اردو
کتاب میلہ کے انعقاد سے وانمباڑی میں فروغ اردو کی نئی تاریخ رقم ہوئی
احسان احمد کے، وانمباڑی( تملناڈو)
قومی کونسل برائے
فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام اور وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے اشتراک سے
تملناڈو کے شہر وانمباڑی کی ایک سو چار سالہ
قدیم اسلامیہ کالج میں تاریخی اور شاندار پچیسواں اردو کتاب میلہ منعقد ہوا۔ کونسل
کے زیر اہتمام اب تک چوبیس اردو کتاب میلے منعقد ہوچکے ہیں جو عموماً بڑے شہروں
میں منعقد کئے گئے جیسے دہلی، حیدرآباد، اورنگ آباد، مالیگاؤں، ممبئی، لکھنؤ،
بنگلور، سری نگر، کولکتا، پٹنہ وغیرہ۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس کتاب میلہ کے لئے
وانمباڑی جیسے چھوٹے سے شہر کا انتخاب کیا گیا جو تملناڈو کے ضلع ترپاتور میں واقع
ہے۔ لیکن پھر بھی یہ کتاب میلہ بہت کامیاب اور عظیم الشان رہا۔ یہ کتاب میلہ نو
دنوں کے لئے 3جنوری سے11جنوری 2023تک منعقد ہوا۔اس کتاب میلہ میں
دہلی، ممبئی، رامپور، کڈپہ، لکھنؤ، اکولہ، حیدرآباد، مالیگاؤں کے علاوہ عمرآباد
اور وانمباڑی کے ناشرین نے بھی اپنے اسٹالس لگائے۔ مشہور ناشرین میں البلاغ، ملی،
مرکزی مکتبہ، ھدیٰ، ہدایت، گائیڈنس، الحسنات، منشورات، گڈورڈ،حرا، فرید، دارالعلم،
مکتبہ السنہ، شوقی، قاضی، کوالٹی، رائل، مکتبہ الاسید، معبودی، فاروس وغیرہم نے
حصہ لیا۔کل ملا کر چھپن ناشرین کے نواسی اسٹالس لگائے گئے۔ صرف دینی کتابیں ہی
نہیں بلکہ ادبی، تاریخی، طبی، درسی، سیاسی، جنرل، ناول، افسانے، ترجمہ شدہ کتابیں
اور فلسفیانہ کتابوں کے علاوہ شخصیت کی نشوونما جیسے عناوین پر بھی کتابیں فروخت
کی گئیں۔ کتابوں کے علاوہ کیلیگرافی، پوسٹرس، اسٹیکرس، کیلنڈر، ڈائری اور اسٹیشنری
اشیاء کو بھی لوگوں نے خریدنا پسند کیا۔ بچوں کے لئے تعلیمی تاش، قرآن گیمس، سیرت
باکس جیسے منفرد اشیاء کو دیکھ کر لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اردو دنیا، بچوں کی دنیا،
خواتین دنیا، فکروتحقیق، بچوں کا ماہنامہ امنگ، بچوں کا ھلال، ماہنامہ پھول جیسے
ماہناموں کے ذمہ داروں نے بھی اپنے اسٹالس لگا کر اپنے میگزینوں کی خوب تشہیرکی۔
اس کتاب میلے کا افتتاح کاروانِ اردو کے جلوس سے ہوا جو وانمباڑی کی دفتر بلدیہ سے
لیکر اسلامیہ کالج کے میلہ گاہ تک پہنچا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے
ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد صاحب اور شہر میل وشارم کی قد آور شخصیت ملک محمد
ہاشم صاحب نے ربن کاٹ کر اس کتاب میلے کا افتتاح کیا۔
اس کتاب میلہ میں
کتابوں کی نمائش اور فروخت کے علاوہ علمی، ادبی و ثقافتی پروگراموں کا بھی اہتمام
کیا گیا۔اس میلے کے افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر شیخ عقیل احمد صاحب (ڈائرکٹر قومی
کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی)، ملک محمد ہاشم صاحب (چیرمین کے ہچ گروپ آف
کمپنیس میل وشارم)، ڈاکٹر جی وشوانادن صاحب (بانی و وائس چانسلر وی آئی ٹی یونی
