"زندگی کا سنہرا دن، مسجد میں داخلہ کی اجازت پر بے انتہا خوشی ہوئی"

 زندگی کا سنہرا دن، مسجد میں داخلہ کی اجازت پر بے انتہا خوشی ہوئی

برادران وطن کے پُرجوش تاثرات۔ وانمباڑی میں "ہماری مسجد کو تشریف لائیں" پروگرام۔ایس آئی او کی مساعی

احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)

1 مارچ 2020ء بروز اتوار کوتملناڈو کے شہر وانمباڑی میں پہلی بار مسجد قادرپیٹ میں ایس آئی او کی جانب سے غیر مسلموں کے لئے ”ہماری مسجد تشریف لائیں“ پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس پروگرام کے ذریعہ صبح کے 10بجے سے بعد نمازِ مغرب تک غیرمسلموں کو مسجد میں آنے اور اپنا وقت گزارنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام میں 400سے زیادہ غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں نے شرکت کی جن میں اسکول اور کالج کے طلباءواساتذہ کے علاوہ تاجر حضرات، ملازمت پیشہ ورحضرات اور سیاسی پارٹیوں کے ممبران وغیرہ بھی شامل تھے۔ اس پروگرام کا مقصد برادرانِ وطن تک اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنا، بین المذاہب تعلقات کو مضبوط کرنا اور انسانیت و اخوت کا پیغام پہنچانا تھا۔


پچیس سے زائد رضاکاروں (Volunteers) کو مختلف ذمہ داریاں دی گئیں مثلاً مہمانوں کا استقبال اور ان کا رجسٹریشن کرانا، مہمانوں کو مسجد کے مختلف حصوں میں لیجانا اور انہیں مسجد اور اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرانا اور آخر میں ہلکے پھلکے ناشتے سے ان کی مہمان نوازی کا بھی انتظام کیا گیا۔

   

جیسے ہی مہمان مسجد میں داخل ہوئے اُنہیں وضو کی جگہ لے جایا گیا اور وضو کا طریقہ اور اسلام میں پاکی کی اہمیت کے بارے میں سمجھایا گیا، کچھ غیر مسلموں نے اس طریقے سے متاثر ہوکر وضو کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد انہیں مسجد کے اس حصہ میں لے جایا گیا جہاں سے اذاں دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی انہیں اذاں کا مقصد اور اس کے کلمات کے معنیٰ بھی سمجھائے گئے اس کے بعد انہیں نماز کے ناموں اور ان کے اوقات کے بارے میں بتایا گیا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی سمجھائی گئی کہ ایک مسلمان کی صبح نمازِ فجر سے شروع اور اُس کی رات نمازِ عشاء پر ختم ہوتی ہے۔ پھر مہمانوں کو مسجد کے اندرونی حصہ میں لے جا کر صف بندی کی اہمیت، منبرو محراب کا تعارف، امام کا کردار، قرآن کا تعارف و فضیلت، خطبئہ جمعہ و خطبئہ نکاح کا طریقہ، نماز باجماعت کے فوائد، دعا کا طریقہ اور حتیٰ کے اسلام کے سارے ہی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے بعد مہمانوں کو مسجد سے متصل قبرستان لے جایا گیا جہاں پر نمازِجنازہ، تدفین کا طریقہ، آخرت و زندگی بعدِ موت جیسے عنوانات پر بات ہوئی۔ کئی مہمانوں کو نماز ادا کرتے مسلمانوں کو دیکھنے کا بھی موقعہ ملا۔  مہمانوں کو مسجد کے ذریعہ ہونے والے سماجی خدمات کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا گیامثلاً بیواؤں اور مسکینوں میں راشن کٹ کی تقسیم وغیرہ۔ مسجد میں جگہ جگہ پر چارٹس اور پلے کارڈس (Placards) کی بھی نمائش کی گئی تاکہ مہمانوں کو اسلام کے بارے میں سمجھنے میں آسانی ہو۔مہمانوں سے انکے تاثرات تحریری اور ویڈیو ریکارڈنگس کی شکل میں لئے گئے۔ جنہیں یو ٹیوب او ر دوسرے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کیا گیا۔ یہ ویڈیوس بہت وائرل اور پُر اثر ثابت ہورہے ہیں۔

   

