نفرت کی تاریکیوں کے درمیان امید کی کرن

نفرت کی تاریکیوں کے درمیان امید کی کرن

سالیڈارٹی یوتھ آرگنائزیشن تمل ناڈو کا قیام – امیر جماعت و دیگر کا خطاب

احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

ریاست تملناڈو کے شہر کوئمبتور میں 12 جون 2022ء کو جماعت اسلامی ہند تمل ناڈو کی یوتھ ونگ "سالیڈارٹی یوتھ آرگنائزیشن" کا قیام عمل میں آیا۔ اس افتتاحی تقریب اور ریاستی کانفرنس میں سات ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی جس میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس کانفرنس میں نہ صرف کوئمبتور کے بلکہ تملناڈو کے مختلف شہروں اور گاؤں سے بھی نوجوانوں نے شرکت کی۔ وانمباڑی سے بھی ڈیڑھ سو لوگوں پر مشتمل ایک وفد اس کانفرنس میں شریک رہا۔

    

یہ پروگرام دوپہر کے تین بجے ایک ریلی سے شروع ہوا۔ یہ ریلی شہر کوئمبتور کے علاقہ کنوکاڈو سے شروع ہوئی اور لاری پیٹ میدان میں آکر ختم ہوئی جہاں پر کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ اس ریلی میں چار ہزار سے زیادہ نوجوان شریک رہے فسطائیت، ظلم و ناانصافی کے خلاف اور اچھائی کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔ شام کے ٹھیک پانچ بجے پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی کے طور پر امیرِ جماعت جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب اور قیم جماعت جناب ٹی عارف علی صاحب کو مدعو کیا گیا تھا۔ ان دو مہمان مقرروں کے علاوہ مولانا اسمٰعیل امدادی صاحب، مولوی حنیفہ منبعی صاحب (امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تمل ناڈو)، ڈاکٹر کے وی ایس حبیب محمد صاحب، جناب وی یس محمد امین صاحب اور مولوی نوح محضری صاحب جیسے مشہور مقررین کی تقریریں ہوئیں۔

   

پروگرام کا آغاز مولانا اسمٰعیل امدادی صاحب کی تذکیر سے ہوا۔ اس کے بعد کانفرنس کے کنوینر جناب عمر فاروق صاحب نے مہمانوں اور حاضرین کا استقبال کیا۔ اس کے بعد امیرِ جماعت کے ہاتھوں سالیڈارٹی یوتھ ارگنائزیشن کا پرچم پہلی بار لہرایا گیا اور سالیڈارٹی یوتھ آرگنائزیشن تملناڈو کے ریاستی صدر، سکریٹری اور مجلس شوریٰ کے اراکین کا تعارف کرا یا گیا۔ صدر : جناب عبدالحکیم صاحب (کوئمبتور)، سکریٹری : جناب کمال الدین صاحب (ترچی)، مجلس شوریٰ کے اراکین: جناب سید ابوطاہر صاحب (کوئمبتور)، مولوی محمد ناصر بخاری صاحب (ایّمپیٹ)، جناب سید حسین صاحب (ورودھونگر)، جناب سہیل صاحب (کرشنگری)، جناب سید محمد حسین صاحب (مدورائی)، جناب نور محمد صاحب (چنئی)، جناب احمد انظر صاحب (وانمباڑی)، جناب اجمیر صاحب (تروپور)، جناب سید محمد ریاض صاحب (ناگور)، جناب پیر محمد صاحب (ترچی) اور جناب فیصل صاحب (کوئمبتور)۔ اس کے بعد سالیڈارٹی کے پرچم میں استعمال ہوئے رنگوں کے بارے میں جناب ابوطاہر صاحب نے معلومات پیش کیں۔

    

امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تملناڈو مولوی حنیفہ منبعی صاحب نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنی صلاحیت کو، اپنی توانائیوں کو، اپنی ذہانت کو اور اپنے اچھے خیالات کو آخرت کی زندگی کو مفید بنانے کے لئے اور اپنی جوانی کے لمحات کو صدقۂ جاریہ بنانے کے لئے سالیڈارٹی سے جڑیں جو اسی مقصد کے ساتھ بنائی گئی ہے۔

   

ڈاکٹر کے وی یس حبیب محمد صاحب نے "اُٹھو نوجوانو" کے عنوان پر تقریر کرتے ہوئے آج کے مسائل کو گنایا جیسے خواتین کے ساتھ ناانصافی، رشوت ستانی، سرمایہ داری نظام، ذات پات، فرقہ پرستی اور فسطائیت وغیرہ اور کہا کہ ان مظالم سے معاشرہ کو نجات دلانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے کیوں کہ اللہ نے ہمیں خیرِ اُمّت اور اُمّتِ وسط کہا ہے اور اس کام کو کرنے کے لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ چار چیزوں پر کام کریں، وہ یہ ہیں : اپنی شخصیت کا ارتقاء (Self Development)، اقدار پر مبنی زندگی گزارنا (Value Based Life)، برائیوں کے خلاف آواز اُٹھانا اور خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لینا۔