ورسٹی ویلور)، پروفیسر مظفر علی شہ میری صاحب(سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالحق اردو
یونیورسٹی) اور جناب جی سیندل کمار صاحب (حلقۂ وانمباڑی کے ایم ایل اے) جیسی عظیم
شخصیات نے حصہ لیا۔ اس تقریب کی صدارت کونسل کے صدر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد صاحب نے
کی اور اس کی نظامت وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نائب صدر اور اس کتاب میلہ
کے کنوینر جناب پٹیل محمد یوسف صاحب نے کی۔ مہمانوں کی تقاریر نے لوگوں کے اندر
اردو کی اہمیت اور اس سے محبت کو تروتازہ کیا۔اس تقریب میں تملناڈو میں اردو کی
بقا و ترویج کے لئے اہم کردرار نبھانے والے کارکنان کے اعزاز میں تمغے بھی پیش کئے
گئے۔ اس کے بعد جناب ف۔ عبدالرحیم صاحب کی کتاب "جلوہ ہاے پابہ
رُکاب" اور جناب حوالدار عبدالرقیب صاحب کی کتاب "ہندوستان
میں اسلامی معاشیات اور مالیات موانع و مواقع" کا اجراء عمل میں آیا۔پہلے دن
کے دوسرے سیشن میں معروف ڈراما نگار اور ہدایت کار ڈاکٹر سعید عالم صاحب نے "مولانا
ابوالکلام آزاد" کی شخصیت پر خوبصورت او ردل انگیز ڈرامہ پیش کیا۔جسے سامعین
نے خوب پسند کیا۔
میلے کے دوسرے دن
کے پہلے سیشن کی صدارت وی ایم ای سوائٹی کے نائب سکریٹری جناب نری محمد نعیم صاحب
نے کی جس میں ریاستی سطح پر دسویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ کے درمیان مباحثے کا
مقابلہ بعنوان "سوشل میڈیا رحمت ہے یا زحمت" منعقد ہوا۔ اس سیشن میں
مہمان خصوصی کے طور پرمظہر العلوم کالج آمبور کے سکریٹری و کرسپانڈنٹ جناب مدیکار
نذر محمد صاحب کو مدعو کیا گیا۔دوسرے سیشن میں "تمل ناڈو میں اردو مدارس کے
تعلیمی معیار کو کیسے بہتر بنایا جائے؟" کے عنوان پر ایک پینل ڈسکشن منعقد
ہوا جس کی صدارت جناب کندالم اقبال احمد صاحب نے کی اور مہمانان خصوصی کے طور پر
عثمانیہ ہائر سکنڈری اسکول ترپاتور کے سابق میر مدرس ڈاکٹر پیش امام نذیر احمد
صاحب اور جناب کاکا محمد ظہیر صاحب کو مدعو کیا گیا۔ اس سیشن کے ناظم جناب پٹیل
محمد یوسف صاحب تھے اس کے علاوہ میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے سکریٹری جناب
کے انیس احمد صاحب، لطیفیہ عربک کالج ویلور کے عربی پروفیسر ڈاکٹر بشیرالحق قریشی
صاحب، جناب نری محمد نعیم صاحب اور چاکوا پرویز احمد صاحب نے مبصرین کی ذمہ داری
ادا کی۔تیسرے سیشن میں اسکولی طلباء کے درمیان حمد اور نعت کے مقابلے منعقد ہوئے
جس کی صدارت اسلامیہ گرلز ہائر سکنڈری اسکول کے سکریٹری جناب مولے رفیق احمد صاحب
نے کی۔
میلے کے تیسرے دن
تملناڈو کے مدارسِ عربیہ کے طلبہ کے مابین "اردو زبان و ادب کے فروغ میں عربی
مدارس کا کردار" کے عنوان سے مسابقے کا انعقاد ہوا۔ جس میں وانمباڑی،
عمرآباد، پرنامبٹ، میل وشارم وغیرہ کے مدارس کے طلبہ نے حصہ لیا دوسرے سیشن کی
صدارت وی ایم ای سوسائٹی کے صدر جناب مودا احمد باشاہ صاحب نے اور تیسرے سیشن کی
صدارت وی ایم ای سوسائٹی کے ٹرسٹی جناب وی اے ایس نوراللہ صاحب نے کی۔ دوسرے اور
تیسرے سیشن میں اسی موضوع پر سمپوزیم کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں وانمباڑی کے علاوہ
ویلور اور بنگلور سے آئے ہوئے علماء اکرام ڈاکٹر مقصود عمران رشادی صاحب، مولانا
عبدالرحمٰن معدنی صاحب، مولانا گلزار احمد باقوی صاحب، جناب پریاکپم احمد سلیم
صاحب، مولانا افتخار احمد صاحب، مولانا اعزاز علی قاسمی صاحب، مولوی قاری امتیاز
احمد صاحب اور ڈاکٹر بشیرالحق قریشی صاحب نے تقریریں کیں۔چوتھے سیشن میں جامعہ
دارالسلام عمرآباد کے طلباء کی دو ٹیموں کے درمیان بیت بازی کا مقابلہ ہوا۔ جس سے
شرکاء خوب لطف اندوز ہوئے۔اس سیشن کی صدارت وی یم ای سوسائٹی کے رکن مجلس عاملہ
جناب ٹی یم عبدالرؤف خالد صاحب نے کی اور مہمانان خصوصی اور اعزازی کے طور پر جناب
نری محمد نعیم صاحب اور ماہنامہ نشان منزل کے مدیر جناب پی یس عبدالباری صاحب شامل
رہے۔
میلے کے چوتھے دن "اردو
زبان – طریقۂ تدریس"کے موضوع پر اعظم کیمپس پونے کے جناب انجینئر محمد شکیل
صاحب نے اور "فنِ تعلیم و تربیت - جدید نظریات" کے موضوع پر مدراس کی
نیو کلاج کے پروفیسر سدید ازہر فلاحی صاحب نے اظہار خیال کیا۔اس سیشن کی صدارت وی
ایم ای سوسائٹی کے جنرل سکریٹری جناب غنی محمد ازہر صاحب نے کی۔ دوسرا سیشن جناب
ایل ایم منیر احمد صاحب کی صدارت کے ماتحت ہوا جس میں جناب ستار فیضی صاحب کڈپہ
اور ان کے رفقاء کی مزاحیہ نشست ہوئی جس سے شرکاء خوب محظوظ ہوئے۔
میلے کے پانچویں
دن کو خواتین کے لئے مختص کیا گیا۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور غیر
مقامی خواتین نے حصہ لیا۔ ویمنس ہیومینیٹی ہیلپ لائن کی سربراہ محترمہ وحیدہ صاحبہ
کی صدارت میں پہلے سیشن کا آغاز ہوا جس میں دسویں سے بارھویں جماعت تک کی اسکولی
طالبات کے درمیان "کیا آن لائن تعلیم -روایتی طریقۂ تعلیم سے بہتر ہے؟"کے
عنوان پر مباحثے کا مقابلہ منعقد ہوا جس میں وانمباڑی کے علاوہ آمبور، میل وشارم،
پرنامبٹ اور عمرآباد کی طالبات نے بھی حصہ لیا۔ تملناڈو ٹیکسٹ بک کارپوریشن کی
ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر شمیم صاحبہ نے بطور مہمان خصوصی اس سیشن میں حصہ لیا۔ دوسرے
سیشن میں کالج کی طالبات کے درمیان "کیا ٹکنالوجی میں حالیہ پیش رفت لوگوں کی
دلچسپیوں کو تبدیل کرتی ہے؟" کے عنوان پر مباحثے کامقابلہ منعقد ہوا جس میں
کالج کی طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اس سیشن کی صدارت محترمہ غنی ثانیہ
ارم صاحبہ نے کی جبکہ ڈاکٹر ایچ عائشہ سعاد عارف صاحبہ مہمان خصوصی اور محترمہ
مدیحہ عنبر صاحبہ مہمان اعزازی تھیں۔اسلامیہ ویمنس کالج وانمباڑی کی پروفیسر شاذیہ
ثقلین صاحبہ کی صدارت میں منعقد ہوئے تیسرے سیشن میں اسلامیہ ویمنس کالج وانمباڑی
کے ایک گروپ نے دلچسپ ڈرامہ پیش کیاجسے خواتین نے خوب پسند کیا۔
کتاب میلے کے چھٹے
دن کے پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر اعجاز غنی صاحب نے کی۔ مہمان خصوصی منڈی محمد اسلم
صاحب تھے۔ اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے لئے یو پی ایس سی اور دیگر
مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے کے لئے رہنمائی کرتے ہوئے جنوبی ہند کے مشہور و معروف
ادارہ بنجارہ اکیڈمی کے بانی و چیرمین ڈاکٹر علی خواجہ صاحب نے گراں قدر معلومات
فراہم کیں۔ اس پروگرام میں اسکول و کالج کے طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت
کی۔دوسرے سیشن میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر
اسلم پرویز صاحب نے "سائنس اور اردو ادب"کے عنوان پر تقریر کی۔ تیسرے
سیشن میں کل ہند مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ابرار کاشف، انتظار نعیم،
تابش مہدی، فرید ساحر حیدرآبادی، حسن علی خان حسن، اکبر زاہد، معین امر بمبو
حیدرآبادی، نثار احمد نثار، شاہد مدراسی، ظہیر کانپوری، میکش اعظمی جیسے مشہور و
معروف شعراء نے شرکت کی جس میں محبان اردو کثیر تعداد میں شریک رہے اور ان شعراء
کے کلام سے خوب محضوض ہوئے۔
میلے کے ساتویں دن
"اردو زبان و ادب کی آبیاری میں تعلیمی اداروں کا کردار" کے موضوع پر
سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سابق آئی اے ایس افسر جناب موسیٰ رضا صاحب کے
علاوہ آئی سی آئی ایف کے جنرل سکریٹری حوالدار عبدالرقیب صاحب اور جامعہ دارالسلام
عمرآباد کے استاذ مولانا سراج الدین صاحب نے بھی خطاب کیا۔ کونسل کی اسسٹنٹ
ڈائرکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی صاحبہ نے بھی اس پروگرام میں خاص طور پر شرکت کی
اور کونسل کی مختلف سرگرمیوں اور اسکیموں کا تعارف پیش کیا۔اس سیشن کی صدارت جناب
سی قیصر صاحب نے کی۔دوسرے سیشن میں "مصنف سے ملاقات" کے عنوان پر ایک
خصوصی پروگرام منعقد ہوا جس کی صدارت جناب کے ایم سراج صاحب نے کی اور اس پروگرام
میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق آئی پی ایس آفیسر اور مشہور ادیب و شاعر جناب
خلیل مامون صاحب نے تقریر کی۔ تیسرے سیشن میں کڈپہ کی ٹیم نے مزاحیہ ڈرامے "کوڑا"
اور "گڑ کی مکھیاں" پیش کئے جس سے حاضرین خوب محظوظ ہوئے۔
آٹھویں دن کے پہلے
سیشن میں اردو صحافت پر ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں اردو صحافت سے وابستہ
مشہور و معروف شخصیات نے اردو صحافت کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی۔روزنامہ سالار
بنگلور کے مدیر جناب اسجد نواز صاحب کے علاوہ سینئر صحافی جناب امتیاز خلیل صاحب اور
معروف صحافی جناب اعظم شاہد صاحب نے بھی اس مضمون پر اپنے خیالات کا اظہارکیا۔
دوسرے سیشن میں "برقیاتی ذرائع کتابوں کے متبادل ہوسکتے ہیں یا نہیں؟"
کے عنوان پر کالج کے طلبہ کے مابین مباحثے کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔ جس میں چھ
کالج کے بارہ طلبہ نے حصہ لیا اور اس میں سے چھ نے موضوع کے مثبت پہلو اور باقی چھ
نے منفی پہلو پر تقریریں کیں۔ اس مسابقے کی صدارت اسلامیہ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی
ٹیوٹ وانمباڑی کے سکریٹری جناب جاوید اقبال صاحب نے کی۔ تیسرے سیشن میں تمثیلی
مشاعرہ منعقد ہوا جس میں جامعہ دارالسلام عمرآباد کے طلباء نے برصغیر کے مشہور و
معروف قدیم و جدید شعراء کرام جیسے جون ایلیاء، منظر بھوپالی، غوث خواہ مخواہ، اے
ایم تراز، ابرار کاشف، راہی بستوی، تہذیب حافی، الطاف ضیاء، دل خیرآبادی، وسیم
جھنجھانوی، عزیز بلگامی، چچاپالموری اور نور آفاق کی منتخب غزلوں اور نظموں کو انہیں
کے انداز و ترنم میں پیش کرکے شرکاء کا دل جیت لیا۔
میلے کے نویں اور
آخری دن کی تقریب کی صدارت کونسل کے ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد صاحب نے کی۔ جس میں
انھوں نے وانمباڑی کے محبان اردو کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وانمباڑی سے فروغ
اردو کی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اور وانمباڑی جیسے چھوٹے شہر میں پینتالیس لاکھ
روپیوں کی کتابیں فروخت ہونا بڑے شہروں کے ڈھائی کروڑ کے برابر ہے۔اس تقریب کے
معزز مہمان کے طور پر ضلع ترپاتور کے کلکٹر جناب امر کشواہا صاحب کو مدعو کیا گیا
تھا جنہوں نے اردو زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ اسلامیہ کالج کے
پرنسپل ڈاکٹر ٹی محمد الیاس صاحب، مشہور صحافی جناب امتیاز خلیل صاحب، آئی پی ایس
آفیسر شکیل اختر صاحب اور ناشرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ھدیٰ پبلی کیشنز حیدرآباد
کے مالک جناب عبدالباسط شکیل صاحب وغیرہ نے بھی اس میلے کے تاثرات پیش کئے۔
مقامی میڈیا اہل
کاروں، اخبارات کے مدیروں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان نے اس کتاب
میلے کا بھر پور کوریج کیا۔ وانمباڑی کے
مشہور و معروف یوٹیوب چینل "نبا میڈا"والوں نے اس میلہ کی ساری
کارروائیوں کو اپنے چینل میں راست نشر کیا جس سے دنیا بھر میں اردو سے دلچسی رکھنے
والے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔اس میلے میں سائنسی نمائش کے مقابلے کا بھی انعقاد عمل
میں آیا۔ جس میں اسکول اور کالج کے طلباء کے علاوہ مدارس کے طلباء نے بھی حصہ
لیا۔سارے ہی مسابقوں اور کامپیٹیشن میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات کو بالترتیب
پانچ ہزار، چار ہزار اور تین ہزار روپے نقد اور سند توصیفی سے نوازا گیا۔ اس کے
علاوہ کچھ اور طلبہ اور طالبات کو بھی تشجیعی انعامات کے طور پر ایک ہزار روپئے
نقد اور سند توصیفی عطا کئے گئے۔
اس تاریخی کتاب
میلے کا اختتام شام غزل کے خوبصورت پروگرام سے ہوا۔نہ صرف وانمباڑی بلکہ اطراف و
اکناف کے کئی شہروں جیسے آمبور، عمرآباد، پرنامبٹ، گڑیاتم، ویلور، میل وشارم،
ترپاتور، ھسور، کشنگری، دھرمپوری، مدراس اور بنگلور وغیرہ سے اردو ادب کے شائقین
نے جو ق در جوق شرکت کرکے اور خوب کتابیں خرید کر اس میلہ کو کامیاب بنایا۔
یہ مضمون OMEIAT Journal کےجنوری 2023 ءکے شمارے میں شائع
ہوا تھا۔


.jpeg)

Comments
Post a Comment