1903ء کا وانمباڑی کی پالار ندی میں تباہ کن سیلاب
احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)
پالار کا شمار جنوبی ہندوستان کی بڑی ندیوں میں ہوتا ہے۔ یہ رسیاست کرناٹک کے چکبلّاپور ضلع میں واقع نندی پہاڑیوں سے نکلتی ہے اور کرناٹک میں 93 کلومیٹر ، آندھرا پرادیش میں 33 کلومیٹر اور تمل ناڈو میں 222 کلومیٹر بہہ کر چنئی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے میں واقع ایک گاؤں وائلور میں خلیج بنگال میں جا ملتی ہے۔یہ ایک لمبے فاصلے تک زیر زمین بہتی ہے اور بیتھمنگل شہر کے قریب ابھرتی ہے جہاں سے پانی اور رفتار جمع کرتے ہوئے ذیل میں درج شہروں سے گزر کر خلیج بنگال میں جا ملتا ہے بیتھمنگل، شانتی پورم، کُپّم ، رامانایکن پیٹ ، وانمباڑی ، آمبور، میلپٹی ، گڑیاتم ، پلی گنڈہ ، انپونڈی ، میل موناؤر ، ویلور، کاٹپاڈی ، میل وشام، آرکاٹ ، رانی پیٹ ، والاجاہ پیٹ ، کانچی پورم ، والاجاہ باد ، چنگل پیٹ ، کلپاکم ، لاتور وغیرہ۔
سو سال پہلے پالار ندی رواں دواں بہا کرتی تھی اور بہت چوڑی ہوا کرتی تھی لیکن
اب وانمباڑی ، آمبور ، رانی پیٹ اور وشارم کے شہروں میں نالے کی شکل اختیار کرچکی
ہے ۔ 1903ءاکتوبر کے اخیر اور نومبر کے اوئل
میں میسور کے کئی ضلعوں میں موسلادھار بارش ہوئی تھی خاص کر میسور کے ضلع کولار
میں 15 سے زیادہ دنوں تک موسلادھار بارش ہوئی تھی جس کی وجہ سے 100 سے زیادہ تالاب
بھر گئے تھے اور کئی ڈیم ٹوٹ گئے تھےکولار ،
بیتھمنگل ، بنگانتم ، بنگارپیٹ وغیرہ کے تالاب ٹوٹ گئے تھے جس کی وجہ سے پالار
میں زبردست سیلاب آگیا تھا ۔ وانمباڑی کا شہر آدھے سے زیادہ ڈوب گیا تھا اس شدید سیلاب کی وجہ سے 200 سے زیادہ لوگوں
کی اموات ہوئی تھیں سو سے زیادہ گھر تباہ ہوگئے
وانمباڑی کی جو بڑی برج تھی وہ پانی میں بہہ گئی وانمباڑی میں ایک کوہرام
مچ چکا تھا اور زندگی رک گئی تھی لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا
اس واقعہ کو اس وقت کے ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے انگلینڈ کی رانی کوئن
وکٹوریاکو خط کے ذریعہ معلوم کرایا تھا اس خط میں یہ بتایا گیا ہے کہ 12 نومبر 1903 کو پالار میں
ایک زبر دست سیلاب آیا تھا جس کی وجہ سےسیلم ضلع میں واقع وانمباڑی کےتین حصے ہوگئے اور آدھے سے زیادہ
شہر پانی میں ڈوب گیا اور 200 سے زیادہ لوگوں کی اموات واقع ہوئیں۔اس دردناک واقعہ کی خبر اس وقت کے کئی مشہور اخبارات میں شائع ہوئی تھی جس میں نہ صرف ہندوستان بلکہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ کے اخبار بھی شامل ہیں۔
وانمباڑی کی تاریخ پر لکھی گئی مستند کتاب " آئینۂ وانمباڑی" جو1970 ء میں شائع ہوئی اس میں خطیب محمد جمیل صاحب نے اس واقعہ پر تفصیل سے
لکھا ہے جس کا ایک حصہ ذیل میں درج ہے:
"شہرِ وانمباڑی کے اندر1874 ء سے پہلے ایک مضبوط پل
نواب حیدر علی مرحوم کے دور کے بعد حکومتِ وقت نے تعمیر کیا تھا ، جس کے ذریعہ شہر
کے درمیان دریائے پالار کی شاخوں اور خندقی علاقہ سے ایک محلہ کو دوسرے محلہ سے
جوڑ دیا گیا تھا۔ یہ پل طغیانی کی زَد میں آکر ٹوٹ گیا تھا، جس کے نشان دوسری
طغیانی 1903 ء کے بعد تعمیر شدہ پُل
کے قریب آج بھی موجود ہیں۔ دوسری طغیانی کی زد میں آنے والوں کی سکونت کے لئے
شہر کے صاحبِ حیثیت حضرات نے ریلوے لائن کے مشرقی حصہ میں اپنی زمینوں کو وقف بھی
کیا تھا اور بعض نے سستے داموں میں فروخت بھی کیا تھا۔ اس طغیانی کے موقعہ پر شہر
کا خندقی علاقہ اور اس سے ملحق محلے پانی کی زَد میں آچکے تھے اور دریائے پالار
سے ملحق محلے : چنّم پیٹ ، بڑی پیٹ ڈوب چکے تھے اور دوسری جانب پالار کی شاخ سے
ملا ہوا محلہ : مسلم پور (گوئندپور) ، مسجدِ قدیم سے متعلق سارا علاقہ طغیانی کی
زد میں تھا۔ دریائے پالار کے دونوں جانب ناریل کے بلند قامت درختوں کے سروں تک