    

ٹی عارف علی صاحب نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اسلام کو مکمل طور پر سمجھیں اور اسے نہ صرف اپنی نجی زندگی پر بلکہ اپنے سماج پر نافذ کرنے کی کوشش کریں، سماجی مسائل پر اپنی آواز اٹھائیں، خدمت خلق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، بھائی چارگی کے ساتھ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے کام کریں، توحید کے پیغام کو عام کریں، اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والا سماج تیار کریں۔

   

امیر جماعت نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے ملک میں ظلم و ناانصافی کی آندھیاں چل رہی ہیں نفرت اور تفریق کی تاریکیاں اور اندھیرے بہت گہرے ہوچکے ہیں ہر طرف سے دردناک خبریں آرہی ہیں ایسے وقت میں سالیڈارٹی یوتھ آرگنائزیشن کا انعقاد روشنی اور امید کی ایک نئی کرن کے مانند ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو چار مشورے دئے جسے انہوں نے چار الف کا نام دیا۔ اعتماد، اتحاد، استقامت اور انصاف۔ ہمیں پُر اعتماد ہونے اور تبدیلی لانے والے بننے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے اندر اور دوسروں کے ساتھ متحد رہنے کی ضرورت ہے ہمیں اپنی اقدار اور سالمیت پر قائم رہنے کی ضرورت ہے اور ہمیں ہمیشہ انصاف اور حق کے لئے کھڑے رہنا ہے۔

    

ناموسِ رسات کے مسئلہ پر تذکرہ کرتے ہوئے امیرِ جماعت نے کہا کہ صرف گستاخوں کے خلاف وقتی احتجاج کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حق ادا نہیں ہوسکتا بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتہ کا جائزہ لیں، صحیح رشتہ استوار کریں، اس رشتہ کو مضبوط بنائیں۔ ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے سماجوں اور شہروں میں ایسی فضا اور حالات پیدا کریں کہ لوگ دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کریں، آپؐ سے محبت کریں۔ آپؐ کا عظیم کردار، انسانوں کے لئے آپؐ کا رحمت ہونا، آپؐ کا اسوہ یہ لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ آپؐ کی سیرت کو اور آپؐ کی دعوت کا تعارف کیا جائے۔

   

جناب وی ایس محمد امین صاحب نے کہا کہ کلمہ طیبہ کا پیغام اور اس پر عمل پیرا ہونا ہی سالیڈارٹی کی خاصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو قرآن و حدیث کی تعلیمات پر اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر چلانے، بھلائیوں کو فروغ دینے اور برائیوں کو روکنے، سچائی کو پروان چڑھانے، انصاف پر مبنی سماج کی تعمیر کرنے، نوجوانوں کی طاقت، قوت اور صلاحیتوں کو اسلام کی مدد و نصرت کے لئے استعمال میں لانے کے لئے نوجوانوں کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ سالیڈارٹی سے جڑیں۔ مولوی نوح محضری صاحب نے کہا اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو بھرپور علم اور طاقت سے اسی لئے نوازا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے اس کا استعمال کریں اور دوسروں کے کام آئیں۔ انہوں نے جوانی میں عبادت پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو پیش کیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں سے ایک وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو۔

    

اصحابِ کہف کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان وہ ہے جو سماج کی فکر رکھتا ہو سماج کا ذمہ دار ہو او ر جو اللہ کے دین کی اشاعت کرنے والا ہو۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ، حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ، حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ، حضرت ابوذرالغفاری رضی اللہ عنہ، حضرت اسعد ابن زرارہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، حضرت قتیبہ بن مسلم، صلاح الدین ایوبی جیسے صحابیوں، تابعین، تبع تابعین اور سپہ سالاروں کی قربانیوں کو پیش کرکے انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔

    

امیرِ جماعت کی اردو تقریر کا جناب لطف اللہ صاحب نے اور قیم جماعت کی ملیالم تقریر کا جناب سلیم صاحب نے تمل میں ترجمہ پیش کیا۔ آخر میں سالیڈارٹی یوتھ آرگنائزیشن کے صدر جناب عبدالحکیم صاحب کے ہدیۂ تشکر کے ساتھ یہ کانفرنس بخوبی اختتام کو پہنچی۔

    

یہ مضمون پندرہ روزہ رسالہ "زبانِ خلق" کے 25 جون 2022ء کے شمارے میں اور ہفت روزہ "دعوت" میں  بھی شائع ہوا تھا۔


---*---*---*---

The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments