علامہ
اقبال کے کلام سے منتخب اشعار
(الف۔۔۔سے۔۔۔ی۔۔۔تک)
مرتب: احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)
الف
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
ب
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا
پ
پاک راکھ اپنی زباں، تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
ت
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگئی داماں بھی ہے
ٹ
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
ث
ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانی
ج
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
چ
چمن زار محبت میں خموشی موت ہے بلبل
یہاں کی زندگی پابندئی رسم فغان تک ہے
ح
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
خ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
د
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
ڈ
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
ذ
ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا
ر
راز حیات پوچھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش نا تمام سے
ز
زائران کعبہ سے
اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ
زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں؟
س
ستاروں سے آگے
جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے
امتحاں اور بھی ہیں
ش
شعور و ہوش و خرد
کا معاملہ ہے عجیب
مقام شوق میں ہیں
سب دل و نظر کے رقیب
ص
صفحۂ دہر سے باطل
کو مٹایا کس نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
ض
ضمیر لالہ مئے لعل
سے ہوا لب ریز
اشارہ پاتے ہی
صوفی نے توڑدی پرہیز
ط
طلوع ہے صفت آفتاب
اس کا غروب
یگانہ اور مثال
زمانہ گوناگوں
ظ
ظاہر کی آنکھ سے
نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ
دل وا کرے کوئی
ع
عقابی روح جب
بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو
اپنی منزل آسمانوں میں
غ
غلامی میں نہ کام
آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں
پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
ف
فرد قائم ربط ملت
سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں
اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
ق
قوم مذہب سے ہے،
مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں،
محفلِ انجم بھی نہیں
ک
کچھ بات ہے کہ
ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن
دورِ زماں ہمارا
گ
گریز کشمکشِ زندگی
سے، مردوں کی
اگر شکست نہیں ہے
تو اور کیا ہے شکست!
ل
لا پھر اک بار وہی
بادہ و جام اے ساقی!
ہاتھ آجائے مجھے
میرا مقام اے ساقی!
م
مرا طریق امیری
نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی
میں نام پیدا کر
ن
نگہ بلند سخن
دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر
میر کارواں کے لئے
و
وہ دانائے سبل ختم
الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا
فروغِ وادی سینا
ہ
ہزاروں سال نرگس
اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا
ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ی
یقیں محکم، عمل
پیہم، محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں
ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
--٭٭-٭٭-٭٭--
The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com


.jpeg)

Comments
Post a Comment