پانی چڑھ چکا تھا۔ ان دونوں طغیانیوں کے بعد محلۂ قلعہ کی خندقی حیثیت بالکل ختم
ہوگئی اور دریائے پالار شہر کے اندر پہلے ہی سے تین شاخوں میں بٹا ہوا تھا۔ دوسری
طغیانی میں مالی نقصانات کے علاوہ تقریباً دو سوافراد کا جانی نقصان بھی ہوا۔
محلۂ نیوٹون (پدوٹون) ان ہی سیلاب زدہ افراد کی آباد کاری کے لئے وجود میں آیا"
اس واقعہ کے چشم دید گواہ وانمباڑی کے پہلے صاحب دیوان شاعر خطیب قادر بادشاہ صاحب بادشاہ نےطغیانی پالار پر فارسی میں ایک نظم لکھی جس میں اس سیلاب کی تباہ کاریوں کو خوب بیان کیاگیا ہے اس نظم کو ان کے مجموعۂ کلام "گلزارِ بادشاہ " اور "واقعاتِ عالم" میں شامل کیا گیا ہے۔اس نظم کی ترجمانی پیش خدمت ہے:
|
شدہ از شامت اعمال مایاں ظہور قہر یزدانی ز
پالار |
|
ہماری بد اعمالیوں ، گناہوں کی پاداش میں اللہ کا قہر اور عذاب پالار ندی کی صورت میں نازل ہوا |
|
ندیدہ "وانیمباڑی" ز
طفلی چنیں سیلاب لاثانی
زپالار |
|
میں نے بچپن سے کبھی وانمباڑی میں پالار ندی کے اس جیسے سیلاب کو نہیں دیکھا |
|
چہ می دانی جفا اے پیر گردوں بیا موزایں ستم
رانی زپالار |
|
اے چرخِ گردوں (اے آسمان) ظلم کسے کہتے ہیں اگر تو جاننا چاہتا ہے تو اس پالار ندی کے ستم سے سیکھ لے |
|
مکانہا منہدم برباد اموال عجب شد خانہ ویرانی
ز پالار
|
|
اس پالار ندی کی طغیانی سے یہاں کے سارے مکان منہدم ہوگئے (گِر گئے) اور مال و اسباب تباہ ہوگئے خانہ ویرانی کی ایسی عجیب تصویر نہ دیکھی |
|
جدا گشتند با حرماں زقالب بسے جانہائے انسانی ز
پالار |
|
پالار ندی کے اس قہر سے کئی انسانی جانیں تلف ہوئیں |
|
گلستانہا چو خارستاں بدیدم مزارع ہم ہمہ فانی
زپالار |
|
پالار ندی کے اس قہر سے کئی چمن اُجڑ گئے کبھی گلستاں ہوا کرتے تھے اب خارستان (کانٹوں کی بستی) بن گئے ہیں اور لہلہاتے کھیت سب تباہ و برباد ہوگئے ہیں |
|
فراہم تودہ تودہ بر مزارع ہمہ ریگ بیابانی ز
پالار |
|
اس پالار کی طغیانی سے یہاں کے لہلہاتے کھیت اور سر سبز باغات پر ریت کے تو دے آگرپڑے ہیں جس سے وہ ریگستان نظر آتے ہیں |
|
کسے درفاقہ، بے جامہ کسے را میسر گشت عریانی ز پالار |
|
اس طغیانی نے کئی گھر اجاڑدئے ، لوگ فاقوں کے مررہے ہیں اور کئی لوگوں کو پہننے کے لئے لباس اور کپڑے بھی میسر نہیں جس سے وہ بے لباس ہوچکے ہیں |
|
نصیب ہر بشر شدگونہ گونہ پریشانی و حیرانی ز
پالار |
|
اس پالار کے قہر سے ہر شخص کا نصیب بگڑ گیا پریشانی ، مصیبت اور محرومی اسکا مقدر بن گئی |
|
بروں از حد تحریر است ہیہات زیان مالی و جانی ز
پالار |
|
پالار کی اس ستم ظریفی ظلم اور طغیانی کا حال حد تحریر سے باہر ہے کہ جس میں جان و مال کا ضیاع ہوگیا |
|
چرا اے بادشہ خاموش ہستی بگو تاریخ "طغیانی ز پالار" |
|
اے بادشہ اب تک تو کیوں خاموش
ہے؟ پالار ندی کی اس طغیانی کی
تاریخ بتا |
اس نظم کے آخری مصرعے میں شامل الفاظ "طغیانی ز پالار" سے1321 ھ کی تاریخ نکلتی ہے یہ وہی سال ہے جس میں یہ قہر نازل ہوا تھا۔ نمبرات : (ط: 8)، (غ : 1000)، (ی : 10) ، (الف : 1) ، (ن : 50) ، (ی : 10) ، (ز : 7) ، (پ : 2) ، (الف : 1) ، (ل : 30) ، (الف : 1) ، (ر : 200) (الف : 1) ۔
8+1000+10+1+50+10+7+2+1+30+1+200+1 = 1321
"زپالار"
میں دراصل "از" ہے الف کا نمبر "1" اخیر میں لکھا ہے۔
بے حد شکر گزار ہوں مولانا محبوب الرحمٰن عمری مدنی جن کا تعلق بیجاپور سے ہے جنہوں
نے میری درخواست پر اس نظم کی ترجمانی پیش کی۔
یہ مضمون ماہنامہ"نشان منزل "کے اپریل 2022 ءکے شمارے میں شائع ہوا تھا۔
آج کی تاریخ کی مناسبت سے اس مضمون کو ایک بار پھر اپنے بلاگ کےذریعہ شیئر کررہا
ہوں۔



.jpeg)
.jpeg)

.jpeg)
.jpeg)




Nice Article
ReplyDeleteThank you so much sir!
DeleteA old history for New generation
ReplyDelete