امّو(Ammu) نامی ایک مہمان جو کہ پیشے سے وکیل ہیں انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انہیں مسجد میں داخلہ کی اجازت پر بہت خوشی محسوس ہوئی اور وہ اس دن کو اپنی زندگی کا ایک بہت ہی سنہرا دن مانیں گی۔ آخرت کے تصور کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہر ایک شخص صرف اپنی ابدی زندگی (زندگی بعدِ موت)پر محنت کرے تو نہ صرف اس ملک میں بلکہ ساری دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

   

کُلاسیکرن (Kulasekaran) نامی ایک تمل کے مصنف نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ انہیں بہت ہی تفصیل کے ساتھ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں اور اُنہیں اسلام میں جو چیز سب سے زیادہ پسند آئی وہ اجتماعی عبادت ہے جو اپنے اندر بہت اثر رکھتی ہے۔

    

ایک طالبِ علم راکیش (Rakesh) نے کہا کہ نماز پڑھنے کی ان کی دیرینہ خواہش انہوں نے اس پروگرام کے ذریعہ پوری کرلی اور نماز سے فارغ ہو کر اُنہیں بہت خوشی محسوس ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پروگرام کے پیغام کے طور پر جو بات وہ اپنے ساتھ لیجانا چاہتے تھے وہ یہ ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے اور ہر ایک کا مقدر صرف 6 گز کی قبر ہے اس لئے اس میں صرف محبتوں کو پروان چڑھایا جائے۔

   

وِنود (Vinodh) کو نماز کی صف بندی کے دوران امیر و غریب کاایک ہی قطار میں کندھوں سے کندھا لگائے کھڑے ہونا بہت پسند آیا۔ قبرستان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس مسلمانوں کی قبروں کا کچھ اور تصور تھا مثلاً ہر ایک شخص اور خاندان والوں کی مخصوص قبر یں ہونگی اور ہر ایک قبر کا اپنا ایک نقشہ ہوگا لیکن قبروں کی سادگی اور یکسانیت کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔

    

آکاش (Aakash) نے کہا کہ ہر روز جب بھی وہ مسجد کی طرف سے گزرتے تو دو یا تین مرتبہ یہ سوچا کرتے تھے کہ کیا انہیں بھی کبھی یہ موقعہ ملیگا کہ وہ مسجد کے اندر داخل ہوکر مسجد کو دیکھیں اور نماز اور اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ان کے چہرے سے یہ جھلک رہا تھا کہ ان کی یہ خواہش پوری ہونے پر وہ کتنے خوش تھے۔

   

جیا سوریا (Jayasuriya)کو مسجد میں مسلمانوں میں پایا جانے والا اتحاد بہت پسند آیا۔

   

روسری (Rosary) جو ایک ٹیچر ہیں کچھ طلباء کے ہمراہ اس پروگرام میں شریک تھیں انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ انہیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوئیں۔

    

کئی غیر مسلم بھائیوں نے مسجد کی خوبصورتی اور پاکیزگی کو پسند کیا۔ کئی ایک نے کہا کہ مسجد میں داخل ہوکر ان کا خواب پورا ہوگیا۔ہر ایک مہمان نے رضاکاروں (Volunteers) کی مہمان نوازی کو سراھا۔

    

اس پروگرام کے ذریعہ غیر مسلموں کے اندر اسلام کو سمجھنے اور جاننے کی جو خواہش دیکھنے کو ملی یہ بات ہمیں اس چیز کی طرف دعوت دیتی ہے کہ ہم ایسے مختلف پروگرامس ہر شہر اور ہر گاؤں میں کریں اور اسے اپنا ایک معمول بنالیں۔ اس طرح سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں وہ دور ہونگی اور اس کے علاوہ ہمارے اوپر جو دعوت کی ذمہ داری ہے اس کے لئے بھی ایسے پروگرامس ایک پہل ثابت ہونگے۔

   

مبارکباد کے مستحق ہیں ایس آئی او (اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا) وانمباڑی یونٹ اور مسجد قادرپیٹ کے ذمہ داران جنہوں نے اس کارِ خیر میں اپنا سارا وقت لگایا اور اپنی ان تھک مہنتوں سے اس پروگرام کو کامیاب بنایا۔

   

یہ رپورٹ ہفت روزہ "دعوت" کے 29 مارچ 2020ء کے شمارے میں اور پندرہ روزہ "زبانِ خلق" کے 11 مارچ 2020ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ 


---*---*---*
The author can be contacted at ehsanahmed000@gmail.com

Comments