طنزیہ و مزاحیہ قطعات نگار مختار احمد اختر کا انتقال
احسان احمد کے، وانمباڑی (تملناڈو)
طنزو مزاح کے مشہور شاعر اور ادیب مختار احمد اخترؔ 16، نومبر 2018 کو اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ وہ 20 مارچ 1939ء کو شہرِ وانمباڑی (تملناڈو) کے ایک معزز اور ذِی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج وانمباڑی سے بی کام کیا۔ مدراس سکریٹریئٹ میں اپر ڈیویژن کلرک کی حیثیت سے مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے انڈر سکریٹری کے منصب کو پہنچ کر ملازمت سے اختیاری سُبکدوشی حاصل کرلی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر و شاعری کا شوق رکھتے تھے۔ بزمِ نو وانمباڑی کے ماہانہ مشاعروں میں شرکت کرتے۔ مدراس میں ملازمت کے دوران اردو لٹریری اسوسی ایشن اور پنجاب اسوسی ایشن کے مشاعروں میں شرکت کی۔ آپ کے مجموعاتِ کلام سُوپر ہِٹ قطعات (Superhit Qit’aat) اور سُوپر فائن قطعات (Superfine Qit’aat) اردو شعرو ادب میں انوکھی کاوشیں ہیں۔ آپ نے قطعات اور غزلوں کے علاوہ نظمیں، لِمریکس (Limericks)اور سانیٹس(Sonnets) بھی لکھے۔
یہ خبر ماہانہ میگزین "پیش رفت" کے فروری 2019 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔

Comments
Post a Comment