعہ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔  آپ حاجی سعید حسین صاحب (المتوفی 1880ء) کے فرزند اور وانمباڑی کی میونسپالٹی کے پہلے چیرمین حاجی عبدالرحیم صاحب (المتوفی 1976ء) کے والد تھے ۔ یہ بلند پایہ شخصیات جنہوں نے شہر کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آج تک شہر میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کے نام سے آج بھی وانمباڑی میں گلیوں کے نام منسوب ہیں: مدیکار زین العابدین صاحب گلی (نیلی کھیت)، حاجی سعید حسین صاحب گلی (قلعہ)، حاجی عبدالصمد صاحب گلی (نیوٹاؤن)، حاجی عبدالرحیم صاحب گلی (قلعہ)۔


ذیل میں درج ٹیلی گرام حکومتِ ہند اور حکومتِ مدراس کو بھیجا گیا اور اس کی ایک کاپی ضلع کے کلکٹرکو بھی ارسال کی گئی اور اُن سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی اس معاملہ میں اپنا تعاون پیش کریں۔


“Heavy floods, on 12th, destroyed 1,500 houses, killed 200 Vaniyambadis; considerable loss property, fields, gardens, topes destroyed. Tanks Mysore, Bethamangalam, Ramasagaram, breached. Pray take steps to stop repairing said tanks. Petition follows.”


اس ٹیلیگرام میں یہ بتایا گیا ہے کہ 12 نومبر کو زبردست سیلاب آیا تھا جس کی وجہ سے وانمباڑی میں 1500 سے زیادہ گھر برباد ہوگئے اور 200 لوگوں کی اموات ہوئیں۔ اس سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی جائیدادوں کے علاوہ، فصل، کھیت اور باغات کا بھی خوب نقصان ہوا۔ میسور، بیتھ منگلم اور راماساگرم کے تالاب ٹوٹ جانے کی وجہ سے یہ سیلاب آیا تھا۔


اس میٹنگ کی ایک رپورٹ 3 دسمبر 1903 کو مدراس کے مشہور ہفتہ واری اخبار 'مدراس ویکلی میل' میں شائع ہوئی تھی۔ اخبار کا عکس بھی اس مضمون کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے۔ اس خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چونکہ تشکیل دی گئی کمیٹی کے افراد آفت سے بچ جانے والے لوگوں میں خوراک اور کپڑوں کی تقسیم میں مصروف تھے اس لئے حکومت کو تفصیلی رپورٹ بھیجنے میں تاخیر ہوگئی۔


وانمباڑی کی تاریخ کے اس اہم باب پر غور کرتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہم ہمارے بزرگوں کی ہمت اور لگن کو یاد کریں جنہوں نے 1903 کے سیلاب کے بعد لوگوں کی رہنمائی کی اور انہیں امداد پہنچائیں۔ قیادت اور بے لوثی کی ان کی یہ مثال آج تک ہمیں متاثر کرتی ہے۔


میں پروفیسر جناب ڈی۔ ابوالفضل صاحب، ایچ او ڈی، ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری، اسلامیہ کالج کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مضمون اور دوسرے بہت سارے سابقہ مضامین لکھنے میں میری رہنمائی کی۔ جزاکم اللہ خیراً کثیرا


---*---*---*---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments

  1. Wonderful Masha Allah.. Thank you for the blog..

    ReplyDelete
  2. Yes, you're absolutely right. For centuries, communities have relied on collective wisdom and participatory decision-making to address challenges and solve problems. Long before formal legal systems and bureaucratic procedures, people gathered to discuss issues, share perspectives, and arrive at solutions that reflected the needs and values of the entire community.

    This traditional approach, often rooted in communal values and shared experiences, highlights the power of collective intelligence and the importance of considering diverse viewpoints. It reminds us that effective problem-solving often requires a comprehensive approach that goes beyond rigid rules and individual perspectives.

    In their approach, methodology is there, wisdom is there, a tendency to bring everything on record and everybody sees that credits should go there, where it required.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Thanks for adding your remarks. Jazakallah

      Delete
  3. Masha Allah. بلاگ کے لئے مبارک باد قبول فرمائیں۔ ہم اب براہِ راست آپ کے بلاگ پر آپ کے مضامین پڑھ سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ محترم۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      Delete

Post a Comment